Premium Content

بے لباسی آخر کہاں تک

Print Friendly, PDF & Email

nawazkhalid123@gmail.com مصنف نواز خالد عربی          

گوگل کے خبریہ صفحہ پر انٹرنیٹ سیٹ آن فائرکے الفاظ نظروں کے سامنے آئے تو عجیب سا لگا۔ خبر پر اُنگلی رکھی تو ایک مکمل صفحہ کُھل گیا ۔اس صفحہ پر ایک مسلمان ماڈل دوشیزہ کی تصویر چھپی تھی۔ تصویر میں پورے جسم پر دو ’’ٹاکیوں‘‘ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ساتھ میں دوشیزہ کا انٹرویو بھی چھپا تھا ، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ا س طرح ’’بہادری کے ساتھ ‘‘ کپڑوں کے جھنجھٹ سے جان چھڑالینے سے خواتین کے جسم کے مثبت پہلو اُجاگر ہوتے ہیں، جنہیں نمایاں کرنا اُن کا بنیادی انسانی حق ہے۔ اگلے دن اسی صفحہ پر ، الفاظ کے تھوڑے ہیر پھیرکے ساتھ، اُسی طرح کی شہ سُرخی دہرائی گئی۔ اب کی بارکی مسلمان ماڈل دوشیزہ نے شایدسابقہ دوشیزہ کی خُود نُمائشی کو چیلنج سمجھتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اُس کا جسم اُس سے کہیں زیادہ خوبصورت یا طاقتور آواز کا حامل ہے ۔ایسا ثابت کرنے کیلئے اُس نے اُن دو ٹاکیوں کو کچھ اور مختصر کر لیا تھا اورزیادہ تیکھے انداز میں اپنے جسم کے  مثبت پہلوئوں کو اُجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی ۔اُس کا انٹرویو بھی بے لباسی کے حق میں بھر پورتھیسز پر مبنی تھا۔ اب آئے روز اس صفحہ پرکوئی نہ کوئی مسلمان ماڈل ، اپنی بے پناہ دیانتداری اور بھر پور مشقت کے بل بوتے پر جسمانی مثبت رویوں کی نمائش میں دیگر مذاہب کی ماڈلزسے سبقت لے جاتی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم دو بارانٹرنیٹ سیٹ آن فائرملاحظہ کرلینے کے بعد ایسی ہر شہ سُرخی کا مفہوم سمجھنے میں اب دیر نہیں لگتی اور وقت ضائع ہونے سے بچارہتا ہے۔

آج جس شعبۂ زندگی کی طرف اُنگلی اُٹھائیں، مقابلے کا رجحان زوروں پر دکھائی دیتا ہے۔ویسے بھی آبادی کےانھے واہ  بڑھتے ہوئے رویہ کے سبب کسی بھی حصولِ طلب کیلئے  دن دگنی ، رات چوگنی محنت ناگزیر ہو چکی ہے۔ تاہم جدید دور میں میسر آسائشات نے ہمارے اندرایسی سہل پسندی پیدا کر دی  ہے کہ ہر شخص دوسرے سے آگے جانے کیلئے ،کامیابی کی جانب طویل ترین سفر مختصر ترین وقت میں طے کرنا چاہتا ہے۔ اُسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس مسافت میں اچھا کیا ہے،برا کیا ہے؟ کیونکہ اس کے نزدیک اچھے اور برے کا اپنا معیارہے، جسے عالم لوگ ہر ایک کا داخلی وصف قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا کامیابی کی منزل تک پہنچنے کیلئے کسی نے سَروں کی کتنی ٹہنیاں پھلانگیں، کتنوں کے پائوں کو اپنی ایڑیوں تلے مسلا، یہ بحث فضول ہے۔کیونکہ ہماری اکثریت معروف اطالوی فلسفی مکیاولی کی پیروکار ہے۔اس کا مشہور قول ہے، حصولِ منزل (بذاتِ خود) ذرائع کے اچھے یا برے ہونے کا جواز ہے ۔ ہمیں غالب کی اس خودداری سےقطعاً  کوئی غرض نہیں ہے  :

دردمنت کشِ دوا نہ ہوا

میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

نفسا نفسی کے اس دور مابعد جدیدیت میں جہاں دیگر انواع واقسام کے مقابلے رونما ہو رہے ہیں، ان میں وہاںانٹر نیٹ پر بے لباس ہو کر جسموں سے شعلے برسانے میں سبقت لے جانا بھی شامل ہے۔ جیسے ہر علاقہ کے باسیوں اور زبان کے بولنے والوںکی اپنی مخصوص اخلاقیات ہوتی ہے، اسی طرح ہر مذہب سے وابستہ افراد اپنی جُدا ثقافتی پہچان اور معروف اخلاقیات کے حامل ہوتے ہیں۔ مسلمان مرد و خواتین کے لئے کم سے کم لباس کی حدود کا تعین اسی جداگانہ پہچان کا امرِ مسلم ہے۔ لیکن ہوسِ دولت اور ’’تجلّیٔ نام‘‘ کی خاطر جہاں اور میدانوں میں  نقل بمطابق اصل کرنے کا رواج ہم مسلمانوں میں دخول کر چکا ہے، وہاں ٹاکیوں کی پیمائش اور اُنکے پہننے یا نہ پہننے کی ترجیحات بھی بیرونِ مذاہب اور ثقافت ِ غیرسے درآمد کر لی گئی ہیں۔ مجھے یقین ہے اور میں اس یقین کو توڑنا بھی نہیں چاہتا کہ میرے اور میرے جیسے لوگوں کے خیالات کو رجعت پسندی پر دلیل کیا جاتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی زیاراتِ بے لباسی میں خاطر خواہ نام کما چکا ہے۔ اب تیزی سے دوسروں کی زیاراتِ بے لباسی کیلئے موجود مواد میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے پر تول رہا ہے۔ وطنِ عزیز میں رجعت پسندی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ایک پورا نظام فرائضِ منصبی ادا کر رہا ہے ۔ آ پ عالمی سطح پر مختلف میدان ہائے زندگی میں کئے گئے مطالعاتی تجزے اُٹھاکر دیکھ لیں۔ ہماری معیشت ، سیاست ، تعلیم اور نظامِ انصاف سب بے لباس دکھائی دیتے ہیں۔ بس جسموں کی بے لباسی رہ گئی تھی۔ اگر خلوصِ نیت اور جذبۂ مسابقت سے لبریز یہ سفرِ شوق اسی طرح جاری رہا توکسی نہ کسی روز اس میدان میں بھی ہم اپنی پہچان حاصل کرنے میں سرخرو ہو جائیں گے۔ انٹرنیٹ پر اپنے حصے کی آگ لگانے کی روش کو توڑنے کا اگر کوئی سوچے گا بھی تو کتنی خدائی خدمتگار جماعتیں اُسکے خلاف متحدہ اپوزیشن قائم کر کے اُسے ایمان سے سرفراز کرنے پر تُلی ملیں گی۔ایک زمانہ تھا جب والدین،بچے ،بہن ،بھائی ، سبھی ایک ساتھ ٹیلی ویژن کی سکرین کے سامنے بیٹھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ سینما گھروں یا تھیٹروں میں سب اکٹھے چلے جاتے تھے۔ آج بچوں نے اپنے ہاتھ میں ٹی وی کا ریموٹ پکڑاہوتا ہے اور نظریں والدین کے بیڈ روم کی طرف ہوتی ہیں۔ جونہی والدین میں سے کوئی ٹی وی لائونج کی طرف آتا محسوس ہوتا ہے، اسٹیشن فوراََ بند یا تبدیل کر دیاجاتا ہے۔اور کبھی کبھی تو والدین شرمندہ سے ہو کر خود ٹی و ی لائونج سے نکل جاتے ہیں۔ایسا دور خود سے نہیں آیا۔ اسے پورے لباس سے دو ٹاکیوں تک لے آنے میں ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا نے اپنا بھرپور کردار ادا کیاہے۔اب تو تعلیمی اداروں میں بھی بے لباسی کے مقابلہ جات کرائے جا رہے ہیں۔ اگر والدین، مسجد کے امام ، اساتذہ اور میڈیا نے اپنا تعمیری کردار ادا کر نے میں مزید دیر کر دی تو بات دو”ٹاکیوں” سے آگے بڑھنے کے امکانات واضح دکھائی دیتے ہیں۔ 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos