ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے ہفتے کے روز کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں قائم ہونے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مصر تمام معاملات میں ترکیہ کا فطری شراکت دار ہے اور انہیں توقع ہے کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد کا حصہ ہوگا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے وہ ایک ہی اتحاد کے رکن ہوں۔ چند تکنیکی معاملات ابھی باقی ہیں، جن کے حل ہونے کے بعد مصر کی شمولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔
مکہ مکرمہ میں جمعہ کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاعی صلاحیت اور جارحیت کے خلاف مشترکہ بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
فیدان نے کہا کہ دیگر ممالک نے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم بانی ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اتحاد کو کس انداز میں وسعت دی جائے۔ ان کے مطابق بعض ممالک نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ترجیحی طریقہ یہ ہوگا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان تین بنیادی بانی ممالک رہیں، جو اتحاد کے اصول، معیار اور طویل مدتی ڈھانچہ طے کریں، جبکہ دوسرے ممالک بانی ارکان کی منظوری سے اس میں شامل ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ترک صدر کی سوچ کے مطابق اتحاد کو صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے وسعت دینی چاہیے۔ پاکستان کی شمولیت اس اتحاد کو روایتی مشرق وسطیٰ کے تصور سے آگے لے جاتی ہے اور پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے وسیع تر علاقائی اہمیت دیتا ہے۔
’’نارتھ اٹلانٹک معاہدے کی پانچویں شق جیسا‘‘
فیدان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نارتھ اٹلانٹک معاہدے کی پانچویں شق کے مساوی ہے، جس کے تحت ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ مکہ معاہدے میں عمومی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے، جبکہ عملی اقدامات متعلقہ اداروں کی مشاورت اور فیصلوں سے طے ہوں گے۔ حملے کا شکار ہونے والے ملک کو باضابطہ طور پر مدد طلب کرنا ہوگی اور یہ بتانا ہوگا کہ اسے کس نوعیت کی معاونت درکار ہے، جو اطلاعات، رسد اور گولہ بارود سے لے کر فوجی دستوں تک ہو سکتی ہے۔
فیدان نے کہا کہ اتحاد کسی خاص ملک، بشمول ایران، کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد رکن ممالک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ عزم پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کی کوئی توسیع پسندانہ خواہشات نہیں اور یہ اتحاد جارحانہ کے بجائے دفاعی نوعیت کا ہوگا۔
انہوں نے معاہدے کو خطے میں پائیدار استحکام کے قیام کی جانب ’’سب سے اہم قدم‘‘ قرار دیا۔
اتحاد کیسے کام کرے گا؟
فیدان کے مطابق معاہدے کے تحت ایک سیاسی اور فوجی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور افواج کے سربراہان شامل ہوں گے۔ یہ ڈھانچہ نارتھ اٹلانٹک معاہدے کی تنظیم سے مشابہ ہوگا۔
ایک مستقل سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، جبکہ کمیٹی رہنماؤں کے فیصلوں کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔
معاہدے میں مختلف فوجی شعبوں میں تعاون شامل ہوگا، جن میں مشترکہ تربیت، باہمی معاونت، رسد، خطرات کا تجزیہ، اطلاعات کا تبادلہ، دفاعی صنعت میں تعاون اور مختلف افواج کے درمیان باہمی مطابقت پیدا کرنا شامل ہیں۔
فیدان نے کہا کہ مشترکہ مشقیں اور تربیت اس اتحاد کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ مستقبل کے کسی مشترکہ جنگی منظرنامے میں مختلف ممالک کے ہتھیاروں، مواصلاتی نظام اور فوجی ڈھانچوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مطابقت ضروری ہوگی۔









