Premium Content

فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں کرپشن

Print Friendly, PDF & Email

لاہور(انور حسین سمراء) فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (فیڈمک)کے دو مالی سال 2019تا 2021کی آڈٹ رپورٹ میں 9ارب 7کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیوں، ٹھیکیداروں کو زائد ادائیگیوں، کرپشن،ناجائز پروکیورمنٹ، اختیارات کے ناجائز استعمال سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں ذمہ دار اہلکاورں کے خلاف محکمانہ کاروائی اور سرکاری خزانے کو ہونے والے مالی نقصان کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے۔ 

تحقیقات و دستاویزات کے مطابق کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دسمبر 2021میں فی ایکڑ پلاٹ کی قیمت ایک لاکھ ڈالر مقررکردی تھی لیکن آڈٹ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ فیڈمک کی انتظامیہ نے ملی بھگت اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایم تھری میں 38ایکڑز کے 7پلاٹس 73لاکھ سے ایک کروڑ 10لاکھ فی ایکڑ فروخت کردیے جبکہ بورڈ کے فیصلے کے مطابق فی ایکڑ قیمت ایک کروڑ 78لاکھ مقرر تھی۔ اس مد میں کمپنی کو اس کے اہلکاروں نے 30کروڑ 75لاکھ کا مالی نقصان پہنچایا تھا۔ فیڈمک انتظامیہ نے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں 250ایکڑز پر مشتمل 37پلاٹس بھی 95لاکھ سے ایک کروڑ 10لاکھ فی ایکڑز فروخت کردیے جبکہ ان کی قیمت بھی ایک کروڑ 78لاکھ فی ایکڑ مقرر تھی اور کمپنی کو ایک ارب 92کروڑ کا مالی نقصان پہنچایا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے اور کمپنی کو ہونے والے نقصان کی ریکوری خریداروں سے کی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف تادیبی کاروائی بھی کی جائے۔ کمپنی نے پری کوالیفی کیشن کے ایک ارب 44کروڑ کا ترقیاتی کام کا ٹھیکہ ایک ایسی فرم کو دیا جو کوالیفائی نہیں کرتی تھی۔ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ کمپنی کے ذمہ دار اہلکاورں نے تین ٹھیکیداروں مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر انجینئرنگ تخمینہ سے 28کروڑ کی پے منٹ زائد کردی جس کی ریکوری کرنا اشد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کنٹریکٹرز کو تین کروڑ 46لاکھ کی پے منٹ بھی مختلف مدوں میں زائد کی گئی۔ فیڈمک نے مختلف پارٹیوں کو اقساط پر پلاٹس فروخت کیے اور انہوں نے کمپنی کو 64کروڑ 83لاکھ کے347 پوسٹ پیڈ چیک جمع کروائے جو کیش نہ ہوسکے اور بنکوں نے ڈس اونر کردیے لیکن کمپنی کے ذمہ دار اہلکاورں نے ملی بھگت سے ان پارٹیز کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہ کی اور کمپنی کو مالی نقصان ہوا۔ فیڈمک نے پنجاب حکومت کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیر اپنے چیئرمین کے لئے لگژری گاڑی 84لاکھ 97ہزار میں خریدی جبکہ آپریشنل گاڑیاں نہ خریدی گئی۔ فیڈمک نے چیئرمین کے سٹاف افسر جو ایک ریٹائرڈ آرمی افسر تھا کو منسٹری آف ڈیفنس کے این او سی کے بغیر بلا اشتہار بھرتی کرکے کمپنی کو 40لاکھ کا مالی نقصان پہنچایا جس پر آڈٹ نے تحقیقات کی سفارش کی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے اور نقصان کی ریکوری کا کہا ہے۔ آڈٹ رپور ٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایم تھری میں سڑکوں اور انٹر چینج کی تعمیر میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 13کروڑ 74لاکھ کا ایڈیشنل ورک کنٹریکٹر کو دیا گیا ہے جو کہ مسابقتی عمل کے ذریعے دیا جانا تھا لیکن کمپنی کے اہلکاورں نے ذاتی مفادات کی وجہ سے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے من پسند کنٹریکٹر کو یہ کام دیا جس کی تحقیقات ہونا لازم ہے اور ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ کاروائی بھی کی جائے۔ فیڈمک نے علامہ اقبال انڈسٹریل اسٹیٹ، سپیشل اکنامک زون کے افتتاع کی تشہر کے لیے غیرقانونی طور پرمجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر 4کروڑ 77لاکھ کی میڈیا کمپین دی جس پر آڈٹ ٹیم نے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایم تھری کے تعمیراتی کام کے لئے ایک فرم کے ساتھ معاہدہ ہوا اور اس فرم نے معاہدے کے مطابق کمپنی کو ایک جیب فراہم کرنی تھی لیکن کمپنی نے اس فرم سے ایک عدد لگژری گاڑی جس کی مالیت 37لاکھ تھی غیر قانونی طور پر چیئرمین کے استعمال کے لئے لی اور اس کے عوض فرم نے کچھ فنڈز واپس نہ کیے۔کمپنی نے بلاضرورت اور غیر قانونی طور پر 12لاکھ میں ایک سکیورٹی ماہر رکھا اور گاڑیوں و ڈرائیوارز کی بھرتی کی جس سے 18لاکھ کا نقصان ہوا۔ فیڈمک نے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کا تعمیراتی ٹھیکہ ایک فرم کو دیا اور معاہدے کے تحت فرم نے کمپنی کو دو جیب دینا تھی لیکن کمپنی انتظامیہ نے فرم سے غیر قانونی طور پر چیئرمین کے استعمال کے لئے 96لاکھ کی لگژری گاڑی لے لی جو کہ معاہدے کی خلاف  ورزی تھی۔ آڈٹ میں اس بات کا انکشاف بھی ہوا کہ فیڈمک نے 20ایکڑز کے دو پلاٹس مختلف خریداروں کو ایم تھری میں فروخت کیے لیکن بعد میں بلااجازت مجاز اتھارٹی ان پلاٹس کو علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں تبدیل کرکے کمپنی کو 4کروڑ 40لاکھ کا نقصان پہنچایا۔ فیڈمک نے ایم تھری جو 3365ایکڑزپر محیط ہے کے تعمیراتی کام کے لئے پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشیر کی خدمات حاصل کی اور کمپنی کو اس مد میں 13 کروڑ 61لاکھ کا نقصان ہواجس پر آڈٹ کی ٹیم نے مزید تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کی ہے۔

فیڈمک کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ آڈٹ ٹیم نے تمام کاموں کی ادائیگیوں، پروکیورمنٹ اور ماہرین کے انتخاب پر 50اعتراضات اٹھائے ہیں جن میں 9ارب کے فنڈز کے استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی کے تمام ذیل سیکشن کو ان اعتراضات پر اپنا اپنا موقف دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos