نواز شریف کو بطور وزیراعظم چوتھے دور کا انتظار

[post-views]
[post-views]

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سپریمو نواز شریف کو بطور وزیر اعظم چوتھے دور کا انتظار ہے۔ العزیزیہ کیس میں اپنی سزا کو کالعدم قرار دے کر عدالتوں سے ایک اور مہلت حاصل کر کے نواز شریف اپنے آخری رکاوٹ کے انتہائی قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ایون فیلڈ ریفرنس میں ان کی فوری بریت کے بعد، العزیزیہ سزا کی منسوخی نے نواز شریف کے لیے انتخابات میں حصہ لینے اور دوبارہ عوامی عہدہ رکھنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ لیکن ایک آخری رکاوٹ اب بھی ان کے اور کرسی کےدرمیان کھڑی ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اسی ہفتے ایک سوال اٹھایا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ ’صادق اور امین‘  کی شق کی تشریح کیسے کر سکتی ہے ؟  الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم،  جس میں ایک سیاست دان کے لیے نااہلی کو پانچ سال تک محدود کیا ہے ، سپریم کورٹ اس کو کس تناظر میں دیکھے گی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھتی ہے یا پھرپارلیمنٹ میں کی گئی ترمیم کو مدنظر رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کو پاناما پیپرز کیس میں آرٹیکل 62(1)(ایف) کے تحت ’نااہل‘ پائے جانے کے بعد عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اس شق کو واضح کرنے کے لیے، پی ڈیم ایم حکومت نے اس سال کے شروع میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی تاکہ نااہلی کی مدت کو زیادہ مناسب مدت تک محدود کیا جا سکے۔

اب موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز نے تاحیات نااہلی کے معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، انہوں نے یہ بھی متنبہ کیا ہے کہ عدالت کے اس معاملے پر نظرثانی کو انتخابات میں مزید تاخیر کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ معاملہ 8 فروری کے بعد بھی سنا جا سکتا ہے۔ ایسے حالات میں، نوازشریف عوامی عہدہ رکھنے سے پہلے اور شاید منتخب ہونے کے بعد بھی اپنی اہلیت کے خلاف چیلنجوں کا شکار رہ سکتے ہیں – یہ کسی کے لیے مثالی منظر نامہ نہیں ہو سکتا ہے خاص طور پر ایسے شخص کے لیے جس نے بطور چیف ایگزیکٹو اپنے دور کو باربار کھوتے دیکھے ہو۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) اس ساری صورتحال میں کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ بلاشبہ، بڑے شریف کی منصوبہ بندی کے مطابق معاملات نہ ہونے کی صورت میں ایک پر امید انتظار ہے۔ فی الحال، ن لیگ نواز شریف کی عدالتوں  کے فیصلوں سے بری ہونے کی خوشی میں جشن منا رہی ہے۔ دوسری جگہوں پر، ایک اور سابق وزیر اعظم کو ایسے الزامات کے سلسلے میں قیدو بند میں  ڈالا گیا ہے جو کہ اتنے ہی متنازعہ لگتے ہیں جو کہ نوازشریف کو ہٹانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ کیا پاکستان کا عدالتی نظام بھی اسے برسوں بعد ’انصاف‘ دے گا؟ اگر ماضی کو دیکھا جائے ، تو کوئی اتنی ہی توقع کرے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos