دفاعی عہد سے عسکری تعاون تک: ریاض اجلاس مکہ دفاعی اتحاد کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

[post-views]
[post-views]

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشاورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ عملی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ فی الحال توجہ سعودی سرزمین کے تحفظ پر مرکوز ہے، تاہم زیرِ غور عسکری انتظامات مستقبل میں حملوں کے خلاف تینوں ممالک کے مشترکہ ردِعمل کی نوعیت بھی متعین کر سکتے ہیں۔

جمعے کو ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے عسکری سربراہان کا اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تھی۔ سات اگست کو طے پانے والا یہ معاہدہ اب سیاسی اعلانات سے آگے بڑھ کر عسکری تعاون کا عملی ڈھانچہ تشکیل دینے کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنا اجتماعی دفاعی ذمہ داری کا اعلان ہے، لیکن اس عہد کو عملی شکل دینے کے لیے خفیہ معلومات کے تبادلے، عسکری صلاحیتوں میں ہم آہنگی، فوجی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے واضح طریقۂ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔

ریاض میں ہونے والی مشاورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں حکومتوں نے ان عملی تقاضوں پر کام شروع کر دیا ہے۔

تاہم ان اجلاسوں کو یمن کی انصار اللہ تحریک، جسے عموماً حوثی کہا جاتا ہے، کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ نہ تینوں عسکری سربراہان کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں جارحانہ کارروائیوں یا فوجی تعیناتی کا اعلان کیا گیا اور نہ ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی علیحدہ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں ایسی کوئی بات سامنے آئی۔

اس کے بجائے سعودی عرب کو درپیش حملوں کے جواب میں دفاعی تعاون تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

ریاض اعلامیے کی زبان کیوں اہم ہے؟

ریاض اجلاس سے صرف دو ہفتے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ نے مکہ معاہدے کو ایک دفاعی انتظام قرار دیا تھا جس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ ابھی تشکیل پا رہا تھا۔ دفترِ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یمن میں حوثی اہداف کے خلاف پاکستانی کارروائیوں میں شرکت زیرِ بحث نہیں۔

تاہم عسکری سربراہان کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان کی زبان ترجیحات میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

تینوں کمانڈروں نے خفیہ معلومات کے تبادلے، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام پر بات چیت کی۔ انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو فوری طور پر مؤثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

یہ محض روایتی سفارتی یقین دہانیاں نہیں، بلکہ ان شعبوں کی نشاندہی ہے جن میں تینوں ممالک کی افواج عملی تعاون کرنا چاہتی ہیں۔

خفیہ معلومات کا تبادلہ خطرات کی بروقت شناخت بہتر بنا سکتا ہے۔ عسکری رابطہ کاری معلومات کے تبادلے اور حملوں کے جواب کے لیے مشترکہ طریقۂ کار تشکیل دے سکتی ہے۔ اسی طرح دفاعی صلاحیتوں کا انضمام مختلف ممالک کے اہلکاروں، سازوسامان اور تکنیکی نظاموں کو ایک مشترکہ دفاعی کوشش کا حصہ بنا سکتا ہے۔

اصل چیلنج ان وسیع مقاصد کو ایسے انتظامات میں تبدیل کرنا ہے جو عملی دباؤ کے دوران بھی مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔

سعودی عرب کے سلامتی خدشات اس عمل کو تیز کر رہے ہیں

ریاض میں ہنگامی مشاورت کی بنیادی وجہ یمن سے سعودی عرب کی جانب حالیہ میزائل اور ڈرون حملے ہیں۔

شہری اور اقتصادی تنصیبات کو لاحق خطرات نے سعودی عرب کے لیے مؤثر نگرانی، پیشگی اطلاع اور میزائل و ڈرون حملوں کو روکنے کی صلاحیتوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ مکہ مکرمہ کے اطراف کی جانب ایک حملے کے دعوے نے ان دفاعی مباحث کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

تینوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں حملوں کی مذمت کی گئی اور سعودی مسلح افواج کی جانب سے مملکت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا گیا۔ تاہم قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اعلامیے میں جوابی حملوں، حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے یا یمن کے اندر کارروائیوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

اس کی بنیادی توجہ سعودی سرزمین کے دفاع پر برقرار رہی۔

اس سے پاکستان اور ترکی کے لیے یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ کسی وسیع فوجی تصادم میں فوری طور پر شامل ہوئے بغیر سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانے میں تعاون کریں۔

ابتدائی عملی اقدامات میں خفیہ معلومات کا زیادہ مؤثر تبادلہ، تکنیکی معاونت اور سعودی عرب کے موجودہ دفاعی انتظامات میں موجود خامیوں کی نشاندہی شامل ہو سکتی ہے۔ فضائی دفاع کے ماہرین، نگرانی کے آلات، برقی جنگ کی صلاحیتیں اور پیشگی اطلاع دینے والے نظام بھی ممکنہ تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔

تاہم یہ تعاون کی ممکنہ صورتیں ہیں، کسی تعیناتی کے تصدیق شدہ فیصلے نہیں۔

تین ممالک کی عسکری صلاحیتوں میں ہم آہنگی کا مشکل مرحلہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، لیکن تینوں ممالک کی مسلح افواج یکساں سازوسامان یا فوجی نظام استعمال نہیں کرتیں۔

یہ فرق مکہ دفاعی اتحاد کے لیے ایک عملی چیلنج پیدا کرتا ہے۔

تینوں ممالک اپنی الگ عملی ساخت برقرار رکھتے ہوئے تعاون کر سکتے ہیں، لیکن ان کی دفاعی صلاحیتوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے لیے منصوبہ بندی، مواصلات، کمان اور کنٹرول کے زیادہ تفصیلی انتظامات درکار ہوں گے۔

اگلے ممکنہ اقدامات میں رابطہ افسران کی تعیناتی اور مشترکہ منصوبہ بندی کا نظام قائم کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے انتظامات تینوں افواج کو خطرات کا جائزہ لینے، سعودی عرب کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور یہ طے کرنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ کون سا ملک کس نوعیت کی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔

ترکی پہلے ہی سعودی عرب کی عسکری ضروریات پوری کرنے، خصوصاً تکنیکی شعبوں میں تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ عسکری تعلقات تعاون کا ایک اور ذریعہ ہیں۔ مملکت میں پہلے سے خدمات انجام دینے والے پاکستانی اہلکار اضافی معاونت کی فراہمی میں سہولت پیدا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ دونوں حکومتیں مخصوص اقدامات پر اتفاق کریں۔

اس لیے بنیادی سوال محض یہ نہیں کہ ہر ملک کے پاس کون سی دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان صلاحیتوں کو سعودی عرب کے موجودہ دفاعی نظام میں کس طرح مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

عاصم منیر اور خالد بن سلمان کی ملاقات کیوں اہم ہے؟

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے درمیان علیحدہ ملاقات ریاض میں ہونے والی مشاورت کو ایک اضافی جہت دیتی ہے۔

سعودی اعلامیے کے مطابق دونوں جانب سے مکہ مکرمہ کے اطراف اور شہری و اقتصادی تنصیبات کی جانب کیے گئے حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دوطرفہ اعلامیے میں حملوں کے جواب سے متعلق زبان سہ فریقی بیان کے مقابلے میں زیادہ براہِ راست تھی۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی ایک مستحکم دوطرفہ سلامتی کا تعلق موجود ہے، جس میں 2025 کا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی شامل ہے۔ یہ انتظام تعاون کے لیے ایک موجودہ ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جبکہ نیا سہ فریقی اتحاد اپنے ادارے اور طریقۂ کار تشکیل دے رہا ہے۔

ملاقات میں شریک وفود کی ساخت بھی قابلِ توجہ تھی۔ سعودی وفد میں اعلیٰ دفاعی حکام کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیر اور وزیرِ دفاع کے مشیر برائے انٹیلی جنس امور شامل تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اور ان کے سیکریٹری موجود تھے۔

ان حکام کی شرکت اس امکان سے مطابقت رکھتی ہے کہ بات چیت میں عملی عسکری اور انٹیلی جنس معاملات بھی زیرِ غور آئے ہوں گے، تاہم بند کمرے میں ہونے والی ملاقات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

دفاعی تعاون لازماً جارحانہ کارروائی کا اعلان نہیں

اجتماعی دفاع کا نظام تیار کرنے اور فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

خفیہ معلومات کا تبادلہ، خطرات کا مشترکہ جائزہ اور دفاعی صلاحیتوں میں ہم آہنگی سعودی عرب کو میزائل اور ڈرون حملوں کی شناخت اور انہیں روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر تینوں حکومتیں مستقبل میں کوئی سیاسی فیصلہ کریں تو یہی انتظامات زیادہ فعال عسکری ردِعمل میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

لیکن کارروائی کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور اس کی اجازت دینا دو الگ معاملات ہیں۔

ریاض سے جاری ہونے والے بیانات میں سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ان میں یمن کے اندر حملوں میں پاکستان یا ترکی کی شرکت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اس سے پہلے تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق کر چکے تھے۔ موجودہ عسکری مشاورت بظاہر یہ طے کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے کہ تینوں شراکت دار اس حق کے استعمال میں سعودی عرب کی کس طرح معاونت کر سکتے ہیں۔

کسی وسیع تر ردِعمل کے لیے سیاسی فیصلوں، معاونت کی نوعیت پر اتفاق اور ممکنہ نتائج کے جائزے کی ضرورت برقرار رہے گی۔

مکہ دفاعی اتحاد کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

فوری طور پر اہم کام سعودی عرب کی سلامتی کی ضروریات اور ان دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ لینا ہے جو پاکستان اور ترکی فراہم کر سکتے ہیں۔

اس عمل کے نتیجے میں خفیہ معلومات کے زیادہ مضبوط روابط، تکنیکی تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی اور باہمی اتفاق کی صورت میں اضافی اہلکاروں یا سازوسامان کی تعیناتی ممکن ہو سکتی ہے۔

ان اقدامات کی رفتار اور وسعت کا انحصار حملوں کے تسلسل اور ریاض کی جانب سے اپنے شراکت داروں سے طلب کی جانے والی معاونت پر ہوگا۔

پاکستان اور ترکی کے لیے اس ابھرتے ہوئے انتظام سے ایک اہم ادارہ جاتی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: دونوں ممالک اپنی عسکری شمولیت کی نوعیت اور حدود پر اختیار برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی دفاعی ذمہ داریاں کس طرح پوری کریں گے؟

ریاض اجلاسوں نے مکہ دفاعی اتحاد سے متعلق تمام سوالات کے جواب نہیں دیے، لیکن اس کی فوری سمت ضرور واضح کی ہے۔

اب اس معاہدے کو محض ایک سیاسی عہد کے طور پر زیرِ بحث نہیں لایا جا رہا۔ اس کے رکن ممالک ان عسکری انتظامات پر غور شروع کر چکے ہیں جو اجتماعی دفاع کو عملی طور پر ممکن بنا سکتے ہیں۔

یہ انتظامات دفاع اور حملوں کی روک تھام تک محدود رہیں گے یا مستقبل میں کسی وسیع تر ردِعمل کی بنیاد بنیں گے، اس کا انحصار تینوں حکومتوں کے آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔

فی الحال ریاض اجلاس کی اصل اہمیت یہی ہے کہ باہمی دفاع کا وعدہ اب اسے عملی شکل دینے کے لیے درکار عسکری انتظامات کی جانب بڑھ رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]