Premium Content

Add

ووکس پاپولی

Print Friendly, PDF & Email

ہمارا موجودہ، ظاہری طور پر جمہوری سیاسی نظام کلاسیکی تیسری دنیا کی آمریت میں تبدیل ہونے کی بہت جلدی میں لگتا ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کی فوج کے ساتھ صف بندیوں کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں اور حامیوں کو سزا دینے کا مشترکہ ایجنڈا دکھائی دے رہا ہے۔ جس کی وجہ سے  ایک انتہائی غلط مثال قائم ہو رہی ہے۔

یہ پاکستانی جمہوریت کو آنے والے برسوں میں بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے حکومت کو یہ حکم دینے کے چند ہی دن بعد کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو دہشت گرد تنظیم سمجھا جانا چاہیے،پوری حکومت اس حکم کو بجا لانے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔

ریاست پی ٹی آئی کے کارکنوں اور دوسرے درجے کی قیادت کو گرفتار کرنے ، ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے، انہیں ان کے گھروں اور کام کی جگہوں سے  دربدر کرنے  اور انہیں دھمکیاں دینے یا ان پر دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لیے کافی بے چین دکھائی دے رہی  ہے۔

یہ انتہائی سنگین اور افسوسناک ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز جو کچھ برسوں سے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیے کے ساتھ عوامی حمایت کے لیے آواز بلند کر رہے تھے ، اپنے ہی بیانیے کو بھول کر جمہوریت کی عمارت کو بتدریج ختم کرنے کے درپے ہے۔

کسی بھی جمہوریت میں کوئی حکومت اپنے حریفوں سے ملک کو ’پاک کرنے‘ کی بات نہیں کرتی، یا کسی سیاسی جماعت کو یا تو ’دہشت گرد‘ تنظیم یا ”کالعدم تنظیموں کے ذریعے تربیت یافتہ شرپسندوں کا گروہ“ قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے پر غور نہیں کرتی ہے۔ یہ آمریت پسندوں اور مطلق العنانیت کے تصورات ہیں، سیاست دانوں کے نہیں جنہیں ووکس پاپولی کے ذریعے حکومت کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

اب سننے میں آرہا ہے  کہ عسکری قیادت اور حکومت نے آپس میں یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہئیں۔ اگر فیصلہ ہو چکا ہے تو فوری انتخابات کرائے جائیں۔

آئین واضح طور پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کے انتخابات ،  اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 دن کے اندر کرانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی حال ہی میں 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کا فیصلہ دیا ہے۔  اگر تمام انتخابات ایک ساتھ کرانا ہیں تو اس ٹائم لائن کے اندر ہونے چاہئیں۔

انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر پی ٹی آئی کو عوام سے مینڈیٹ حاصل کرنے سے روکنے کے لیے انہوں نے مل کر آئین کو پامال کرنے کی سازش کی ہے تو ان کے اقدامات کو جائز قرار دینے کے لیے کوئی طاقت کافی نہیں ہوگی۔ اگر مسلم لیگ (ن) کو  کچھ غلط نظر نہیں آ رہا  تو دوسری جماعتوں کو اس بدصورت کھیل میں اپنے کردار پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

تاریخ ان لوگوں کو معاف نہیں کرتی جو صرف ایک آدمی اور ایک سیاسی جماعت کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے اپنی اندھی خواہش میں اس سرزمین کے قوانین کو کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1