ریپبلک پالیسی نے پاکستان میں صحت اور تعلیم سمیت تخصص پر مبنی شعبوں کی اصلاح کے لیے اسپیشلائزڈ ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ ہمارا بنیادی استدلال یہ ہے کہ جنرل بیوروکریسی جدید ریاست کے پیچیدہ اور تکنیکی شعبوں کی نوعیت، ضروریات اور انتظامی تقاضوں کو مکمل طور پر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
خصوصاً صحت، تعلیم اور ٹیکسیشن جیسے شعبوں کو ایسے منتظمین کی ضرورت ہے جو متعلقہ شعبے کی پیشہ ورانہ مہارت، عملی تجربہ اور ادارہ جاتی فہم رکھتے ہوں۔ ان اسپیشلائزڈ ایڈمنسٹریٹرز کے لیے الگ سروس اسٹرکچر اور پے گریڈ تشکیل دیا جانا چاہیے۔ ایسے تکنیکی اور تخصصی اداروں کو ایک عمومی اور یکساں انتظامی ڈھانچے کے تحت چلانے کے بجائے ان کی مخصوص ضروریات کے مطابق الگ نظام قائم کرنا ضروری ہے۔
ریپبلک پالیسی کا مؤقف واضح ہے کہ اسپیشلائزڈ محکموں کو جنرل بیوروکریسی کے ذریعے مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ جب کسی تکنیکی ادارے کی قیادت ایسے افسران کے پاس ہو جو اس شعبے کی بنیادی نوعیت، پیشہ ورانہ تقاضوں اور عملی پیچیدگیوں سے واقف نہ ہوں تو ادارہ جاتی ترقی کے بجائے انتظامی جمود پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
پنجاب میں ریسکیو 1122 اور پنجاب ایمرجنسی سروسز اکیڈمی جیسے اداروں کی ترقی اس نقطۂ نظر کی اہم مثالیں ہیں۔ ان اداروں کی تشکیل اور ترقی میں اسپیشلائزڈ قیادت اور متعلقہ شعبے کی ضروریات کو سمجھنے والے منتظمین نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس، متعدد تخصصی محکمے جنرل بیوروکریسی کے انتظامی غلبے کے باعث اپنی مطلوبہ استعداد اور ادارہ جاتی خودمختاری حاصل نہیں کر سکے۔
پاکستان کو اب اس روایتی تصور سے آگے بڑھنا ہوگا کہ ایک جنرل بیوروکریٹ ہر قسم کے محکمے کو یکساں طور پر چلا سکتا ہے۔ جدید ریاست کو عمومی منتظمین کے ساتھ ساتھ شعبہ جاتی مہارت رکھنے والے اسپیشلائزڈ ایڈمنسٹریٹرز کی ضرورت ہے۔
ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup حاصل کرنے اور اس موضوع پر مزید جاننے کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔
0341 4222501









