بلوچستان کی بدحالی

[post-views]
[post-views]

اگرچہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ایک ملک گیر رجحان ہے، بلوچستان میں صورتحال خاصی سنگین ہے۔ ملک کے اس نظر انداز کونے میں نامساعد حالات میں لاشیں برآمد ہوتی ہیں، اجتماعی قبریں ملی ہیں، جبکہ تشدد سے مختلف قسم کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

صوبے میں نجی جیلوں کے وجود پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حال ہی میں بتایا گیا تھا کہ بارکھان میں ایک کنویں سے تین لاشیں برآمد ہوئی ہیں جو خان ​​محمد مری کی بیوی اور دو بچوں کی ہیں۔ تاہم، خان محمد مری کی اہلیہ اور ان کے کچھ بچے بعد میں زندہ برآمد ہوئے۔  خان محمد مری سردار عبد الرحمن کے محافظ تھے۔خان محمد نے صوبائی وزیر پر الزام لگایا کہ اُن کے بچوں کو غیرقانونی طور پر صوبائی وزیر نےقبضے میں رکھا ہوا ہے۔

اگرچہ وزیر حراست میں ہیں اور صوبائی انتظامیہ معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، لیکن کنویں سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک کی شناخت کے بارے میں سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاشوں میں سے ایک نوعمر لڑکی کی ہے جسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، تشدد کیا گیا اور گولی مار دی گئی۔ اس کا چہرہ ناقابل شناخت تھا۔

اسی کنویں سے برآمد ہونے والی دو مردانہ لاشیں خان محمد مری کے بیٹوں کی نکلیں۔ صوبائی انتظامیہ کو اس ہولناک جرم کے ذمہ داروں کا سراغ لگانا چاہیے اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں ریاست کی رٹ موجود نہیں ہے اور جاگیرداروں اور بااثروں کا اپنا ہی قانون ہے۔ یہ ایک اہم وجہ ہے کہ صوبے سے اس قسم کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔

اگرچہ اسٹیب اربوں روپے کے منصوبوں جیسے سی پیک اور دیگر اسکیموں کو بلوچستان کی ترقی کے لیے  اہم قرار  دے رہی ہے، لیکن عام لوگوں کو اس سے بھی زیادہ سنگین حقائق  کا سامنا ہے۔ ماضی میں انہیں شدید فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ علیحدگی پسند بھی بے گناہوں کے قتل عام میں ملوث رہے ہیں۔

سکیورٹی اداروں  نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے بہت کام کیا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے لوگوں کی زندگی میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔

واضح طور پر، ترقی کے ثمرات ابھی تک لوگوں تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے کافی ظلم اور جبر برداشت کیا۔ریاست کو ان کے ساتھ اپنی سرزمین کے مالک، ان کی تقدیر کے مالک اور آئین کے ذریعے تحفظ یافتہ پاکستان کے مساوی شہری جیسا سلوک کرنا چاہیے۔ تشدد جاری رہا تو قومی یکجہتی پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos