اس مجموعے کانام میر کے ایک شعر سے مستعار ہے۔اس شعر میں ،میر نے اپنے دیوان میں حال کی درہمی کاذکر کیا ہے اور قاری یا سامع کواپنے دیوان یعنی مجموعہ پریشانی کی سیر کی ترغیب دی ہے۔ شاعرکے دل اور زمانے کی درہمی اور غزل کے مجموعے کے لیے’’ مجموعہ پریشانی ‘‘سے بہتر کوئی ترکیب نہیں ہوسکتی۔
ناصر کاظمی نے کہا تھا کہ میرکے زمانے کی رات ہمارے زمانے کی رات سے آملی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ رات ہی نہیں،ہمارے زمانے کا دن بھی میرکے دیوان میں ظاہرہونے والے زمانے سے آملا ہے۔ ہمارے دلو ں ، ہمارے سماج، ہمارے زمانے کی درہمی ختم ہونے کا نام لیتی ہے نہ اس کا بیان ۔ یہ مجموعہ بھی مختلف ومتنوع تحریروں پر مشتمل ہے، یعنی لغوی واستعاراتی مفہو م میں مجموعہ پریشانی ہے۔ کچھ اطمینان کی بات بس یہ ہے کہ مجموعہ پریشانی کی سیر،پریشانی کا باعث نہیں ہوا کرتی۔
اس کتاب میں شامل تحریریں ،میری دیگر تحریروں سے ایک داخلی رشتہ تو رکھتی ہیں ، مگر یہ کئی اعتبار سے مختلف بھی ہیں۔ کسی مصنف کی مختلف تحریروں میں داخلی رشتہ نہ تو واضح اور صریح ہوتا ہے ، نہ جملہ تحریروں کی ہر ہر سطر، ہرہرخیال ، دلائل کے کسی یکساں نظام میں لازماً موجود ہوا کرتا ہے۔ یہ کہیں تو مصنف کے عمومی ادراک میں کارفرما ہوتا ہے ، کہیں کچھ چیزوں کے سلسلے میں مصنف کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے اور کہیں موضوعات ومسائل کے ضمن میں اس کے ترجیحی تصورات کا آئنہ دار ہوا کرتا ہے۔سچ یہ ہے کہ ایک مصنف کی متنوع تحریروں میں داخلی رشتے کو دریافت کرنا پڑتا ہے۔ چناں چہ یہ تحریریں ، جنھیں کسی خاص صنف میں رکھنا مشکل ہے،میری تنقیدی تحریروں سے مذکورہ داخلی یعنی نیم واضح رشتہ تو رکھتی ہیں، مگر انھیں میری تنقیدی تحریروں کا خلاصہ نہیں کہا جاسکتا۔زیادہ سے زیادہ یہ میری تنقید کا ضمیمہ کہی جاسکتی ہیں، ان کا متبادل نہیں ۔ ہم جانتے ہیں، ہر ضمیمہ کسی تحریر پر اضافہ ہوتا ہےمگر ساتھ ہی وہ اس تحریر سے الگ بھی ہوتا ہے۔ یہ تحریریں بھی الگ قسم کی ہیں، اور یہی ان کے الگ کتابی صورت میں سامنے لانے کا جواز بھی ہے۔ تاہم اس کتاب میں شامل کئی تحریریں ، تنقید کا ضمیمہ بھی نہیں ہیں، وہ کہیں شخصی یادیں اور تاثرات ہیں اور کہیں تخلیقی اظہار کی مساعی ہیں۔
زیر نظر کتا ب میں یک جا کی گئی تحریروں کو میری دیگر تحریروں سے الگ رکھنے کی کی کچھ وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ میں نے اپنی تنقید کو’’ منظم ومدلل اور مکمل حوالہ جاتی تحریر ‘‘ میں ڈھالا ہے۔ ایک ایک بات کو محققانہ ذمہ داری کے ساتھ کہنے کی کوشش کی ہے۔ آرا قائم کرتے ہوئے، ممکنہ متبادل و مخالف آرا کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ وہ موضوع، ادب کی تاریخ اور تنقیدی روایت میں جن تصورات اور(جمالیاتی ) اقدار کے ساتھ موجود تھا، ان کی تنقیح کی ہے۔ علاوہ ازیں ، فکشن و شعر کی تعبیر جن پیمانوں سے کی جارہی تھی، ان کا محاکمہ بھی کیا ہے،اس یقین کے ساتھ کہ تعبیر کے پیمانے کے بدلنے سے ،متن کی معنویت بدل جاتی ہے۔ یو ں سمجھیے، میں نے اپنی تنقید میں ایک قسم کی خردمندانہ اولوالعزمی شامل کی ہے، اور کئی بار ان لوگوں کے غضب کو دعوت بھی دی ہے جو ایک زمانے کی تنقیدی آرا کو کم وبیش الوہی صداقت کی مانند سمجھتے ہیں،کیوں کہ ان کے ساتھ بزرگانہ استناد وابستہ ہوتا ہے ۔ اس سب کی مبہم سی جھلک ان تحریروں میں ضرور نظر آئے گی ، اور یہ احساس دونوں قسم کی تحریروں میں مشترک محسوس ہوگا کہ انسانی قلم سے لکھا گیا کوئی لفظ ، تاریخ سے ماورا نہیں ہوتا ،اورا س بنا پر انسانی تفہیم سے بالاتر نہیں ہوتا،بایں ہمہ یہ تحریریں خاصی مختلف ہیں اور جداگانہ مزاج ومنہج رکھتی ہیں۔یہ میرے تنقیدی مقالات کے مقابلے میں مختصر ہیں۔ان کے دلائل مختصر ہیں۔کہیں کہیں تاثرات بھی ان میں آگئے ہیں۔ اکثر جگہوں پر تفصیل کے بجائے، اشارات ہیں ۔ ان تحریروں کے جداگانہ مزاج کا بڑاسبب یہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا کے لیے لکھی گئیں۔ میڈیم ، لکھنے کے عمل اور طریق کار پر اثرانداز ہوتا ہے۔ کتاب اور سوشل میڈیا کے لیے لکھی گئی تحریریں ، ایک مزاج کی نہیں ہوسکتیں۔
اس کتاب میں شامل تحریریں،اب تک میری کسی دوسری کتاب میں شامل نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی کتاب میں شامل کرنے کے خیال سے لکھی ہی نہیں گئی تھیں۔برادر م ڈاکٹر سرور الہدیٰ کا اصرار نہ ہوتا تو انھیں یک جا کرنے کا خیال بھی نہ آتا۔میں نے اپنی کتابوں میں شامل کچھ تحریروں کے اقتباسات سوشل میڈیا پر ضرور ٹانکے، مگر مجھے مسلسل یہ خیال رہا ہے کہ سوشل میڈیا اور کتاب کی دنیائیں الگ الگ ہیں۔ کتاب کے قاری اور سوشل میڈیا کے ’استعمال کنندہ ‘( user) میں فرق ہے۔ دونوں مختلف توقعات اور جداذہنی کیفیات و ترجیحات کے ساتھ کسی تحریر کی جانب بڑھتے ہیں۔ دونوں کے اخذِ معنی کا عمل بھی مختلف ہوتا ہے۔ پہلا فرق یہ ہے کہ کتاب کا قاری ، ایک وقت میں ایک ہی جگہ ، ایک شے (کتاب)کے ساتھ موجود ہے۔ وہ کتاب اس یقین کے ساتھ اٹھاتا ہے کہ اس کے پاس وقت کی فراوانی ہے یا غیرخلل پذیر ذہنی فرصت ہے۔ جب کہ سوشل میڈیا اپنے صارف سے ،ایک قاری کے لازمی واساسی کردار کا تقاضا نہیں کرتا ہے۔استعمال کنندہ/صارف اور قاری میں اساسی نوعیت کا فرق ہے۔ قاری کا کردار صرف ایک عمل(جو یک رخا نہیں، تہ دار ہے) تک محدود ہے: پڑھنے، سمجھنے،متن کی قائم کی گئی کائنات پر غوروفکرکرنے، ذہنی مکالمہ قائم کرنے ، متن سے سوال وجواب کرتے رہنے تک ۔ جب کہ صارف کا کردار بہ یک وقت کئی اعمال کو محیط ہے۔ اس کا کردار متعدد ومتنوع اشیا کو معمولی وقفے سے دیکھنے، سننے ، پڑھنے ، فوری رائے اور ردّ عمل ظاہر کرنے ، پوسٹیں شیئر کرنے، اشتہارات دیکھنے،مصنوعات خریدنے،سبسکرائب کرنے تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک طرح کا سرسری پن، عجلت، تیز رفتار نظرِ اجمال (سکرولنگ) ، نئے پن کی ان تھک تلاش، ایک ہی وقت میں اندوہ ولطف، دہشت وشہوت کی چیزوں کا اجمالی و سطحی تجربہ اور پھر فراموشی، سوشل میڈیا کے صارف کے مزاج کا حصہ بنتی جاتی ہے۔ وہ گہرائی کا نہیں، سطح کے خروش اور تنوع کی تلاش کرتا ہے۔اس کی لغت میں مستقل ، دوام ، دیرپا قیام ا و ر ارتکاز جیسے الفاظ نہیں ہوتے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کنندہ کا یہی مزاج ، سوشل میڈیا پر موجود تحریروں کے ضمن میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی توجہ کا دورانیہ محدود ہوتا ہے۔ اسے ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ پر جست لگانے کی عجلت ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایک پوسٹ کو دو تین منٹ سے زیادہ پڑھنا محال ہوتا ہے۔آٹھ دس منٹ تک کسی تحریر کو پڑھنا ،اسے سخت الجھن میں مبتلا کردیتا ہے۔ عجلت کا یہ احساس ،اس کے ذہنی عمل سے ارتکاز ، غور وفکر ، تحریر سے ذہنی مکالمے جیسی چیزوں کو خارج کردیتا ہے۔ چناں چہ سوشل میڈیا کے مصنف ( اگر اسے مصنف کہا جاسکے ) کو ان سب باتوں کا خیال رہتا ہے،اور ا س کے لکھنے کے عمل پر یہ اثرانداز ہوتا ہے۔قاری اساس تنقید میں، وولف گینگ آئزر کا پیش کیا ہوا، مضمر قاری (implied reader) کا تصور ملتا ہے۔ یعنی وہ قاری جس کاخیال دوران ِ تخلیق مصنف کو رہتا ہے۔ اس قاری کی ادب سے متعلق توقعات،مصنف کے موضوعات کے انتخاب، پیش کش، اسلوب پر اثرانداز ہوتی ہیں۔گویا قاری اپنے اوّلین لمحے سے مصنف کے ساتھ ہی نہیں ہوتا، اس کے تخیل کی حدا ورقلم کے رخ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا کا مصنف ، کم سے کم لفظوں میں اپنی بات کہنے کو لازم خیال کرتا ہے۔اگر اسے زیادہ کہنا ہو تو اس کے لیے ایک ایسا اسلوب اختیار کرتا ہے جس میں ’کم لفظوں میں ‘ زیادہ کہنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ چوں کہ سوشل میڈیا، لمحہ حاضر کی ایک ایک لرزش کو شدت سے محسوس کرتا ہے، اس لیے وہ ہر واقعے پر فوری ردّعمل ظاہر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کی لغت کا سب سے اہم الفاظ ’ٹرینڈ‘ اور ’وائرل‘ ہیں۔ یہ دونوں الفاظ سوشل میڈیا کی اصل ، قوت ، اختیار اور غیر معمولی اثر کو واضح کرتے ہیں۔ جسے بادریلا نے ہائپر رئیلٹی کہا تھا،یعنی وہ چیز جو حقیقی نہ ہو مگر حقیقی محسوس ہو،اورا س کا اثر حقیقت سے بھی بڑھ کر ہو۔ اسی طرح جسے مابعد سچائی (پوسٹ ٹروتھ ) کہا گیا ہے، یعنی ایسی وضع کی گئی سچائی ،جس کا کوئی واقعی سرچشمہ(point of reference) کہیں موجود نہ ہو، وہ خود مکتفی ہو،مگراس کا اثر سچائی سے بڑھ کر ہو؛ ان دونوں کے اظہار کا سب سے بڑا پلیٹ فارم یہی سوشل میڈیا ہے۔ ’ٹرینڈ‘ اور ’وائرل ‘ کو بھی کسی بات کے واقعی ، حقیقی ہونے سے غرض نہیں ہوتی۔ سچائی، سوشل میڈیا کا مسئلہ نہیں۔سوشل میڈیا کا ٹرینڈ اور وائرل ، ہائپر رئیلٹی اور مابعد سچائی کا ملغوبہ ہیں۔ اس کی طاقت، اس کے چھاجانے، پھیل جانے، زیادہ سے زیادہ سائبر سپیس ہڑپ کرنے اور فرضی یا حقیقی مدمقابل کو اس سپیس سے بے دخل ہوجانے یا رسوا کردینے میں ہے۔وبا کی مانند پھیلنے کا استعارہ (وائرل)،سوشل میڈیا کے لیے بالکل درست ہے۔
