Premium Content

Add

ہیٹ ویوز

Print Friendly, PDF & Email

جیسا کہ درجہ حرارت تیزی سےبڑھ رہا ہے، ماہرین موسمیات نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہر سال  موسم طویل گرم ہوتا رہے گا۔ لہٰذا گرمی کے سانحات کے حوالے سے حکومت کا رویہ قابل افسوس ہے۔ بدھ کو خیرپور میں سال اول کا طالب علم ٹیسٹ کے دوران بے ہوش ہونے کے باعث گرمی سے جاں بحق ہوگیا۔ کئی دوسرے امتحانی مراکز پر بچوں کی حالت غیر ہوئی۔

ایک ریسرچ جو دی اکانومسٹ میں شائع ہوئی  تحقیق کے مطابق، 2000سے 2019 کے درمیان، جنوبی ایشیا میں ایک سال میں گرمی سے متعلق 110,000 سے زیادہ اموات ہوئیں”۔ آئی پی سی سی کی ایک خصوصی رپورٹ میں اندازہ لگایا  گیا ہے کہ درجہ حرارت  ہر گزرے سال کے ساتھ انتہا ئی سطح پر پہنچ رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں گرمی کی لہریں بار بارآنےاور زیادہ گرم ہونے کا امکان ہے۔

ان وجوہات کی بناء پر، افسوسناک حد تک تاخیر کے باوجود، حکام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بچاؤ کے منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔ حکومت نے کچھ اقدامات بھی کیے ہیں جیسا کہ درختوں کے کاٹنے پر جرمانے عائد کیے گئے ، وسیع پارکوں کو جنگلات میں تبدیل کر دیا گیا، گرین ہاؤسز قائم کیے گئے اور فوارےلگائے گئے ۔ ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فیکٹری اور گاڑیوں کےدھواں کے  اخراج کو کافی حد تک کم کر دیا گیا ہے۔ موسمیاتی آفات کی زد میں آنے والی قوم میں، ہر درخت اور گرین بیلٹ کو ڈھالنا پڑتا ہے کیونکہ یہ تخفیف کی قوتیں ہیں جو ماحولیاتی نظام اور روزگار کی حفاظت اور ان کو منظم کرتی ہیں۔ حکومت  کو سڑکوں پر کام کرنے والے  مزدوروں، دکانداروں اور پولیس اہلکاروں کے لیے خوراک، سایہ، پانی اور آرام کی سہولیات میں فراخدلی سے حصہ ڈالنا چاہیے کیونکہ گرمی قلبی نظام کو خراب کر سکتی ہے اور سانس کی بیماریاں بھی پھیلتی ہیں ۔ اب تک، آب و ہوا کے نقصانات کا مقابلہ کرنے کے عالمی طریقے ہمارے قانون سازوں کی طرف سے پیروی کرنے والوں سے متصادم نظر آتے ہیں۔ ہماری حکومت پودوں اور صاف ہوا پر اونچی عمارتوں اور مالز کو ترجیح دیتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1