تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پیر کو کہا ہے کہ ایرانی افواج نے ان کے بقول ’’دشمن افواج‘‘ کو جنوبی ایران کے ساحلی پانیوں سے پیچھے دھکیل کر بحیرۂ عرب تک پہنچا دیا ہے اور جلد انہیں وہاں سے بھی نکال دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ ایران بھر میں مختلف سطحوں پر تیاری کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس میں مسلح کارروائی میں حصہ لینے کی آمادگی بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس صورت حال کو ایسی محاذ آرائی قرار دیا جس میں، ان کے مطابق، ایران اپنے مخالفین پر غالب آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مخالفین جس ماضی کی واپسی کے خواہاں تھے، وہ دور گزر چکا ہے اور دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔
خامنہ ای کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان عسکری کشیدگی جاری ہے، جبکہ ثالث جنگ بندی کے لیے مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔
امریکا ایران جنگ بندی مذاکرات کی بحالی کے لیے جوہری سمجھوتے کی کوششیں
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ثالث ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کچھ رعایتیں دے تاکہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
یہ سفارتی کوشش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا شامل تھا۔
ثالث اس کوشش کو مشکل قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایران نے اب تک اپنے جوہری پروگرام پر رعایت دینے کے بہت کم اشارے دیے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران سفارت کاری کے لیے تیار ہے، تاہم فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں جواب دینے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران دوبارہ جنگ شروع ہونے اور انتہائی درجے کی کشیدگی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن سفارت کاری کا راستہ بھی کھلا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ امریکی صدر ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ مذاکرات یا دوبارہ تصادم میں سے کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔
عرب ثالثوں کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد تہران نے مزید کوئی رعایت نہیں دی۔ دوسری جانب خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات میں پیش رفت سے قبل امریکا سے رعایتوں کا خواہاں ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی، جن کا ملک واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے، نے تنازع کو تیزی سے پیچیدہ ہوتی ہوئی صورت حال قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ امریکا جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی جانب واپس آئے۔ اس انتظام میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بعد ازاں جوہری مذاکرات شروع کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی، بیرون ملک منجمد اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی بحالی اور امریکی ناکہ بندی کے خاتمے جیسے اقدامات شامل تھے۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اب اس مفاہمت کی جانب واپس جانے کے خواہاں نہیں۔ واشنگٹن نے ناکہ بندی برقرار رکھتے ہوئے ایران کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔
مذاکرات میں شریک ایک سینئر مشرقِ وسطیٰ کے عہدیدار کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتا کر سکتا ہے، لیکن وہ اس بات کی واضح ضمانت چاہتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کے بعد اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کرے گا۔
یمنی حکومتی افواج کے تعز میں حوثی ٹھکانوں پر حملے
دوسری جانب یمن میں جاری تنازع میں بھی شدت برقرار ہے۔ پیر کو یمنی حکومتی افواج نے جنوب مغربی شہر تعز کے مغرب میں حوثی ٹھکانوں پر بمباری کی۔
تعز ملٹری ایکسس کے میڈیا مرکز کے مطابق الربیعی کے علاقے میں حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی فوری تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سے ایک روز قبل یمنی حکومتی افواج نے کہا تھا کہ انہوں نے تعز، لحج اور الضالع میں حوثیوں کے اجتماعات اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
آبنائے ہرمز سے قطر سے منسلک ایل این جی جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ
امریکا ایران تنازع جاری رہنے کے باوجود گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے قطر انرجی سے منسلک مائع قدرتی گیس کے جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔
کے پلر کے اعدادوشمار کے مطابق اگست میں ممکنہ ایرانی حملوں کے خدشات کے باعث قطر سے منسلک ایل این جی جہازوں یا راس لفان گیس ٹرمینل سے سامان لے جانے والے بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے کوئی واضح نقل و حرکت ریکارڈ نہیں ہوئی تھی۔ تاہم یہ امکان موجود ہے کہ بعض جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے اس راستے سے گزرے ہوں۔
ستمبر کے دوران ایل این جی ٹینکروں کی واضح نقل و حرکت دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔
ایل ایس ای جی اور کے پلر کے اعدادوشمار کے مطابق راس لفان سے ایل این جی لے جانے والا گیس لاگ اسکاگن 27 ستمبر کو سری لنکا کے قریب دیکھا گیا۔ یونان کی گیس لاگ ایل این جی سروسز کے زیر انتظام یہ جہاز تنازع شروع ہونے کے بعد سے خلیج کے اندر موجود تھا اور قطر سے متحدہ عرب امارات اور کویت تک گیس پہنچاتا رہا تھا۔ اسے آخری مرتبہ 20 ستمبر کو خلیج کے اندر دیکھا گیا تھا۔
قطری ایل این جی لے جانے والا ایک اور جہاز الشمال 19 ستمبر کو آبنائے ہرمز کے اندر دیکھا گیا، جبکہ 24 اور 25 ستمبر کے قریب وہ ہرمز سے باہر نظر آیا۔ سی پیک میری ٹائم کے زیر انتظام یہ جہاز بعد ازاں جنوبی بھارت کے قریب سفر کر رہا تھا۔
قطر سے منسلک مزید دو جہاز، مسیمیر اور الغشامیہ، بھی راس لفان سے ایل این جی لے کر خلیج سے روانہ ہوئے۔ مسیمیر 23 ستمبر کو عمان کے قریب دیکھا گیا، جبکہ الغشامیہ نے 24 ستمبر کو بھارت کی دہیج بندرگاہ پر اپنا سامان پہنچایا۔
السامریہ 17 ستمبر کو آبنائے ہرمز سے باہر دیکھا گیا۔ اسی روز سی پیک میری ٹائم کے زیر انتظام الداین بھی اس آبی گزرگاہ سے باہر آیا، جو چین کی کاؤفیدیان بندرگاہ کے لیے سامان لے جا رہا تھا۔
قطر سے منسلک ایل این جی جہازوں کی یہ تازہ نقل و حرکت ظاہر کرتی ہے کہ جاری علاقائی تنازع کے باوجود تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے گیس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ بڑھ رہی ہے۔









