Exclusive Content

Add

غذائی قلت کے خدشات

Print Friendly, PDF & Email

یہ پیش گوئی کی جار ہی ہے کہ  پاکستان اور شمالی اور وسطی ہندوستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کو سال کی دوسری ششماہی میں معمول سے کم بارشوں کی وجہ سے خوراک کی کم پیداوار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ ایک انتباہ ہے کہ آب و ہوا کی وجہ سے زرعی پیداوار شدید خطرے میں ہے۔  اس بڑی تبدیلی کی وجہ  بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بارشوں کا نہ ہونا یا معمول سے کم یا زیادہ ہوناوغیرہ بتایا جا رہا ہے۔موافق موسمی حالات پر کاشتکاری کے بہت زیادہ انحصار کی بدولت  اس تبدیلی نے زرعی پیداوار کے خطرات میں اضافہ بڑھا دیاہے۔  ملک بھر کے پاکستانی کسانوں نے گزشتہ دہائی کے دوران ان تبدیلیوں کو ان کی پیداوار پر شدید اثر انداز ہوتے دیکھا ہے۔ اس رجحان نے گندم اور دیگر فصلوں سمیت خوراک کی پیداوار پر کافی دباؤ ڈالا ہے۔ گزشتہ سال معمول سے زیادہ گرم موسم نے گندم کی فصل کو متاثر کیا تھا اور حکومت کو مجبور کیا تھا کہ وہ  ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں اناج درآمد کرے۔

موسمیاتی تبدیلی کا رجحان نیا نہیں ہے۔ پاکستان کافی عرصے سے اس کے اثرات سے دوچار ہے، ملک کےبہت زیادہ علاقوں کو خشک سالی، غیرمعمولی بارشوں اور تباہ کن سیلاب کا، خاص طور پر 2010 سے سامنا کرنا پڑارہا ہے ۔ گزشتہ سال کے سیلاب نے فصلوں کی پیداوار کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ ملک پہلے ہی خوراک کی بڑھتی ہوئی قلت اور بڑھتی ہوئی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں سے دوچارہے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے جدوجہد کررہا ہے، اب یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ بدلتی ہوئی آب و ہوا سے غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو گا، اس کے علاوہ زراعت کے شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کی روزی روٹی کو خطرہ لاحق ہو گا۔ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پالیسی ساز پاکستان میں مختلف خطوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی پیمائش کے لیے موثر اقدامات کریں اور ان کے زرعی پیداوار پر اثرات کا صحیح اندازہ لگائیں۔ کسانوں کو موسمیاتی زرعی طریقوں میں تربیت دینے اور ان کے پیشے اور معاش پر موسمیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ زراعت کے شعبے پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت کو زرعی تحقیق اور ترقی میں بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ نصف سے زیادہ آبادی کوشدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے ، حکومت کو اب فوری اقدامات کرنےچاہییں ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1