اسلام آباد: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے رجسٹرڈ خواتین مستحقین کے لیے نئی ڈیجیٹل ادائیگی سہولت متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت وہ مفت سم کارڈ حاصل کرکے اپنا سماجی تحفظ والیٹ فعال کر سکیں گی اور مستقبل میں مالی امداد اسی کے ذریعے وصول کریں گی۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے جاری کردہ بیان کے مطابق اہل خواتین اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفتر یا مقررہ کیمپ سائٹ کا دورہ کر سکتی ہیں۔
مستحق خواتین کی پہلے بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی۔ اہلیت کی تصدیق کے بعد انہیں مفت سم کارڈ فراہم کیا جائے گا، جس کے ذریعے متعلقہ خاتون کے نام سے منسلک سماجی تحفظ والیٹ قائم کیا جائے گا۔
بی آئی ایس پی کے مطابق مستقبل میں پروگرام کی اقساط، وظائف اور دیگر مالی معاونت اسی ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے منتقل کی جائے گی۔
پروگرام نے مستحق خواتین کو اپنی سم محفوظ رکھنے اور اسے کسی دوسرے شخص کے حوالے نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ یہی سم مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے ان کے ڈیجیٹل والیٹ تک رسائی کا ذریعہ ہوگی۔
یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے اور سماجی تحفظ کی رقوم کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اس سے قبل اعلان کر چکے ہیں کہ 2026 کے اختتام تک بی آئی ایس پی کے تمام مستحقین کو ڈیجیٹل والیٹس فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
زیڈ والیٹ کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا تھا کہ حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ راست کے آغاز سے پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے، جبکہ ڈیجیٹل لین دین کو صارفین کے لیے مزید آسان بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بلال اظہر کیانی کے مطابق 20 لاکھ سے زائد تاجر اب ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل بینکاری استعمال کرنے والوں کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس پر سبسڈی بھی فراہم کی ہے، جبکہ سرکاری ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کے عمل میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔









