امریکا اور اسرائیل نے ۲۸ فروری کو ایران پر مشترکہ حملے کیے، جن کے بعد صدر ٹرمپ نے ’’بڑی جنگی کارروائیوں‘‘ کے آغاز کا اعلان کیا۔ ان حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے گئے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی۔
ایران اور امریکا نے ۸ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اسی ماہ پاکستان نے ۴۷ برس بعد ایران اور امریکا کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات کا اہتمام کیا۔ مذاکرات کا یہ دور کسی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بات چیت مکمل طور پر بھی ختم نہیں ہوئی۔
دونوں ممالک کے درمیان ۲۰ جون کو سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کا ایک اور دور ہوا۔ یہ مذاکرات جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کے بعد منعقد ہوئے۔ اس کے بعد یکم جولائی کو دوحہ میں بھی مذاکرات ہوئے، جہاں ثالثوں نے اس وقت ’’مثبت پیش رفت‘‘ کی امید ظاہر کی۔
تاہم یہ پیش رفت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ۸ جولائی کو امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران پر ایک بار پھر حملے کیے، جس کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی۔









