Premium Content

Add

بلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل

Print Friendly, PDF & Email

ہفتہ کے دن کا اختتام پاکستان تحریک انصاف کے لیے انتہائی سنگین تھا۔ سپریم کورٹ نےہفتہ کو دیر گئے الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی سے بلے لینے کے متنازعہ فیصلے کو برقرار رکھا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی تاریخ میں پہلے سے کوئی مثال نہیں ہے۔

آرٹیکل 62(1)(ایف) کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے سابقہ ​​فیصلے کو اس بنیاد پر کالعدم کرنے کے چند ہی دن بعد کہ جس بینچ نے اس معاملے کا پہلے فیصلہ کیا تھا، اس نے ایک ایسی سزا سنانے کے لیے ’آئین میں پڑھا تھا‘ جو کبھی موجود ہی نہیں تھی، موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے بظاہر ای سی پی کی اسی طرح کی خلاف ورزی کی توثیق کی۔

الیکشن رول بک میں ایسی کوئی واضح شق نہ ہونے کے باوجود جو ای سی پی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کو اس کے انتخابی نشان کو انٹراپارٹی الیکشن کی بنیاد پر مسترد کر دے، ای سی پی نے آگے بڑھ کر ایسا ہی کیا تھا۔ اب، الیکشن کمیشن کےفیصلے پر سپریم کورٹ نے  منظوری کی مہر لگا دی ہے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

پی ٹی آئی پر عائد سزا کے مضمرات کے پیش نظر، وہ بھی عام انتخابات ہونے سے چند ہفتے قبل، سپریم کورٹ میں کارروائی کے بعد زیادہ تر قانونی مبصرین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے لیے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی توثیق کرنا، عوام کو اپنی پسند کی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کو ووٹ دینے کے ان کے آئینی حق سے انکار کرنے کے مترادف ہوگا۔

عدالت عظمیٰ نے اس استدلال کے بارے میں کیا کہا، اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے عدالت کا تفصیلی حکم نامہ دستیاب ہونے کے بعد واضح ہو جائے گا۔ دریں اثنا،ملک کی سب سے مقبول پارٹیوں میں سے ایک کو سپریم کورٹ نے تکنیکی بنیاد پر انتخابات سے باہر کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے اس اقدام سے سمجھوتہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کے عام اثرات اس بات پر ہوں گے کہ آئندہ انتخابات کو عوامی سطح پر کتنا ’آزاد اور منصفانہ‘ تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ کہنا ضروری ہے کہ اس کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے آئین کی باریک بینی پر دی گئی توجہ اور اہمیت کا مشاہدہ قابل ذکر تھا۔ اگر الیکشن کمیشن نے آئین پاکستان پر اتنا غور و فکر کیا ہوتا جو کہ جمہوری عمل کے حوالے سے واضح رہنما اصول ہیں ،جس کی متعدد مواقع پر الیکشن کمیشن نے خلاف ورزی کی ہے تو ملک کو آج ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

آخر میں، اس مقدمے میں کچھ الزام پی ٹی آئی کے وکلاء پر بھی ڈالنا چاہیے، جن میں سے زیادہ تر عدالت کے سامنے پارٹی کے مقدمے کو موثر اور اختصار کے ساتھ پیش کرنے سے قاصر رہے۔ اس وقت، تاہم، یہ نقطہ نظر بھول جانا چاہیے کیونکہ پارٹی کو سوچنے کے لیے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیاپی ٹی آئی  اس دھچکے سے بچ سکے گی؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1