ادارتی تجزیہ
کسی بھی مؤثر جمہوری نظام میں پارلیمان کے ایوانِ بالا (سینیٹ) کا بنیادی مقصد نگران کردار ادا کرنا، پختہ سوچ کے ساتھ غور و خوض کرنا، اور وفاق کے تمام اکائیوں کی متوازن نمائندگی یقینی بنانا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں سینیٹ، جسے انہی اصولوں کی علامت ہونا چاہیے تھا، وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی مفادات اور ذاتی وفاداریوں کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ یہاں ٹکٹیں قابلیت، بصیرت یا قانون سازی کی مہارت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تعلقات، وفاداری اور لین دین کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں یہ کلچر واضح کرتا ہے کہ ہمارے ہاں پارلیمانی اداروں کے اصل مقصد کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ سینیٹ کی نامزدگیاں اکثر ایسے افراد کو دی جاتی ہیں جو پارٹی قیادت سے قریب ہوں، جنہیں نوازنا ہو یا جن سے کوئی سیاسی یا مالی فائدہ مطلوب ہو۔ اس روش سے نہ صرف اہل اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد نظر انداز ہو جاتے ہیں، بلکہ قانون سازی کے عمل کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
اس طرزِ سیاست کا ایک سنگین نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے سینیٹرز بنیادی آئینی، قانونی اور پالیسی امور کی سمجھ بوجھ سے محروم ہوتے ہیں۔ انہیں پیچیدہ حکومتی ڈھانچوں اور قانون سازی کے طریقۂ کار کا ادراک نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں وہ نہ مؤثر گفتگو کر سکتے ہیں، نہ کسی قانون پر سنجیدہ تنقید یا ترمیم کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یوں پارلیمان ایک سنجیدہ ادارہ بننے کے بجائے ایک سطحی سیاسی اسٹیج میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر یہ مسئلہ ایک سیاسی خلا کو جنم دیتا ہے، جہاں سنجیدہ اور پالیسی پر مبنی گفتگو کے بجائے سطحی اور نمائشی بیانیے غالب آ جاتے ہیں۔ اس خلا کو غیر منتخب قوتیں—جیسے بیوروکریسی، عدالتی مداخلت یا دیگر غیر پارلیمانی عناصر—آسانی سے پُر کر لیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پھر یہی عناصر جمہوریت کو ناکام قرار دیتے ہیں، حالانکہ ناکامی جمہوریت کی نہیں بلکہ اُن عناصر کی ہے جو پارلیمانی اداروں کو اپنی جاگیر سمجھ کر کمزور کرتے ہیں۔
یہ سوال اب بہت اہم ہو چکا ہے: کیا پاکستان کی سیاسی جماعتیں کبھی یہ سمجھیں گی کہ عوام کا اعتماد اور اداروں کی مضبوطی اس بات سے جڑی ہے کہ وہ کن افراد کو نمائندہ بنا کر بھیجتی ہیں؟ دنیا بھر میں وہی جمہوریتیں کامیاب ہوتی ہیں جہاں منتخب نمائندے باعلم، مخلص اور باصلاحیت ہوں—جو قانون سازی سمجھتے ہوں، حکومت کو جواب دہ بناتے ہوں اور اصلاحات کا سوچ رکھتے ہوں۔
قابل اور باصلاحیت افراد کو سینیٹ میں بھیجنا کوئی خواب یا نظریاتی خواہش نہیں، بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔ پاکستان اس وقت معاشی بدحالی، موسمیاتی خطرات، علاقائی کشیدگی اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان مسائل کا حل جذباتی تقاریر یا روایتی وفادار سیاستدانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے دانشوروں، منصوبہ سازوں اور ایسے افراد کی ضرورت ہے جو علم اور حکمت کے ساتھ فیصلہ سازی کر سکیں۔
ایک اور بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ سیاسی طاقت صرف جلسوں اور ووٹ بینک سے آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پائیدار سیاسی طاقت صرف اداروں کی کارکردگی سے حاصل ہوتی ہے۔ جب عوام مؤثر قانون سازی، شفاف حکمرانی اور اصولوں پر مبنی قیادت کو دیکھتے ہیں، تب ہی وہ جمہوری نظام پر اعتماد کرتے ہیں۔ لیکن جب سینیٹ کی نشستیں بیچنے کا تاثر ملے، اور نااہل افراد ادارے سنبھالیں، تو عوام مایوس ہو کر یا تو لاتعلق ہو جاتے ہیں یا شدت پسندی کی طرف جھکنے لگتے ہیں۔
اس کلچر کی اصلاح کا آغاز سیاسی جماعتوں کے اندرونی نظام کی اصلاح سے ہونا چاہیے۔ جب تک جماعتیں اندرونی جمہوریت کو فروغ نہیں دیتیں اور میرٹ کی بنیاد پر امیدوار نامزد نہیں کرتیں، جمہوریت کے وسیع تر مقاصد پورے نہیں ہو سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، سول سوسائٹی اور ووٹرز کو بھی زیادہ شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہے کہ پاکستان کی سینیٹ آج جس بحران کا شکار ہے، وہ محض افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی سوچ کے زوال کی علامت ہے—ایک ایسی سوچ جس میں وقتی مفاد کو قومی وژن پر ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن یہ صورتحال ناگزیر نہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں اب بھی قابلیت، اخلاقیات اور عوامی خدمت کو ذاتی وفاداری پر ترجیح دینے کا فیصلہ کر لیں، تو اس زوال کو روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے جمہوری مستقبل اور نظامِ حکمرانی کا دار و مدار اسی فیصلے پر ہے۔