یہ طاقت ، ظاہر ہے سچائی کی نہیں، سائبر سپیس میں ’ غلبہ آورموجودگی ‘ کی ہے ۔دوسری طرف سوشل میڈیا کا ’ٹرینڈ‘ اور ’وائرل ‘ ، ہجوم کا سائبر متبادل ہیں۔ یہ قریب قریب ایک جیسی نفسیات کو جنم دیتے ہیں۔ ہجوم میں شامل لوگ اور سوشل میڈیا کے ٹرینڈ اور وائرل کی رو میں بہنے والے تحقیق وتفکر کو معطل کرتے اور دوسروں کی اندھا دھند تقلید کرتے ہیں، ایک ایسی جذباتیت کا شکار ہوتے ہیں ، جو ہر حد کو روندنے پر تیار رہتی ہے ۔ سوشل میڈیا کا صارف بہت کچھ ایسا صَرف کرتا ہے ، جو سچ نہیں ہوتا، مگر جسے وہ انھی جذبات کے ساتھ قبول کرتا ہے ،جو کسی واقعی سچ کے لیے مخصوص سمجھے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے مصنف کو ہائپر رئیلٹی ، مابعد سچائی اور ٹرینڈ اور وائرل کے تنقیدی جائزے کے بعد کچھ لکھنا ہوتا ہے۔ ایک مصنف ،ہجوم ( حقیقی یا سائبر) کی نفسیات کو سمجھنے والا، اس نفسیات کے اثرات کا جائزہ لینے والا ہوتا ہے، نہ کہ اس میں بہہ جانے والا ۔یہ عمل تلوارکی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔
بہ طور مصنف ،سوشل میڈیا پر موجود رہنا، آسان نہیں۔ یہ درست ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر شخص کو اپنی بات کہنے اور لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچانے کی ایک ایسی سہولت حاصل ہے،جس کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں تھا۔ سوشل میڈیاپس ماندہ ،درماندہ ، بے آواز ، محروم طبقوں کا سہار ا بھی بناہے؛ سوشل میڈیا نے ان کی صدیوں پرانی خاموشی کو گویائی کا موقع دیا ہے۔ انھوں نے اپنی بات اپنی زبان میں ، اپنے انداز میں کہنا شروع کی ہے۔اپنی زبان میں، اپنے منتخب پیرائے میں ،اپنی بات کہنے سے انھیں صرف طاقت ہی نہیں ملی، انھیں سائبر سپیس کے ساتھ سوشل سپیس میں ’جگہ ‘ بھی ملی ہے۔ ان کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے؛مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔اپنی بات کہنے کی آزادی سے پہلے ، ’اپنی بات ‘ کا مرحلہ آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اظہار کی آزادی بعد میں ہے، ذہن وخیال کی آزادی پہلے ہے۔بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ذہن میں ہر خیال خود آدمی کی آزادانہ منشا سے پیدا ہوتا ہے؟ہمیں باہر کی زنجیریں ، ریاست کے سخت گیر قوانین، سماج کے محاسبے کی مختلف صورتیں آسانی سے دکھائی دے جاتی ہیں، مگر ہمارے ذہن جن نظریاتی ، عقیدتی ، تعصباتی زنجیروں کے ساتھ ، کئی طرح کے خوف، نفسیاتی پیچیدگیوں میں جکڑے ہیں، ان کی طرف ہماری نگاہ شاید ہی جاتی ہو۔ ہم انھیں زنجیریں سمجھتے ہی نہیں، انھیں اپنے نفسیاتی تحفظ کی ناگزیر صورتیں قرار دیتے ہیں۔ چناں چہ ان پر سوال کے بجائے، نہ صرف انھی کے تحت اور اندر سوچتے ہیں، بلکہ ان کا مسلسل دفاع بھی کرتے ہیں۔حقیقت میں،ہم ذہنی آزادی ہی کا خوف رکھتے ہیں۔ ہم اپنی محفوظ ذہنی پناہ گاہوں پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالنے کی شاید ہی جرأت کرتے ہوں، جس کے بغیر ہم ذہنی آزادی کا تجربہ کر ہی نہیں سکتے۔ ذہنی آزادی کے بنیادی سوال کو ، سوشل میڈیا پر حاصل اپنی بات کہنے کی آزادی کے خیال سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت سوشل میڈیا پر جتنانفرت انگیز مواد ،ہر لمحے ظاہر ہورہا ہے اور وائرل بھی ہورہا ہے، اسے ذہنی آزادی ہی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
علاوہ بریں، سوشل میڈیا دو دھاری تلوار ہے۔ یہ آزادی دیتا ہے تو اس کی قیمت بھی وصول کرتا ہے، کچھ صورتوں میں توبھاری قیمت۔
ابھی یہ احساس کم ہے کہ سوشل میڈیا ’برقی نوآبادیات ‘( ڈیجٹیل کولونائزیشن) کابھی حامل ہے۔ یہ ایک ایسا الگو ردم رکھتا ہے کہ آپ کی لکھی ہوئی ، پسند کی گئی ، شیئر کی گئی،تبصرہ کی گئی ایک ایک بات درج ہوتی چلی جاتی ہے؛ آپ کے کسی چیز کو دیکھنے ،پڑھنے ،اس پر رکنے کے دورانیے کاریکارڈ مرتب کر لیتا ہے۔ آ پ کی آواز کے ساتھ ، کسی بھی چیز ،شخص ، ادارے ،نظریے، متن ، کتاب سے متعلق آپ کی،پسند ، ناپسند، رائے، تبصرے کو بھی اپنے الگوردم میں محفوظ کرتا جاتا ہے ،منکر نکیر کی مانند؛اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ، برق رفتاری سے آپ کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ آپ کو آپ سے بہتر سمجھتا ہے۔ ہم انسان ،اپنا اظہار راست کم اور اپنے تبصروں ، دوسروں کے لیے کہی گئی باتوں ، اپنے وقت کے مخصوص مصرف اور اس کے دورانیے کی صورت زیادہ کرتے ہیں، نیز ہم اپنے بارے میں کچھ باتیں بھو ل جاتے ہیں یا ان کا انکا ر کرتے ہیں۔سوشل میڈیا اور آپ کا موبائل فون آپ کی ایک ایک بات کا غیر مشتبہ گواہ ہے،منکر اور نکیر کی طرح ۔ غیر خطا پذیر یادداشت رکھنےو الا اور اسے ٹھیک وقت پراور ضرورت پڑنے پر استعمال کرنے والا گواہ۔ ایسا گواہ جو آپ کو سر عام جھٹلا بھی سکتا ہے اور آپ کو رسوا بھی کرسکتا ہے ۔علاوہ بریں سوشل میڈیا کی گواہی تجارتی ،سیاسی ،نظریاتی میدانوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ ہمارے بارے میں سوشل میڈیا کے قائم کیے گئے علم کو باقاعدہ بیچا جاتا ہے۔ ہم صارفیت ، جمہوریت ، عسکریت ،یہاں تک کہ شدت پسندی میں بروے کار آتے ہیں۔
استعمار زدگی (کولونائزیشن ) کی بنیادی منطق ہی یہ ہے کہ ’پہلے کسی شے کاعلم ،پھر اس پر اختیار حاصل کرو اور بعد میں اپنے مقاصد میں بروے کار لاؤ‘۔ اس اصول کے تحت ،سوشل میڈیا اورا ب مصنوعی ذہانت ہمیں یعنی ہمارے ذہن کو اپنے استعمار ا ور اختیار میں لے آتی ہے۔ڈیجیٹل نوآبادیات،انسانی ذہن کو اپنی نو آبادی بناتی ہے۔بلاشبہ سوشل میڈیا کو آزادانہ اظہار کے ایک عام دستیاب ، جمہوری فورم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،یہ غلط نہیں ہے مگریہ آدھا سچ ہے۔اس کی جمہوریت میں آمریت کے سو حربے ہیں۔ان حربوں سے آگاہ ہونا لازم ہے،وگرنہ آمریت، تھوڑی بہت جمہوریت کو بھی جہنم میں بد ل سکتی ہے۔
یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں کیا کیا کچھ کہنے کی آزادی دیتا ہے اور کس سے باز رہنے پر مجبور کرتا ہے؟ نیز یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ کب بولنا لازم ہوتا ہے اور کب نہیں؟
سوشل میڈیا کا ہر صارف یہ بات محسوس کرتا ہے کہ اسے ہر وقت کچھ نہ کچھ کہنے اور شیئر کرنے کی تحریک ملتی ہےسوشل میڈیا اپنے صارف کے اندرہر طرح کے اظہار اور ہر نوع کی اشیاد ر اشیا کے صَرف کی ختم نہ ہونے والی بھوک پیدا کرتا ہے۔وہ اپنے صارف کی ذات کے ایک ایک سچ، شوق، سرگرمی، خیال، رائے، تجربے ،اگر یہ نہ ہوں تو پرانی یادوں کو شیئر کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔چناں چہ صارف ،سوشل میڈ یا پر ، ہر وقت کچھ نہ کچھ شیئر کرنے کے لیے باقاعدہ اضطراب محسوس کرتا ہے۔یہ اضطراب کی ایک نئی قسم ہے۔وجودی مفکروں خصوصاً ہائیڈگر نے اضطراب کو وجود کے پرشکوہ عناصر سے متعارف ہونے کا ذریعہ کہا تھا۔ جب کہ سوشل میڈیا کاپیدا کردہ اضطراب، لالچ اور خوف کےالجھے ہوئے جذبات کاآمیز ہ ہے۔فالورزبڑھانے، لائیکس، کمنٹس کے ذریعے شہرت بڑھائے چلے جانے کا لالچ۔ اور یہ خوف کہ اگر دو دن سوشل میڈیا پر کچھ شیئر نہ کیا تو گویامعدوم ہوجاؤں گا۔ سکرین سے معدومی کا یہ خوف، دنیا سے معدومی کے ڈر کی صورت اپنا اظہار کرتا ہے۔اس لیے کہ سوشل میڈیا صارف رفتہ رفتہ ،دنیا میں اپنے ہونے اور اپنے جداگانہ وجود کا اثبات ، سکرین پر اپنی مسلسل موجود گی کی صورت کرنے لگتا ہے۔اس کے لیے دنیا بس وہی ہے جو سکرین پر ظاہر ہورہی ہے،اور وہ اسی دنیا کا شہری (netizen)بننے میں راحت اور کچھ صورتوں میں لذت محسوس کرنے لگتا ہے(اس لیے کہ اسے دوسروں کی فوری توجہ حاصل ملتی ہے جس کا تجربہ وہ حقیقی زندگی میں کم کم کرتا ہے) ۔اپنی معدومی کے خوف پر غالب آنے کی کوشش کے طور پر وہ کچھ نہ کچھ ، سکرین پر لکھنے یا محض اپنی تصویریں ، دل چسپ عنوانات کے ساتھ شیئر کرنے لگتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ عام طور پر حقیقی داخلی تحریک کے بغیر بھی لکھتا ہے ۔کسی حقیقی مسئلے پر رائے ظاہر کرنے کی ذمہ داری کے حقیقی احساس کے بغیر لکھتا ہے۔بیش تر اوقات وہ لکھتا نہیں ،گھسیٹتا ہے۔ کئی بار وہ گھسیٹتا نہیں، بڑبڑاتا ہے ۔ وہ محض سکرین سے معدومی کے اندیشے پر قابو پانے کی کوشش کے طور پر لکھتا یا بڑبڑاتاہے۔ یہ کوشش ہی حقیقت میں اسے ذہنی آزادی سے محروم کرتی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے جبر کے تحت اظہار کرتا ہے ۔ اس کے ذہن میں سب خیالات،خود اس کے اپنے حقیقی وجود کی تشویش وتجربے سے پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے ذہن کی باگ ،کسی اور کے ہاتھ میں عام طور پر ہوا کرتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے اس حقیقت پر کہ وہ جبر کا شکار ہے، اضطراب محسوس نہیں ہوتا۔فاؤسٹ نے اپنی روح گروی رکھی تھی، یہ اپنے ذہن کی آزادی کا سواد کرتا ہے،دام وام پر جھگڑا کیے بغیر۔سوشل میڈیا پر آنے سے پہلے، اس کے پاس ‘سماجی ذات ‘ تھی،اب اس پر ، ڈیجیٹل ذات کی ایک نئی تہ چڑھ آئی ہے۔ وہ پہلے بھی آزادی سے محروم تھا، اب مزید محروم ہے۔آئرنی یہ ہے کہ وہ آزادی سے ،بہ صد مسرت محروم ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ذہنی آزادی ، ہر وقت ، ہر بات کہنے کی آزادی سے عبارت نہیں ہے۔اپنی حقیقی منشا سے ،یعنی ہر طرح کے خفی وجلی جبر،ہر طرح کی، راست ،بالواسطہ کنڈیشننگ سے آزاد ہوکر، خود اپنے شعور سے اخذ کیے گئے تحفظ واعتماد کے ساتھ سوچنے ، یا نہ سوچنے ،کہنے یا نہ کہنے کی آزادی، ذہنی آزادی ہے۔دوسری طرف سوشل میڈیا ، کچھ موضوعات ومسائل پر لکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے پاس حساس موضوعات کی ایک اپنی فہرست ہے اور کچھ ممالک بھی ایک اپنی فہرست بناتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے صارف کی آزادی کا اصل امتحان، ان ممنوعہ فہرستوں کو سمجھنا ،ان میں چھپے مقتدر قوتوں کے مفادات کو پہچاننا اور پھر جرآت اور سلیقے سے، بروقت وبر محل بولنے کا فیصلہ کرنا ہے۔
سوشل میڈیاکا مصنف، مذکورہ بالا صورتِ حال کو سمجھے اور اس کےسلسلے میں ایک لائحہ عمل بنائے بغیر موجود نہیں رہ سکتا۔(سوشل میڈیا کے اصارف اور مصنف میں فرق کیا جانا لازم ہے)۔ یہ الگ بات کہ ڈیجیٹل استعماریت، استعماریت کی نفیس مگرمہلک صورت ہے، اورا س کوسمجھنا ممکن ،مگر اس سے بچنا آسان نہیں ہے۔بازار سے گزرتے ہوئے،خریدار بننے سے انکار آسان نہیں ہے۔تاہم اس سب کا علم ہونا ضروری ہے۔ جبرو استعمار اور جہالت کا امتز اج ،سب سے مہلک ہوا کرتا ہے۔
اس مجموعے کی تحریریں اردو زبا ن وادب کی کچھ ویب گاہوں کے لیے لکھی گئیں یا فیس بک کے لیے۔ویب گاہوں کی تحریروں میں ذرا سی طوالت ہے، فیس بک جس کی متحمل نہیں۔اب میں ویب گاہوں کے بجائے راست اپنی فیس بک کی دیوار پر لکھتا ہوں۔
میں نے سوشل میڈیا پر کئی موضوعات پر لکھا ہے۔یہ سلسلہ 2016 سے باقاعدہ شروع کیا تھا۔ سماجی ، ادبی ، لسانی،عالمی ، قومی ، تاریخی ، ماحولیات ، مذہبی شدت پسندی جیسے مسائل پر۔ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے مصنف ہونے کا ایک مطلب ہے، اپنی تحریروں کو اپنے زمانے کا گواہ بنانا۔اس زمانے میں بھی مصنف ہونے کا یہ مطلب برقرار ہے۔ ان تحریروں کا ایک حصہ ، اسی گواہی پر مبنی ہے، تاہم میں نے اس گواہی کو ایک ادیب کی گواہی ہی بنانے کی کوشش کی ہے۔ ادیب کی گواہی کیا ہے؟ سماج میں ہونے والی ہراس تبدیلی کو محسوس کرنا ،اس تبدیلی کی ماہیت، مقصد اور رخ کو سمجھنا، یہ جاننے کی کوشش کرناکہ وہ تبدیلی کس کی طاقت اور نفع میں اور کس کے مصائب میں اضافہ کررہی ہے۔نیز مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان مصائب کے ذمہ داروں کی ملامت کرنا،تاہم ایک ایسے اسلوب میں جو چیختا ہوا نہ ہو۔اس اسلوب کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ آپ کو اپنی بات کہنے کا موقع ملتا رہے۔ تاہم ادیب اپنے زمانے کا گواہ ہونے کے علاوہ، انسانی ہستی کے اسراراور تہذیب ِانسانی کے حاصلات کا عارف اور محافظ بھی ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر لکھتے ہوئے میں نے مسلسل زبان ، ادب ، تاریخ ، فکر یات پر لکھنے کی دانستہ کوشش کی ہے۔ محض لمحہ حاضر کے واقعات پرلکھنے سے ، آپ انسان ، تاریخ ، تہذیب کو شکستہ اور تخفیف پر مبنی تصور کرتے ہیں۔ آدمی ،سماج ، تاریخ ، تہذیب کا سچ، ایک دن یا ایک عہد میں ظاہر نہیں ہوتا۔ لہٰذا میں نے کوشش کی کہ لمحہ حاضر پر مرتکز سوشل میڈیا پر ان ’خالص ادبی و فکری ولسانی ‘ مسائل پر لکھتا رہوں،جن کی حیثیت مستقل سوالات ومباحث کی ہے۔ وہ تحریریں بھی ا س کتاب کا حصہ ہیں۔ میں نے اپنی جملہ تحریروں میں ادب کو بہ ہر حال ’مرکز ‘ میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ صرف اسلوب میں نہیں،مسائل کی حسیت اور محاکمے میں بھی۔
سوشل میڈیا پر ادبی تحریریں لکھنا اور شائع کرنا، ایک نیا تجربہ ہے۔ یہ اخبارات ورسائل میں اپنی تحریریں شائع کروانے سے بالکل مختلف ہے۔ پہلا فرق تو وقت کا ہے۔پہلے آپ لکھتے تھے۔ ای میل یا زمینی و ہوائی ڈاک سے اپنی تحریریں بھیجتے تھے۔ وہ کچھ دنوں ، ہفتوں اور بعض اوقات مہینوں بعد شائع ہوتی تھیں۔ آپ کے لیے انتظار معمول کی بات تھی۔ تحریر اور اس کی اشاعت میں وقفہ، آدمی میں صرف ٹھہراؤ، آرزو مندانہ انتظار کی اہلیت ہی پیدا نہیں کرتا تھا، خود اپنی تحریر سے ایک جذباتی فاصلے کو بھی جنم دیتا تھا۔ نیز اخبار اور رسالے میں تحریر ،ادارت کے بعد شائع ہوا کرتی تھی ۔ اخبار اور رسالے میں شائع ہونے والی تحریر کی ذمہ داری ،مصنف اور مدیر میں بٹ جایا کرتی تھی۔ چناں چہ مدیر آپ کی تحریر کا ہر ہر پہلو سے ناقدانہ جائزہ لینے، ضرورت پڑنے پر تبدیلی وترمیم کرنے یا تجویز کرنے کے بعد شائع کیا کرتا تھا۔ مصنف کی کسی کوتاہی کی تلافی کے لیے مدیر موجود ہوا کرتا تھا۔ سوشل میڈیا نے ایک تو تحریر سے مصنف کا جذباتی فاصلہ ختم کردیا ہے، دوسری طرف مدیر کا کردار ۔ نئے مصنفوں کو سوشل میڈیابہت لبھاتا ہے کہ ان کے لیے کسی تحریر کے مکمل ہونے کا لمحہ ہی اس کی اشاعت کا لمحہ ہے، اور اگلے ہی لمحے وہ پڑھا اور سراہا جانے بھی لگتا ہے،اور اس بات کی اہمیت باقی نہیں رہی کہ پڑھنے اور سراہنے والے کون ہیں ،باذوق و صاحب فہم ہیں یا نہیں۔ یہ چیز نئے لکھنے والوں کو بہ طور مصنف کتنا فائدہ پہنچاتی ہے، اس کا جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہے۔ ایک بات بالکل واضح ہے، کوئی شخص مسلسل محنت وریاضت ، اپنے کام پر نظرثانی ، ادب کی روایت، پیش روؤں ، مستند سینئر معاصرین سے اکتساب اور خود اپنی روح میں غوطہ زن ہوئے بغیر ایک مصنف ہونے کا اعتبار حاصل نہیں کرسکتا۔ کوئی بھی صلاحیت پیدائشی ہوسکتی ہے، مگر اس کے اظہار میں جمال ،نفاست اورزیرکی؛ اکتساب اور مشق سے آتی ہے۔









