بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

آزاد جموں و کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں سخت سیکیورٹی، بھرپور ووٹنگ اور وقفے وقفے سے تشدد

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے میرپور ڈویژن میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ پیر کی شام سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان اختتام پذیر ہوگئی۔ دن بھر غیرمعمولی حد تک ووٹرز کی شرکت دیکھنے میں آئی، تاہم بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے، جبکہ خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کے اثرات بھی نمایاں رہے۔

میرپور ڈویژن کی 13 انتخابی نشستوں پر پولنگ کا وقت شام پانچ بجے تک مقرر تھا، تاہم آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی غیرمعمولی آمد کے باعث اسے ایک گھنٹے کے لیے بڑھا کر شام چھ بجے تک کر دیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولنگ ختم ہونے کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی، جبکہ نتائج مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن رہا، تاہم دن کے دوران دو سیاسی گروہوں کے درمیان تصادم میں ایک شخص جاں بحق جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ انتخابی عمل کے دوران پیش آیا۔

یہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہوئے ہیں جب گزشتہ کئی ہفتوں سے آزاد کشمیر میں شدید عوامی احتجاج جاری رہا۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے باعث انتخابی شیڈول کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اگرچہ گزشتہ ماہ حکومت نے اس تنظیم پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کر دی، تاہم اس کی طویل احتجاجی تحریک اور انتخابی بائیکاٹ نے انتخابی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ حالیہ ہفتوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تقریباً 30 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بائیکاٹ کا بنیادی مطالبہ آزاد کشمیر اسمبلی کی وہ 12 نشستیں ختم کرنا ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے اسلام آباد کی مرکزی سیاسی جماعتیں مظفرآباد میں حکومت سازی پر غیرضروری اثرانداز ہوتی ہیں۔ تاہم پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے۔ مزید برآں، گزشتہ ماہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مہاجرین کی مخصوص نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں، اس لیے انہیں انتظامی اقدامات کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انتخابی عمل کو پرامن رکھنے کے لیے میرپور ڈویژن میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ یہاں 14 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز، جن میں 7 لاکھ 24 ہزار 811 مرد اور 6 لاکھ 75 ہزار 626 خواتین شامل ہیں، 288 امیدواروں میں سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کے اہل تھے۔ مجموعی طور پر 2,316 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے، جن میں سے 1,241 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا۔ ان کی حفاظت کے لیے 18 ہزار 500 سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ تقریباً 2 ہزار 100 پاک فوج کے جوان بھی تعینات کیے گئے۔ یہ غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹری خوشحال خان کی ان ہدایات کے بعد کیے گئے جن میں امن و امان خراب کرنے کی ہر کوشش کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 45 نشستوں کے لیے ہونے والے ان انتخابات میں 33 علاقائی اور 12 مہاجرین کی مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ میرپور ڈویژن میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد اب توجہ مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی مخصوص نشستوں پر منتقل ہوگئی ہے، جہاں 2 اگست کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ انتخابی عمل کا آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں منعقد ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]