Premium Content

Add

چین اور امریکہ کے درمیان تناؤ

Print Friendly, PDF & Email

گزشتہ فروری میں یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد سے امریکہ اور روس کی دشمنی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اس سے قبل مغرب اور روس کے درمیان خفیہ محاذ آرائی برسوں سے جاری تھی۔تشویشناک بات یہ ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تناؤ اسی راستے پر گامزن ہے، اور جب تک کوئی  دارالحکومت نرمی  نہیں ظاہر کرے گا، یہ تنازعہ کھلی دشمنی میں بھی بدلنے کا امکان  ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ اور نئے چینی وزیر خارجہ کے حالیہ ریمارکس یقینی طور پر چین امریکہ تعلقات میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ صدر شی نے تبصرہ کیا کہ امریکہ ”چین کو روکنے، گھیرنے اور دبانے کی کوشش  کر رہا ہے“، انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ملک کو ”لڑنے کی ہمت“ ہونی چاہیے۔

الگ الگ تبصروں میں، چینی وزیر خارجہ کن گینگ نے اپنے ملک اور امریکہ کے درمیان ”تصادم“ کی بات کی،  انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر واشنگٹن اپنے موجودہ راستے پر گامزن رہا تو ”تباہ کن نتائج“ برآمد ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے اہم پالیسی ساز بھی چین کے بارے میں کافی کھل کر سامنے آئے ہیں، فضائیہ کے ایک سینئر اہلکار نے جنوری میں اپنے جوانوں کو بتایا کہ امریکہ 2025 تک چین کے ساتھ جنگ ​​کر سکتا ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے تناؤ بڑھ رہا ہے: امریکہ نے فروری کے اوائل میں ایک چینی ’جاسوس‘ غبارے کو اپنی سرزمین پر مار گرایا اور صدر سمیت امریکی حکام اکثر تائیوان کے دفاع کا معاملہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چین اب امریکہ کا سب سے بڑا حریف ہے۔

چین – امریکہ کا تنازعہ گلوبل ساؤتھ کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک جنہوں نے بیجنگ اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہےاور آگے بھی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یوکرین اور روس تنازعہ کو  پاکستان  کسی حد تک نظر انداز کر سکتا ہے، لیکن اگر امریکہ اور چین کا تصادم ہوتا ہے تو پاکستان  بہت مشکل پوزیشن میں آ جائے گا، اور پاکستان کو خارجہ پالیسی کے کچھ سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ غیرجانبداری بہترین آپشن ہے، لیکن شاید یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ ہے کیونکہ بیجنگ اور واشنگٹن دونوں پاکستان سے اپنے حق میں فیصلے چاہیں گے۔ چین اور امریکہ کے درمیان دشمنی گہرے ہونے کے ساتھ، ہمارے پالیسی سازوں کو آگے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1