جدیدیت کا مطلب صرف نئے قوانین بنانا، ادارے قائم کرنا یا نئی ٹیکنالوجی اپنانا نہیں۔ ہر مؤثر ریاست کے پیچھے ایک ایسی ثقافت ہوتی ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ لوگ اختیار، میرٹ، عوامی خدمت اور ریاست کے ساتھ اپنے تعلق کو کس طرح دیکھتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جنوبی ایشیا کا تجربہ مشرقی ایشیا کے کئی ممالک سے مختلف نظر آتا ہے۔
جب مشرقی ایشیائی ممالک نے اپنی ریاستوں کو جدید بنانے کا عمل شروع کیا تو وہ کسی حد تک منظم انتظامیہ اور میرٹ پر مبنی سرکاری نظام کی اپنی تاریخی روایات سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ جنوبی ایشیا کا راستہ مختلف تھا۔ جدید بیوروکریسی، مسابقتی بھرتی اور باضابطہ انتظامی اداروں سے ہمارا بڑا تعارف نوآبادیاتی دور میں ہوا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جدید اداروں اور پرانی سماجی روایات کے درمیان ایک مشکل تعلق پیدا ہوگیا۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں خاندان، برادری، قبیلہ، ذات اور مقامی تعلقات آج بھی شناخت اور وفاداری کے اہم ذرائع ہیں۔ یہ تعلقات اپنی جگہ کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خاندان یا مقامی حلقے سے وفاداری ریاستی اداروں کے ساتھ ذمہ داری سے زیادہ اہم ہوجائے۔
مثال کے طور پر ایک سرکاری افسر ایسے رسمی نظام کے ذریعے ملازمت حاصل کرتا ہے جو اس سے غیر جانب داری کی توقع رکھتا ہے۔ لیکن اس کے اردگرد کا سماجی ماحول اس سے کچھ اور توقعات رکھ سکتا ہے: رشتہ داروں کے لیے ملازمتیں، جاننے والوں کے لیے رعایتیں، مقامی لوگوں کے لیے اثر و رسوخ اور ریاستی وسائل تک ترجیحی رسائی۔
فرد ریاست کی خدمت کے لیے بھرتی ہوتا ہے، لیکن سماجی دباؤ اسے اپنے حلقے کی خدمت کی طرف لے جاتا ہے۔
پاکستان میں حکمرانی کے بہت سے مسائل کی جڑ اسی کشمکش میں موجود ہے۔
طاقت، سرپرستی اور ریاستی مراعات تک رسائی جنوبی ایشیا میں طویل عرصے سے سماجی اور معاشی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے سرکاری ملازمت صرف عوامی خدمت کا ذریعہ نہیں سمجھی جاتی بلکہ اسے تحفظ، سماجی حیثیت، اختیار اور ریاستی وسائل تک رسائی کے ذریعے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
یہ رویہ صرف سرکاری شعبے تک محدود نہیں۔
نجی شعبے میں بھی بہت سے کاروبار آزاد مسابقت کے بجائے ریاستی تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ صنعت کار زیادہ پیداوار، جدت اور مقابلے کے بجائے محصولات، سبسڈی، سرکاری مراعات اور خصوصی ضابطوں سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جب کسی نظام میں محنت اور کارکردگی سے زیادہ تعلقات فائدہ پہنچائیں تو لوگ فطری طور پر تعلقات مضبوط کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
یہ حکمرانی کا ایک بنیادی مسئلہ پیدا کرتا ہے: کوئی معاشرہ حقیقی میرٹ پر مبنی ادارے اس وقت تک قائم نہیں کر سکتا جب تک اس کا سیاسی اور معاشی نظام سرپرستی کو کارکردگی سے زیادہ فائدہ پہنچاتا رہے۔
جنوبی ایشیا کی تاریخی روایت میں حکمرانی بڑی حد تک شخصی اور صوابدیدی بھی رہی ہے۔
خطے کی قدیم سیاسی فکر کی اہم کتاب ارتھ شاستر میں بھی حکمران کو مشورہ دیا گیا کہ لوگوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں دی جائیں۔ لیکن یہ فیصلہ بڑی حد تک حکمران کی اپنی دانش اور صوابدید پر منحصر تھا کہ کون شخص اہل ہے۔
یعنی میرٹ موجود تھا، مگر اس کا تعین ایک فرد کی صوابدید سے ہوتا تھا۔
چین میں وقت کے ساتھ ایک مختلف انتظامی روایت سامنے آئی۔ طویل فکری اور ادارہ جاتی ارتقا، خصوصاً کنفیوشیائی فکر کے زیراثر، اہلیت کو تعلیم، امتحان، علم اور انتظامی تجربے سے جوڑا جانے لگا۔
اصل فرق صرف یہ نہیں تھا کہ قابل لوگوں کو حکومت کرنی چاہیے۔ تقریباً ہر سیاسی روایت نے قابلیت کی اہمیت کو کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کیا ہے۔
اصل سوال یہ تھا: قابلیت کا فیصلہ کون کرے گا؟
اگر صرف حکمران طے کرے کہ کون اہل ہے تو میرٹ شخصی فیصلے کے تابع رہتا ہے۔ لیکن جب اہلیت کا تعین امتحانات، تعلیم، تربیت، تجربے اور کارکردگی کے واضح اصولوں سے ہونے لگے تو میرٹ ایک شخص کی صوابدید سے نکل کر ادارہ جاتی نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہ فرق پاکستان کے لیے آج بھی اہم ہے۔
اگر پاکستان اپنی حکمرانی کو جدید بنانا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی سول سروس کے معیار اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو بہتر بنانا ہوگا۔
صرف میرٹ پر بھرتی کافی نہیں۔ ایک پیشہ ور سول سروس کے لیے شفاف انتخاب، معیاری تربیت، مسلسل تعلیم، کارکردگی کا مؤثر جائزہ، ادارہ جاتی تجربے کا تحفظ اور قابلیت کی بنیاد پر ترقی ضروری ہے۔
اس کے ساتھ مراعات کے نظام کو بھی بدلنا ہوگا۔
ایک قابل افسر کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کی پیشہ ورانہ کارکردگی سیاسی سرپرستی سے زیادہ اہم ہے۔ ایک کاروباری شخص کے لیے سرکاری تحفظ حاصل کرنے کے بجائے جدت اور مسابقت زیادہ فائدہ مند ہونی چاہیے۔ اور ایک شہری کو ریاست سے معاملہ کرتے وقت شخصیات کے بجائے اداروں پر انحصار کرنا چاہیے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاکستان کو جاپان، چین یا جرمنی بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
جدیدیت کا مطلب کسی دوسرے معاشرے کی نقل کرنا نہیں۔
پاکستان کی اپنی تاریخ، ثقافت، سماجی ساخت، آئینی نظام اور سیاسی حقیقتیں ہیں۔ مقصد اپنی شناخت ترک کرنا نہیں بلکہ ان سماجی اور انتظامی رویوں کو تبدیل کرنا ہے جو میرٹ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی خدمت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
پاکستان کو جدید بننے کے لیے کسی دوسرے ملک جیسا بننے کی ضرورت نہیں۔
اسے صرف اپنا ایک بہتر، زیادہ پیشہ ور اور زیادہ میرٹ پر مبنی روپ بننا ہے۔









