ری پبلک پالیسی گورننس ماڈل

[post-views]
[post-views]

1. کیا پاکستان کا حکمرانی کا بحران افراد کی ناکامی ہے یا پورے ساختی ڈھانچے کی خرابی؟

2. کیا پاکستان کو صرف انتظامی اصلاحات چاہئیں یا ایک مکمل وفاقی جمہوریہ گورننس ماڈل؟

3. کیا منتخب نمائندوں کے پاس موجود عوامی امانت اور اقتدارِ اعلیٰ کا استعمال ہر نمائندہ اہلیت کے ساتھ کرتا ہے؟

4. کیا پاکستان کی انتظامیہ شہری کو حقوق رکھنے والا فرد سمجھتی ہے یا ایک انتظامی تابع؟

5. کیا پارلیمانی نظام میں حقیقی انتظامی اختیار صرف سیاسی انتظامیہ (وزیر اعظم اور کابینہ) کے پاس ہونا چاہیے؟

6. کیا چیف سیکریٹری اور آئی جی جیسے صوبائی عہدوں پر وفاق کی طرف سے تقرریاں انتظامی وفاقیت کے منافی ہیں؟

7. کیا عمومی افسر شاہی (Generalist Civil Service) کی جگہ ماہر منتظمین (Specialized Administrators) کو لانا ضروری ہے؟

8. کیا پولیس کو نو آبادیاتی کنٹرول کے ادارے سے بدل کر ایک پیشہ ور اور جمہوری جواب دہ ادارہ بنانا چاہیے؟

9. کیا آئین کے آرٹیکل 140A کے تحت مقامی حکومتوں کو حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات ملنے چاہئیں؟

10. کیا پاکستان کے عدالتی بحران کو حل کرنے کے لیے محض مزید ججز اور عدالتوں کے بجائے پورے نظامِ انصاف کی ساخت بدلنا ضروری ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]