Exclusive Content

Add

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر)کا مکمل طریقہ کار کیا ہوتا ہے                                     

Print Friendly, PDF & Email

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) ایک تحریری دستاویز ہے جو پولیس کی طرف سے تیار کی جاتی ہے جب انہیں کسی قابل شناخت جرم کی اطلاع موصول ہوتی ہے۔ یہ کسی واقعہ کی ابتدائی اطلاع ہے جو پہلے پولیس کو موصول ہوتی ہے اور اسی لیے اسے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کہا جاتا ہے۔ عموماً متاثرہ شخص یا اس کی جانب سے کوئی بھی پولیس میں یہ شکایت  درج کرواسکتاہے ۔ ایف آئی آر ہمیشہ کسی جرم کے ارتکاب پر ہی مبنی ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص قابل شناخت جرم کی اطلاع پولیس کو زبانی یا تحریری طور پر دے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ٹیلی فونک پیغام پر بھی ایف آئی آر کا اندراج ہوسکتاہے۔

متعلقہ پولیس آفیسر پر لازم ہے کہ وہ ایف آئی آر کا اندراج بغیر کسی تاخیر اور عذر کے کرے ورنہ اس کے خلاف تادیبی کاروائی ہوسکتی ہے۔

قابل شناخت جرم کیا ہے؟ یہ ایسا جرم ہے کہ جس کے ارتکاب پر  پولیس کسی شخص کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے۔ وہ آزادانہ طور پر کیس کی تفتیش شروع کرنے کے مجاز ہیں اور انہیں عدالت سے کسی حکم کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ناقابل شناخت جرم کیا ہے ؟ ایسا جرم جس میں کسی پولیس افسر کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کرنے کا اختیار نہ ہو۔ پولیس عدالت کی اجازت کے بغیر ایسے جرم کی تفتیش نہیں کر سکتی۔

ایف آئی آر کا اندراج کیوں ضروری ہے؟ فوجداری مقدمات میں ایف آئی آر کےاندراج کے  بغیر انصاف مہیا کرنا ناممکن ہے ۔ تھانے میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہی پولیس کیس کی تفتیش شروع کرتی ہے۔ قانون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 21، 22، 23، 25، 49 اور 50 کے مطابق ایف آئی آر ایک متعلقہ حقیقت ہے۔ ایف آئی آر کون درج کروا سکتا ہے؟ کوئی بھی شخص جو قابل شناخت جرم کے بارے میں جانتا ہو وہ ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے۔  یہ ضروی نہیں کہ متاثرہ شخص خود ہی ایف آئی آر درج کروائے۔ ایک پولیس افسر جسے قابلِ شناخت جرم کا علم ہو وہ بذات خود بھی ایف آئی آر درج کر سکتا ہے۔ کوئی بھی مظلوم شخص ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے اگر کسی کو کسی جرم کے ارتکاب کا علم ہو یا اسے ہوتا ہوا دیکھا ہو تو وہ بھی ایف آئی آر کا اندراج کرواسکتا ہے۔

عمومی طور پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کیس سنگین نہ ہویا ثبو ت ناکافی ہوں تو ایف آئی آرکے اندراج کے باوجود بھی پولیس تفتیش نہیں کرتی۔  تاہم، ضابطہ فوجداری، 1898 کی دفعہ 157کےتحت  تفتیشی افسر اس بات کا  مجاز ہے کہ وہ تفتیش نہ کرنے کی وجوہات کوقلمبند کرے اورقانون کے مطابق آپ کو مطلع کرے۔

ایف آئی آر درج کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟ ضابطہ فوجداری، 1898 کےتحت ایف آئی آر کے اندراج کا طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ جب کسی قابل شناخت جرم کے بارے میں معلومات زبانی طور پر فراہم کی جاتی ہیں، توپولیس افسر اس کو تحریر میں لائے  ۔معلومات فراہم کرنے والے شخص/شکایت کنندہ  کا یہ حق ہے کہ پولیس کی جانب سے  درج کی گئی اس کی شکایت اس کو پڑھ کر سنائی جائے۔ ایک بار جب پولیس ایف آئی آر رجسٹر میں معلومات درج کر لیتی ہے، تو معلومات فراہم کرنے والے شخص / شکایت کنندہ پر لازم ہو گا کہ وہ اس پر دستخط کرے۔

شکایت کنندہ اسی صورت میں ہی دستخط کرے اگرپولیس کی جانب سے درج کی گئی معلومات شکایت کنندہ کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق ہوں ۔ان پڑھ لوگ شکایت کے اندراج پر مطمئن ہونے کے بعد اپنے بائیں انگوٹھے کا نشان اس دستاویز پر لگائیں  ۔ ہمیشہ ایف آئی آر کی کاپی مانگیں۔ ایف آئی آر کی کاپی مفت حاصل کرنا شکایت کنندہ کا حق ہے۔

ایف آئی آر میں شکایت کنندہ کی جانب سے کن  چیزوں کا ذکر ہونا چاہیے؟ شکایت کنندہ  کا نام اور پتہ؛ جس واقعے کی اطلاع دے رہے ہوں اس کی تاریخ، وقت اور مقام؛ اس واقعے کے حقائق جیسے وہ پیش آئے، بشمول ہتھیاروں کا استعمال، اگر کوئی ہے۔

واقعہ میں ملوث افراد کے نام اور تفصیل؛ گواہوں کے نام اور پتے، اگر کوئی ہیں۔

جھوٹی شکایت اور پولیس کو غلط معلومات فراہم کرنے سے اجتناب کریں۔ غلط معلومات فراہم کرنے یا پولیس کو گمراہ کرنے پر آپ کے خلاف (پاکستان پینل کوڈ، 1860 کی دفعہ 182) کے تحت   مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے ،کبھی بھی حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں۔ کبھی مبہم یا غیر واضح بیانات نہ دیں۔ ایف آئی آر درج کروانے والا جب اپنے بیان پر دستخط کرنے سے انکار کرے تو اُس کے خلاف تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 180 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جو شخص کسی شخص کو زخمی کرنے کے ارادے سے بنائے گئے جرم کا جھوٹا الزام لگاتا ہے اس کے خلاف تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 211 کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔           

   اگر آپ کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟   آپ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، کیپٹل سٹی پولیس آفیسر، ڈی آئی جی یا دیگر اعلیٰ افسر ان سے مل سکتے ہیں اور اپنی شکایت ان کے نوٹس میں لا سکتے ہیں۔ آپ اپنی شکایت تحریری اور ڈاک کے ذریعےبھی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، کیپٹل سٹی پولیس آفیسر، ڈی آئی جی یا دیگر اعلیٰ افسر کو بھیج سکتے ہیں۔ اگر ڈی پی او، سی سی پی او، ڈی آئی جی آپ کی شکایت سے مطمئن ہوں تو وہ ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دے دیں گے۔ آپ اپنے ضلع میں ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی اور پولیس شکایت مرکز کو بھی اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ اگر پولیس یا متعلقہ افسران آپ کی شکایت درج نہ کر رہے ہوں تو جسٹس آف پیس والی عدالت میں اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ جیسے ہی پولیس کو کسی جرم کے بارے میں پہلی اطلاع ملتی ہے، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر کارروائی کریں اور کیس کی تحقیقات کریں۔ تاہم، بعض صورتوں میں، پولیس سٹیشنوں کے درمیان ان کے علاقائی دائرہ اختیار کے تعین کے بارے میں تنازعہ پیدا ہو سکتا ہے جہاں جرم کی اطلاع دی گئی تھی۔ ایسی صورتحال میں پولیس کو درج ذیل طریقہ کار پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اگر تھانے کے دائرہ اختیار کے بارے میں کوئی ابہام ہے اور اگر ہر ایک ایس ایچ او یہ دعویٰ کرتا ہے کہ متنازعہ علاقہ اس کے تھانے کے حدود میں نہیں آتا تو(پولیس رولز، 1934 کا 25-5) کے تحت  یہ ہر ایس ایچ او کی ذمہ داری ہے کہ وہ موقع پر رہے اور کیس کی تفتیش کرتا رہے۔ . ایسی صورت میں کیس کا ریکارڈ اُس  ایس ایچ او کے پاس رہے گا، جو پہلے موقع پر پہنچ جاتا ہے جب تک کہ دائرہ اختیار کے سوال کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔ جب سینئر پولیس افسران دائرہ اختیارکاتعین کر لیں تو جس پولیس افسرکے حدود سے کیس باہر ہوتو اس پولیس آفیسر کو چاہیے کہ تمام کاموں کی رپورٹ ایک کیس ڈائری میں درج کرے اور اس پر دستخط کرے اور  اس واقعہ کی تاریخ اور وقت بھی بتائے۔ یہ کیس ڈائری دوسرے پولیس آفیسر کے حوالے کی جائے جو اس بابت تصدیق کرے کہ کیس اس کے تھانے کی حدود میں آتا ہے اور اُسے کیس کی تفتیش کا اختیار حاصل ہے۔ (پولیس رولز 25-6، 1934)

جب حدود کے تعین کے بعد مقدمہ ایک تھانے سے دوسرے تھانے منتقل کیا جاتا ہے  تو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پہلے سے درج شدہ تھانے سے ایف آئی آر کو منسوخ کر کے دوسرے تھانے جس کے دائرہ اختیار میں وقوع ہوا ہے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (پولیس رولز 25-7، 1934)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1