بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی پر پاکستان پُرامید، مگر محتاط

[post-views]
[post-views]

ریپبلک پالیسی | طرزِ حکمرانی، سلامتی، تزویراتی امور

پاک فوج کے ترجمان نے اعلیٰ سطحی وفد کے دورۂ تہران کے بعد محتاط امید کا اظہار کیا ہے، تاہم خبردار کیا ہے کہ بعض بااثر عناصر تنازع کو طول دینے کے خواہاں ہو سکتے ہیں۔

راولپنڈی، 30 اکتوبر 2026ء (رائٹرز) — پاکستان کی فوج نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد کی ثالثی کی کوششوں پر محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط کے سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا مقصد آٹھ ماہ سے جاری تنازع کو کم کرنا ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستانی وفد کے دورۂ تہران کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سفارتی رابطوں کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم خبردار کیا کہ اس عمل میں اب بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں۔

آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو اس سفارتی کوشش میں پاکستان کے مرکزی ثالث کے طور پر سامنے آئے ہیں، رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا تازہ ترین دورہ پیر کے روز ہوا، جس میں سعودی اور ترک حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کی ثالثی کی کوششوں کے علاقائی تناظر کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آرمی چیف کے بار بار دورۂ تہران سے کیا پیش رفت کا اشارہ ملتا ہے تو چوہدری نے ان کے مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، ’’اگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوتی تو فیلڈ مارشل دو مرتبہ وہاں کیوں جاتے؟ تو ہاں، یقیناً ایسا ہے۔‘‘

تاہم، فوجی ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی توقعات محتاط ہیں۔ ان کے بقول، ’’ہمیشہ ہماری طرف سے استعمال ہونے والی اصطلاح محتاط امید ہی ہوگی۔‘‘

سفارتی پیش رفت کو ممکنہ رکاوٹوں کا سامنا

چوہدری نے خبردار کیا کہ ثالثی کے عمل کو ایسے عناصر کی مزاحمت کا سامنا ہے جو تنازع جاری رہنے میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ان عناصر کو ’’طاقتور تخریب کار اور مخالفین‘‘ قرار دیا، تاہم کسی مخصوص فریق یا گروہ کی نشاندہی نہیں کی۔

ان کا بیان اس مشکل سفارتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے جس میں پاکستان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔ تہران کے ساتھ مسلسل رابطے اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون اس بات کا اشارہ ہیں کہ اسلام آباد سفارتی پیش رفت کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم، کشیدگی میں کمی کے مخالف عناصر کی موجودگی کسی ممکنہ پیش رفت کے امکانات کو غیر یقینی بناتی ہے۔

اسلام آباد کے لیے چیلنج صرف تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کا ذریعہ بننا نہیں، بلکہ ایسا سفارتی عمل برقرار رکھنا بھی ہے جو اس تنازع میں شامل فریقوں کے باہمی سلامتی کے خدشات اور سیاسی مفادات کو پیشِ نظر رکھ سکے۔

دفاعی معاہدہ اور علاقائی سلامتی کے سوالات

انٹرویو میں پاکستان کے دفاعی وعدوں اور اس کے سکیورٹی انتظامات کے علاقائی اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق، فوجی ترجمان نے کہا کہ دفاعی معاہدہ ایران کو اس کا حصہ بننے سے نہیں روکتا۔

انہوں نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا، تاہم واضح کیا کہ پاکستان یمن کے تنازع میں فریق نہیں ہے۔

یہ مؤقف اس فرق کو ظاہر کرتے ہیں جسے اسلام آباد اپنے دفاعی وعدوں، علاقائی شراکت داریوں اور ایران کے ساتھ سفارتی روابط کے درمیان برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان کا سفارتی توازن

پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اسے ایک حساس سفارتی صورتِ حال میں رکھتی ہیں۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ سکیورٹی تعلقات برقرار رکھنا ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ روابط بھی جاری رکھنے ہیں اور امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بار بار دورۂ تہران اور ان کے ساتھ علاقائی حکام کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اس عمل میں اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔ تاہم، فوج کی جانب سے محتاط امید پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کسی حتمی نتیجے کو یقینی نہیں سمجھتا۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مسلسل علاقائی سفارتی رابطے ایک پائیدار مذاکراتی عمل میں تبدیل ہو سکیں گے، اور کیا متعلقہ فریق ان مفادات پر قابو پا سکیں گے جو اب بھی تصادم کو جاری رکھنے کے حق میں ہیں؟

ماخذ: رائٹرز، 30 اکتوبر 2026ء۔ یہ رپورٹ فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ دستیاب متن میں دفاعی معاہدے یا یمن کے تنازع سے متعلق مزید تفصیلات شامل نہیں ہیں۔


سلائیڈ شو: ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی

سلائیڈ 1 — پاکستان کا محتاط امید کا اظہار
فوج کے مطابق مسلسل سفارتی رابطے امید کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، تاہم کسی بڑی پیش رفت کی ضمانت نہیں۔

سلائیڈ 2 — عاصم منیر کا دوسری مرتبہ دورۂ تہران
فیلڈ مارشل عاصم منیر اکتوبر میں دو مرتبہ تہران گئے۔ ان کا تازہ دورہ سعودی اور ترک حکام کے ہمراہ تھا۔

سلائیڈ 3 — طاقتور مخالف عناصر موجود
آئی ایس پی آر کے سربراہ احمد شریف چوہدری کے مطابق بعض بااثر عناصر تنازع کو طول دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سلائیڈ 4 — دفاعی معاہدہ اور سعودی عرب سے وابستگی
پاکستان کے مطابق دفاعی معاہدہ ایران کی شمولیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں، جبکہ سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔

سلائیڈ 5 — پاکستان کا سفارتی چیلنج
اسلام آباد علاقائی سکیورٹی کے وعدوں اور ایران کے ساتھ روابط میں توازن رکھتے ہوئے ثالثی کا عمل آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

ریپبلک پالیسی | طرزِ حکمرانی، سلامتی، تزویراتی امور

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]