Premium Content

Add

پاکستان کرکٹ بورڈ کا فیصلہ

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے اعظم خان پر قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے ایک میچ کے دوران ان کے بلے پر فلسطین کا جھنڈا آویزاں کرنے پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ اس بات کو تسلیم کرنے کی کمی کے سوا کچھ نہیں کہ آواز اٹھانے اور بعض وجوہات کی بناء پر کھڑے ہونے کے لیے کس طرح اثر و رسوخ کا استعمال کیا جانا چاہیے۔  ہم ایک ایسے دور سے بہت آگے نکل چکے ہیں جہاں کرکٹ کی مشہور شخصیات اور ان کی چمک صرف فیلڈ پرفارمنس تک محدود رہ سکتی تھی۔ یہ وہ وقت ہوتے ہیں جب لوگ آن لائن جگہ کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کس چیز پر یقین رکھتے ہیں۔

پی سی بی کے فیصلے پر کافی غصہ پایا جا رہا ہے اور عوام کا غصہ بھی بجا ہے۔ یہ جرمانہ بھی ورلڈ کپ کے دوران محمد رضوان کے فلسطین کے حق میں ٹوئٹ پر آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے اعتراضات سے مختلف نہیں ہے۔ پی سی بی کی طرف سےاُن کی نقل کرنا انتہائی مایوس کن ہے۔ ایک ایسے ٹورنامنٹ میں جو ملکی سطح پر کھیلا جا رہا ہے، اور فلسطین کے بارے میں پاکستان کے سرکاری موقف پر کوئی دو رائے نہیں، جرمانہ عائد کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں لگتا۔ کھیلوں میں ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے جہاں کھلاڑی میدان، گراؤنڈ، یا کھیل کے میدان کو فعال طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی حمایت کا اظہار کریں یا ان واقعات کی مذمت کریں جو انتہائی سیاسی نوعیت کے ہیں۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

ہم ایک ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں غیر سیاسی ہونے پر زور دینا بھی ایک سیاسی موقف ہے۔ کھلاڑیوں کی آواز دبانی نہیں چاہیے۔ دنیا بھر میں، کھلاڑی کھیلوں کے مقابلوں کے دوران مختلف اشاروں، علامتوں اور بیانات کے ذریعے اپنے عقائد کا اظہار کرتے ہیں، خواہ وہ حمایت میں ہو یا پھر تنقید کی صورت میں ہو۔ اعظم خان پر پی سی بی کا جرمانہ ان بہت سے طریقوں میں سے ایک ہے جن کو تنظیمیں ریگولرائز کرنا چاہتی ہیں ۔ فلسطین جیسا معاملہ ہر کسی کے دل کے قریب ہے، پی سی بی کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت نہیں کرتا حالانکہ سرکاری سطح پرپاکستان فلسطین کاز کی حمایت کرتا ہے ۔

رابطے سے باہر ہونے اور پرانے اسکول کے طریقے سے قوانین مسلط کرنے کے بجائے، پی سی بی کو کرکٹرز کے ابھرتے ہوئے کردار کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ان کے پاس سیاسی اور سماجی مسائل پر بات کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ انہیں مثبت اثرات اور تبدیلی کا محرک ہونا چاہیے کیونکہ کھیل ہمیشہ دل جیتنے کا میدان رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1