تحریر: صباء رفیق
ہفتہ کو سارے دن ہمارے میڈیا چینلز پر صرف ایک تازہ ترین خبر تھی۔
” ڈی آئی جی شارق جمال کی پر اسرار موت ”
آج پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد یہ خبر اس طرح سے سنسنی خیزہو گئی ہے۔’موت کے وقت شارق جمال کا آدھا منہ کھلا ہوا تھا’ اورکچھ وہ الفاظ جو یہاں دہرانا مناسب نہیں ہوگا۔
شارق جمال خان ایک عظیم شاعر، کالم نگار اور گریڈ 21 کے سرکاری ملازم تھے۔ ان کی کتاب ”فسانِہ کون و مکاں“ شاندار مجموعوں کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ ان کی تحریروں کا انداز پیر و مرشد غالب سے ملتا جلتا ہے”۔
Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.
ان کی قابل قدر غزل ملا حظہ فرمائیں
و اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو
ہوں کہیں ذ میں ایجاد نہ کر لوں خود کو
وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا
اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو
جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے
روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو
وہی تنہائی کا عالم وہی صیاد کا خوف
اپنا زنداں ہوں تو آزاد نہ کر لوں خود کو
حشر کے بعد بھی رہنا ہے زمیں پر مجھ کو
میں جہاں زاد زمیں زاد نہ کر لوں خود کو
یہ جو کھینچے لیے جاتا ہے بیاباں کی طرف
دل کو خدشہ ہے کہ آباد نہ کر لوں خود کو
مل ہی جاؤں گا گئے وقت میں اک دن شارقؔ
لوح امکان پہ ایزاد نہ کر لوں خود کو
ایک اور قابل قدر غزل یہ ہے
خواہشوں کے عذاب تو ہوں گے
دل جو زندہ ہے خواب تو ہوں گے
منزلیں ہیں اُنہی سرابوں میں
راستوں میں سراب تو ہوں گے
جب جہاں خود ہی اوٹ ہو اپنی
پھر ہر اِک سُو حجاب تو ہوں گے
خود میں ناپید ہیں ابھی لیکن
ہم کہیں باریاب تو ہوں گے
کوئی ایسی زمیں بھی ہے شارقؔ
اَن گنت آفتاب تو ہوں گے
یوٹیوب اور نیوز چینلز پر کوئی بھی ان کے ادبی کام کی تشہیر نہیں کر رہا ہے بہر کیف کسی کی موت کا یوں بھی تما شا نہیں بنانا چاہیے۔ موت صرف ایک کٹھن اور مشکل مرحلہ ہے؛ ازلی دنیا سے ابدی دنیا میں جانے کا ایک لمحہ جس سے ہر جان دار کو گزرنا پڑتا ہے۔ ہم اس کی سختی کا اس وقت تک نہیں بتا سکتے جب تک ہم اس کا ذائقہ نہ چکھ لیں۔ اس لیے ہمیں کسی بھی انسان کے موت کے لمحات کی رازداری رکھنی چاہیے اگر ہمیں اس کی حالت کا علم ہو جائے یہی مہذب معاشرے کی پہچان ہےذرا تصور کریں، کیا ہم اپنے بارے میں سن سکتے ہیں کہ “مرتے وقت ہم نے منہ کھولا ہوا تھا منہ بند کر کے مرتے بات تو نہ بنتی “۔
آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔
نرم دلوں کے ساتھ نرمی برتیں ۔شاعر حساس اور نرم دل انسان ہوا کرتے ہیں ۔خدا کرے شارق جمال خان ابدی سکون میں رہیں! آمین۔








