ریپبلک پالیسی | طرزِ حکمرانی، ادارے، عوامی پالیسی
چینی کمپنیوں کی جانب سے ویزوں اور سفری سہولتوں میں تاخیر کی شکایات کے بعد حکومت ہیلی کاپٹروں کی خریداری اور چلاس کی فضائی پٹی کو فعال بنانے پر غور کر رہی ہے؛ سکیورٹی کے ضوابط بدستور مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔
اسلام آباد — حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی نقل و حرکت اور ویزوں کے اجرا میں تاخیر سے متعلق چینی کمپنیوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ ان تجاویز میں ہیلی کاپٹروں کی ممکنہ خریداری اور چلاس کی فضائی پٹی کو فعال بنانا بھی شامل ہے۔
دی ایکسپریس ٹریبیون کے حوالے سے ذرائع کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد چینی منصوبوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی نقل و حرکت کو بہتر بنانا اور ویزوں کے اجرا اور توسیع میں رپورٹ ہونے والی تاخیر کا ازالہ کرنا ہے۔
چینی کمپنیوں نے مبینہ طور پر اپنے ملازمین کے داخلے اور ویزوں کی توسیع کی درخواستوں میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، حالاں کہ چینی شہریوں کے لیے ویزا درخواستوں کی کارروائی مکمل کرنے کی مقررہ مدت سات دن ہے۔ متعلقہ وزارت واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو ہیلی کاپٹروں کی خریداری تیز کرنے اور چلاس کی فضائی پٹی کو فعال بنانے کے لیے ہدایات دینے پر غور کر رہی ہے، تاکہ چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی آمدورفت آسان بنائی جا سکے۔
ویزا کارروائی کی مدت سات دن مقرر
حکومت کے مطابق، پاکستان آن لائن ویزا سسٹم کے ذریعے ویزوں کی منظوری کا عمل آسان بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے چینی شہریوں کے لیے سکیورٹی کلیئرنس میں تقریباً چار سے چھ ہفتے لگتے تھے۔ اب اس مدت کو سات دن تک محدود کر دیا گیا ہے، جو فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق تاخیر میں 83 فیصد تک کمی ہے۔
یہ مدت وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کے دائرۂ اختیار میں آنے والی ویزا کیٹیگریز پر لاگو ہوتی ہے۔ تاہم، نامکمل دستاویزات یا غلط ویزا کیٹیگری منتخب کرنے کی صورت میں درخواستوں کی کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ایک بار بار سامنے آنے والا مسئلہ یہ ہے کہ چینی کمپنیوں کے ملازمین متعلقہ ورک ویزا کے بجائے بزنس ویزا کے لیے درخواست دے دیتے ہیں۔ ایسی درخواستیں واپس یا مسترد ہو سکتی ہیں، جس کے بعد درخواست گزاروں کو نئے سرے سے درخواست جمع کرانا پڑتی ہے۔
سکیورٹی تقاضے بدستور برقرار
حکومت کی جانب سے سہولت کاری کی پالیسی موجودہ امیگریشن اور سکیورٹی تقاضوں کے ساتھ جاری ہے۔ ویزا کے انتظامات باہمی اصولوں اور متعلقہ دوطرفہ معاہدوں کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، چین کی جانب سے اس وقت دی جانے والی سہولت سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں تک محدود سمجھی جاتی ہے۔
حکام نے ایسے واقعات کا بھی حوالہ دیا ہے جن میں مبینہ طور پر بعض چینی شہری غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے اور بعد ازاں انہیں ملک بدر کیا گیا۔ اس لیے موجودہ نظام کا مقصد اہل سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور دیگر درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے، لیکن اس عمل میں امیگریشن قوانین اور سکیورٹی ضوابط پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
چینی شہریوں، منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کے لیے سکیورٹی طریقۂ کار متعلقہ اداروں، بشمول ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ اور چینی سفارت خانے، کی مشاورت سے مرتب اور نظرثانی کیے جاتے ہیں۔ ان ضوابط میں ملک کے اندر اور بیرونِ ملک سے آنے جانے کی نقل و حرکت کے معاملات بھی شامل ہیں۔
مرکزی نگرانی اور ادارہ جاتی رابطہ کاری
وزارتِ داخلہ نے پاکستان بھر میں چینی شہریوں سے متعلق معلومات کی نگرانی اور رابطہ کاری کے لیے ایک مرکزی ڈیش بورڈ قائم کیا ہے۔ صوبائی حکومتوں اور ضلعی سطح کے حکام کو اس نظام تک رسائی دی گئی ہے تاکہ وہ متعلقہ معلومات کی تصدیق اور تازہ کاری کر سکیں۔
وزارت کا مؤقف ہے کہ وہ موجودہ معیاری عملی طریقۂ کار (SOPs) میں یک طرفہ طور پر تبدیلی نہیں کر سکتی۔ کسی بھی مجوزہ ترمیم کے لیے صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں سے مشاورت اور ان کی منظوری ضروری ہے۔
زیرِ غور اقدامات میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ متعلقہ وزارتیں، ادارے اور چینی کمپنیاں ویزا درخواستیں درست کیٹیگری کے تحت جمع کرائیں۔ کمپنیوں کے ملازمین کے لیے بالخصوص ورک ویزا کی درخواست مکمل دستاویزات کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ، منصوبوں کی انتظامی ٹیموں سے توقع کی جائے گی کہ وہ نقل و حرکت کے منصوبوں کو سکیورٹی حکام کے ساتھ پیشگی طے کریں۔
پالیسی کا بنیادی چیلنج
یہ تجاویز سی پیک پر عمل درآمد کے دوران پاکستان کو درپیش ایک وسیع تر انتظامی چیلنج کی نشان دہی کرتی ہیں: غیر ملکی سرمایہ کاری اور منصوبوں کی تکمیل کے تقاضوں کو امیگریشن کنٹرول اور سکیورٹی انتظامات کے ساتھ متوازن رکھنا۔
انتظامی تاخیر کم کرنے کے لیے صرف ویزا کارروائی کی مدت مختصر کرنا کافی نہیں۔ اس کے لیے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، منصوبوں کے منتظمین اور سکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری بھی ضروری ہے۔ ہیلی کاپٹروں کے استعمال اور چلاس کی فضائی پٹی کو فعال بنانے کی تجاویز نقل و حرکت کی مخصوص مشکلات دور کر سکتی ہیں، لیکن ان کی عملی افادیت کا انحصار مؤثر نفاذ، ادارہ جاتی تعاون اور طریقۂ کار کی رکاوٹوں کو بروقت دور کرنے پر ہوگا۔
ماخذ: دی ایکسپریس ٹریبیون۔ یہ رپورٹ فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
سلائیڈ شو: سی پیک منصوبوں کے لیے چینی شہریوں کی سفری سہولتیں
سلائیڈ 1 — فضائی سہولتوں پر غور
حکومت چینی منصوبوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی نقل و حرکت کے لیے ہیلی کاپٹروں اور چلاس کی فضائی پٹی کو فعال بنانے پر غور کر رہی ہے۔
سلائیڈ 2 — چینی کمپنیوں کی شکایات
سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے ویزوں کے اجرا اور توسیع میں تاخیر پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔
سلائیڈ 3 — ویزا کارروائی سات دن میں
حکومت کے مطابق ویزا کارروائی کی مدت چار سے چھ ہفتوں سے کم کرکے سات دن مقرر کر دی گئی ہے۔
سلائیڈ 4 — غلط ویزا کیٹیگری کا مسئلہ
ورک ویزا کے بجائے بزنس ویزا کے تحت درخواست دینے سے کارروائی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔
سلائیڈ 5 — سکیورٹی ضوابط برقرار
حکومت کے مطابق سہولت کاری کے اقدامات امیگریشن قوانین اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے طے شدہ سکیورٹی ضوابط کے ساتھ جاری رہیں گے۔
سلائیڈ 6 — مرکزی رابطہ کاری کا نظام
وزارتِ داخلہ کا ڈیش بورڈ وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکام کو معلومات کی نگرانی اور تصدیق کے لیے مربوط کرتا ہے۔
سلائیڈ 7 — طرزِ حکمرانی کا چیلنج
کیا پاکستان سی پیک منصوبوں کے لیے سفری سہولتیں بہتر بناتے ہوئے سکیورٹی تقاضوں کو بھی مؤثر طور پر برقرار رکھ سکے گا؟
ریپبلک پالیسی | طرزِ حکمرانی، ادارے، عوامی پالیسی









