امریکا میں پاکستان کی سفارتی جائیداد سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو فروخت

[post-views]

[post-views]

امریکی دارالحکومت میں پاکستانی سفارت خانے کی جائیداد کے لیے سب سے زیادہ بولی لگانے والے برخان ورلڈ کے شہل خان ہیں اور وہ اس بولی کے ممکنہ فاتح ہیں۔

ذارئع کے مطابق شہل خان نے جائیداد کے لیے 68لاکھ ڈالرز کی پیشکش کی تھی، برخان ورلڈ واشنگٹن میں ہے اور ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہے جن کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ وہ اس کے ہمارے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/pakistan-aman-k-farugh-k-liye-america-k-sath-mill/

اس جگہ پر ایک عبادت گاہ بنانے کے خواہشمند صہیونی گروپ نے دوسری سب سے بڑی بولی لگائی، تیسری بولی لگانے والی ایک امریکی سرمایہ کاری کمپنی تھی جو بظاہر بھارت نژاد امریکی شہریوں کو بھی ملازمت دیتی ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بولی پر عمل درآمد کا عمل شروع ہو گیا ہے جس کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے کہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو جائیداد ملے گی۔ برخان ورلڈ کے نمائندے ڈیوین اوریگو گویرا نے بھی تصدیق کی کہ اس پراپرٹی کے لیے سب سے زیادہ بولی شہل خان نے جمع کرائی تھی۔

ڈیوین اوریگو گویرا نے لکھا کہ شہل خان اس عمارت کو امن کا مرکز بنانا چاہیں گے اور اسے امریکن یونیورسٹی کے خان انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک سکیورٹی اینڈ پیس سے بھی منسلک کر دیا جائے گا۔

تیس نومبر کو وزارت خارجہ نے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ اپریل 2003 میں اپنی موجودہ جگہ پر منتقل ہو گیا تھا۔ تب سے 2201 آر اسٹریٹ اور 2315 میساچوئس ایونیو میں دو پرانی سفارتی عمارتیں خالی پڑی ہیں۔

مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/america-sy-do-tarfa-taluqat-ko-barhany-chahty-hain/

دوہزار دس میں اس وقت کے وزیر اعظم نے واشنگٹن میں نیشنل بینک آف پاکستان سے حاصل کردہ 70 لاکھ ڈالرز کے قرض کے ذریعے دونوں عمارتوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کی منظوری دی تھی۔

آر اسٹریٹ پر واقع جائیداد کی تقریباً 60 فیصد مرمت/تزئین و آرائش کا کام 2012 کے آخر تک مکمل ہو چکا تھا اور پھر اسے روک دیا گیا تھا تاہم سفارت خانے کی سابقہ ​​عمارت کی مکمل تزئین و آرائش کی گئی تھی۔

دوہزاراُنیس میں سفارت خانے نے 8لاکھ 19ہزار 833ڈالر ادا کیے تھے اور تب سے 13لاکھ ڈالرز ٹیکس کی مد میں جمع ہو چکے ہیں۔

ٹیکس کی یہ ذمہ داری ہر سہ ماہی میں ایک لاکھ ڈالر کی مناسبت سے بڑھتی رہے گی تاہم مقامی حکام نے عندیا دیا ہے کہ اگر جائیداد کو جلد فروخت کیا جاتا ہے، تو بقایا ٹیکس کی ادائیگی معاف ہو سکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos