Premium Content

سرگودھا میں توہین مذہب کے الزام پر تشدد، متعدد افراد گرفتار

Print Friendly, PDF & Email

سرگودھا میں ہفتہ کے روز مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص پر حملہ کر دیا۔

یہ واقعہ سرگودھا کی مجاہد کالونی میں پیش آیا جہاں توہین مذہب کے مبینہ واقعے پر مشتعل ہجوم نے ایک گھر میں گھس کر تشدد کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

مشتعل ہجوم نے گھر کے اندر بنائی گئی جوتوں کی فیکٹری کو بھی آگ لگا دی اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔

آر پی او شارق کمال نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سرگودھا کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ علاقے میں امن بحال کریں اور مجرموں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر سیکرٹری داخلہ پنجاب نورالامین مینگل جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے سرگودھا روانہ ہوگئے۔

مینگل واقعے کی وجوہات اور تحقیقات کا جائزہ لیں گے اور تمام سینئر افسران کو ہر پہلو سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

سیکرٹری داخلہ پنجاب  نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے۔ مذہب کی آڑ میں کسی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ مکمل تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos