تحریر: ڈاکٹر محمد کلیم
گورا رنگ، خمیدہ کمر، لمبا قد، چہرے پر جھریاں، کمزور جسم، ماتھے پر بل، آنکھوں میں لالی اور بالوں سے خالی سر لیے اپنے ”باجوہ صاحب“ ہمارے پہلے ہیڈ کلرک واقع ہوئے تھے۔ کہتے ہیں زندگی میں ہر پہلی شے یاد رہتی ہے جیسے پہلا عشق، پہلی مار، پہلی لڑائی، پہلی لڑکی، پہلی نوکری، پہلی تنخواہ وغیرہ وغیرہ لیکن ہمیں ان میں سے کوئی یاد نہیں سوائے باجوہ صاحب کے۔ باجوہ صاحب کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ یعنی باجوہ فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ لیکن ہمیں ان کا افسر ہونے کا شرف جھنگ میں نصیب ہوا جہاں پنجاب حکومت نے ہماری پہلی تعیناتی کی تھی۔
پہلے دن جب سٹاف کو بلا کر کام کے بارے میں پوچھا تو سارا عملہ خاموش رہا سوائے باجوہ صاحب کے اور یہیں ہم جان گئے کہ ان سے بچ کے رہنا ہے۔ ان کے بولنے کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ انھوں نے رات کچھ زیادہ پی لی ہو گی جو کہ باتوں میں کوئی ردھم نہیں تھا۔ الفاظ زیادہ تھے معنی نہیں تھے۔ پہلی ملاقات میں ہم جان گئے کہ باجوہ صاحب ایک سانس کے ساتھ پانچ گالیاں اور پانچ بار کھانستے ہیں۔ گالیاں تو انھوں نے روک رکھی تھیں جو انھوں نے ہمارے دفتر سے باہر جاتے ہی فائر کیں اور اندھا دھند چلائیں جن کی آواز ہمیں دفتر کے اندر تک سنائی دیں۔
باجوہ صاحب نے دو شادیاں کر رکھی تھیں۔ ایک زوجہ کو لاہور رکھا ہوا تھا اور دوسری کو اپنے آبائی علاقے ٹوبہ میں۔ دونوں سے نہیں بنتی تھی اس لیے جھنگ کے کسی ہوٹل میں رہتے تھے اور کبھی کبھار ہی گھر کا رخ کرتے تھے۔ ہمیشہ ناشتہ دفتر آ کر ہی کرتے کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ دفتر سب سے پہلے ان کو پہنچ جانا چاہیے تاکہ وہ ہر خبر پر نظر رکھ سکیں اور وہ یہ بھی فرماتے تھے کہ کون سا انھوں نے گھر کا کھانا کھانا ہے۔ ہوٹل میں رہتا ہوں ہوٹل کا کھاتا ہوں۔ اس لیے صبح، دوپہر، رات تینوں وقت کا کھانا دفتر ہی میں کھاتے تھے۔ سب سے پہلے آتے اور سب سے آخر میں جاتے تھے۔
باجوہ صاحب کو لکھنا بالکل نہیں آتا تھا، صرف بولنا آتا تھا۔ لکھنے کے لیے انھوں نے ایک پرائیویٹ ملازم رکھا تھا جو ان کے لیے تمام کام کرتا تھا۔ ایک دفعہ ہم نے باجوہ صاحب سے کہا یہ پیرا لکھ کر دیں تو کہنے لگے سر مجھے فائل دے دیں میں لکھ کر آتا ہوں۔ میں نے کہا میرے سامنے لکھیں۔ وہ اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہنے لگے سر اگر مجھے لکھنا آتا ہوتا تو میں کلرک ہوتا۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوتے؟ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
سگریٹ اور باجوہ کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ ہم نے ان کو کبھی سگریٹ کے بغیر نہیں دیکھا۔ سگریٹ پینے کی وجہ سے نہ صرف ان کے پھیپھڑے گل چکے تھے جو ہانپتے اور کانپتے رہتے تھے بلکہ ان کے ہاتھوں پر گہرے نشان پڑ چکے تھے۔ جب ہم ان کو کسی کام سے دفتر بلاتے تو وہ اپنا سگریٹ سلگتا ہوا باہر چھوڑ آتے اور جب بات کر کے واپس جاتے تو اس کو پھر منہ سے لگا لیتے۔ ان کے آنے سے کمرے میں ”کیپٹن“ کی خوشبو بھی چلی آتی تھی جو اس بات کی گواہی تھی کہ بندہ بشر سگریٹ پیتا پیتا اندر داخل ہوا ہے۔
ایک دن جب میں دو دن کی چھٹی پر گھر جا رہا تھا تو باجوہ صاحب کمرے میں تشریف لائے اور خالی چالان کی کاپی میرے سامنے رکھی اور کہا دستخط کر دیں آپ کی غیر موجودگی میں کوئی ضرورت پڑی تو میں اس کو پر کر کے چلا لوں گا۔ ہم نے انکار کر دیا تو ناراض ہو گئے۔ کہنے لگے مسئلہ ہو گیا تو پھر ہمیں نہ کہیے گا۔ ہم نے کہا نہیں کہیں گے ”جاؤ بھاگ جاؤ“ ۔ بعد میں معلوم ہوا باجوہ صاحب یہ کام سب کے ساتھ کرتے ہیں اور خالی چالان پر دستخط کروا لیتے ہیں اور اس کی فوٹو کاپی کروا کے چلاتے رہتے ہیں۔ ہم سے پرانے افسر کے ساتھ بھی وہ یہ ڈراما کر چکے تھے اور کئی مہینوں تک انھوں نے فوٹو کاپی چلائی آخر ایک دن پکڑے گئے لیکن توبہ کرنے والے دن وہ پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے وہ چکر ہمارے ساتھ چلانے لگے تو ناکام ہوئے۔ ہو سکتا ہے اگلے آنے والے کے ساتھ بھی یہ چکر چلایا ہو۔








