صرف لذت بھری زندگی کافی کیوں نہیں؟

[post-views]
[post-views]

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ذہن میں ایک مثالی زندگی کا تصور موجود ہوتا ہے۔ کسی پُرسکون ساحل پر وقت گزارنا، درختوں میں گھرا گھر، طویل تعطیلات، اچھا کھانا، موسیقی، سفر اور کام کے دباؤ سے آزادی۔ ہم سخت محنت بھی کسی حد تک اسی امید پر کرتے ہیں کہ کامیابی بالآخر ہمیں ایسی پُرسکون اور آرام دہ زندگی گزارنے کا موقع دے گی۔

لذت میں بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم لذت ہی کو خوشی سمجھنے لگتے ہیں۔

اس تصور کی ایک طویل فکری تاریخ ہے۔ جیریمی بینتھ نے انسانی محرکات میں لذت اور تکلیف کو بنیادی حیثیت دی، جبکہ آسکر وائلڈ نے لذت کی جستجو میں گزاری جانے والی زندگی کو بھرپور انداز میں سراہا۔ اس خیال میں کشش واضح ہے: اگر تکلیف زندگی کو مشکل اور لذت اسے خوشگوار بناتی ہے تو پھر زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی جائے؟

آرتھر شوپن ہاور اس سوال کا قدرے تاریک جواب دیتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان دو بڑے دشمنوں کے درمیان گھرا رہتا ہے: تکلیف اور اکتاہٹ۔ جب ہم تکلیف میں ہوتے ہیں تو اس سے نجات چاہتے ہیں۔ لیکن جب تکلیف ختم ہوجائے اور بنیادی خواہشات پوری ہوجائیں تو ذہن لازماً پُرسکون نہیں ہوجاتا۔ وہ کسی نئی مصروفیت، مقصد یا تحریک کی تلاش شروع کردیتا ہے۔

یہی آرام دہ زندگی کا تضاد ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مشکلات سے آزادی ہمیں مستقل خوشی دے گی، لیکن ایسی زندگی جس میں کوئی مطالبہ، جدوجہد یا چیلنج نہ ہو، بالآخر بے چینی پیدا کرسکتی ہے۔ پھر ہم زیادہ طاقتور تفریحات اور مصروفیات تلاش کرنے لگتے ہیں—سفر، تفریح، خریداری، جوا، تعلقات، تنازعات یا مسلسل کسی نئی چیز کی تلاش۔ یہ چیزیں کچھ وقت کے لیے لطف دیتی ہیں، مگر جلد ہی ان کی کشش معمول بن جاتی ہے اور اکتاہٹ دوبارہ لوٹ آتی ہے۔

جدید زندگی نے اس چکر کو شوپن ہاور کے تصور سے بھی کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ آج ہمارے پاس لامحدود تفریح موجود ہے، ہم براعظموں کے درمیان سفر کرسکتے ہیں، تقریباً ہر چیز فوری طور پر منگوا سکتے ہیں اور مسلسل نئی چیزیں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن فراوانی لازماً اطمینان پیدا نہیں کرتی۔ ہم جتنا زیادہ مسلسل تحریک اور تفریح کے عادی ہوتے جاتے ہیں، اتنا ہی ہمیں مزید تحریک کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے۔

شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم لذت اور تکمیلِ ذات کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں۔

لذت پوچھتی ہے: مجھے کیا اچھا لگے گا؟

تکمیلِ ذات پوچھتی ہے: کیا کرنا واقعی اہم ہے؟

ایک بامقصد زندگی میں لذت ضرور ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ محنت، ذمہ داری، مشکلات اور مقصد بھی شامل ہوتے ہیں۔ بچوں کی پرورش، کسی پیشے میں مہارت حاصل کرنا، کتاب لکھنا، کوئی ادارہ قائم کرنا، علم کی جستجو کرنا یا معاشرے کی خدمت کرنا تھکا دینے والے کام ہوسکتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی مسلسل لذت کی ضمانت نہیں دیتا۔ لیکن یہ انسان کو وہ چیز دے سکتے ہیں جو صرف آرام اور تفریح نہیں دے سکتے: اگلی صبح اٹھنے کی ایک وجہ۔

اسی لیے ریٹائرمنٹ، دولت یا کام سے آزادی خودبخود خوشی کی ضمانت نہیں بنتی۔ انسان کو صرف آرام نہیں بلکہ بامعنی مصروفیت بھی درکار ہوتی ہے۔ ہمیں ایسے مسائل چاہییں جنہیں حل کرنا اہم ہو، ایسے لوگ جن کی ہمیں پروا ہو اور ایسے مقاصد جو ہم سے محنت اور ذمہ داری کا تقاضا کریں۔

ساحل پھر بھی خوبصورت ہوسکتا ہے۔ جنگل اب بھی سکون دے سکتا ہے۔ اچھا کھانا، کوئی سفر یا کچھ وقت بالکل فارغ گزارنا زندگی کو خوشگوار بنا سکتا ہے۔ شوپن ہاور کی تنبیہ کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لذت سے منہ موڑ لیں۔

اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم لذت سے وہ توقع نہ رکھیں جسے پورا کرنے کی صلاحیت اس میں نہیں۔

زندگی کا مقصد شاید کسی مستقل ’’خوشی کی جگہ‘‘ تک پہنچ کر وہیں ٹھہر جانا نہیں۔ ممکن ہے حقیقی خوشی ایسی زندگی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہو جس میں تجسس، تعلقات، ذمہ داری، مقصد اور ایسی جدوجہد موجود ہو جو انسان کو اپنے وجود کا مفہوم دیتی رہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]