پاکستان میں سول سروس اصلاحات: وفاقی ریاست میں وحدانی بیوروکریسی کا مسئلہ

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد: پاکستان میں مجوزہ سول سروس اصلاحات نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ کیا ایک وفاقی ریاست کو وحدانی بیوروکریسی کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے؟ اصلاحات پر جاری بحث میں آئینی اختیارات، صوبائی خودمختاری، انتظامی تخصص اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان جواب دہی جیسے معاملات مرکزی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

وفاقی آئینی ڈھانچے اور انتظامی نظام میں عدم مطابقت

پاکستان کی سول سروس میں اصلاحات کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز بظاہر انہی اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ادوار میں پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ بنیادی اعتراض یہ ہے کہ وفاقی حکومت جب اصلاحاتی کمیٹیاں تشکیل دیتی ہے تو پاکستان کی وفاقی آئینی ساخت کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جاتی۔

پاکستان ایک وفاق ہے، وحدانی ریاست نہیں۔ آئین کا چوتھا شیڈول وفاقی قانون سازی کے دائرۂ اختیار کا تعین کرتا ہے۔ وفاقی معاملات میں بھی بعض اختیارات خالصتاً وفاقی نوعیت کے ہیں، جبکہ بعض مشترکہ مفادات کونسل کے دائرۂ کار سے متعلق ہیں۔ باقی معاملات عمومی طور پر صوبائی دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔

اس مؤقف کے مطابق پاکستان میں پالیسیوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وفاقی ریاست کے اندر وحدانی طرز کی پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سول سروسز کی چار بنیادی اقسام

آئین کے آرٹیکل 240 اور 140 اے کو سامنے رکھتے ہوئے سول سروسز کے لیے چار الگ انتظامی زمروں کا تصور پیش کیا گیا ہے:

  1. وفاقی سروسز
  2. آل پاکستان یا مشترکہ سروسز
  3. صوبائی سروسز
  4. مقامی حکومتوں کی سروسز

اس مجوزہ انتظامی ماڈل کے تحت وفاقی حکومت کی اپنی وفاقی سروسز ہونی چاہئیں، جبکہ مشترکہ مفادات کونسل اور دیگر مشترکہ ادارہ جاتی انتظامات کے لیے وفاق اور صوبوں کی مشترکہ سروسز قائم کی جائیں۔

اسی طرح صوبوں کے اپنے انتظامی کیڈرز اور مقامی حکومتوں کی اپنی سروسز ہونی چاہئیں۔

اس تصور کا بنیادی مقصد انتظامی اختیارات اور ملازمین کی بھرتی و تعیناتی کو متعلقہ آئینی اور حکومتی دائرۂ اختیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

انتظامی اور سیاسی قیادت کی یکساں جواب دہی

سول سروس اصلاحات کا دوسرا اہم پہلو انتظامی ہم آہنگی ہے۔

اس اصول کے مطابق سیاسی انتظامیہ اور بیوروکریٹک انتظامیہ ایک ہی مقننہ کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا انتظامی ڈھانچے کی تشکیل میں اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ جس حکومت اور مقننہ کے پاس کسی شعبے کا اختیار ہے، اسی کے مطابق متعلقہ انتظامی سروس کی جواب دہی بھی طے ہو۔

مجوزہ اصلاحات پر اعتراض یہ ہے کہ ان میں اس بنیادی اصول کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

خصوصاً مجوزہ پیشہ ورانہ گروپس کے بارے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر ان کے متعلقہ محکمے اور موضوعات صوبائی دائرۂ اختیار میں آتے ہیں تو وفاقی حکومت یا نیشنل ایگزیکٹو سروس ان کے لیے سی ایس ایس کے ذریعے بھرتیاں کیسے کر سکتی ہے؟

اس مؤقف کے مطابق ایسی بھرتیوں کا جائزہ آئین کے آرٹیکل 240 اور 242 کی روشنی میں لیا جانا چاہیے، کیونکہ صوبائی سروسز کی تشکیل اور ان کا انتظام صوبائی مقننہ اور صوبائی حکومتوں سے متعلق ہے۔

اصلاحات کے لیے آئینی اختیارات کا تعین ضروری

سول سروس اصلاحات کو مؤثر بنانے کے لیے صرف نئی آسامیوں یا پیشہ ورانہ گروپس کی تشکیل کافی نہیں ہوگی۔

اس کے لیے انتظامی ہم آہنگی، قانون ساز اداروں کے ساتھ جواب دہی، انتظامی اختیار، مالیاتی اختیار اور قانون سازی کے اختیار کو بھی واضح کرنا ہوگا۔

ان بنیادی سوالات کو حل کیے بغیر سول سروس کا انتظامی بحران برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق پاکستان کا وفاقی نظام مزید وحدانی بیوروکریسی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

اصلاحاتی کمیٹیوں میں روایتی طرزِ فکر کا تسلسل

مجوزہ اصلاحات پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ متعلقہ کمیٹی میں بنیادی طور پر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے افسران شامل تھے، جبکہ تجاویز میں ایسے اقدامات دوبارہ سامنے آئے ہیں جو ماضی میں بھی مختلف مواقع پر زیرِ بحث آتے رہے ہیں۔

اس تنقید کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے وفاقی آئینی ڈھانچے اور انتظامی نظام کے درمیان واضح مطابقت پیدا کرنا ہوگی۔

اگر انتظامی اختیارات بدستور مرکز میں مرتکز رکھنے ہیں تو پھر صوبائی اور مقامی حکومتوں کی آئینی حیثیت اور عملی کردار سے متعلق بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

وفاقی ریاست کے لیے انتظامی نظام بھی وفاقی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہیے۔

کیڈر مینجمنٹ کو متعلقہ شعبے تک محدود رکھنے کی تجویز

مجوزہ اصلاحات میں کیڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بھی وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔

کیڈر مینجمنٹ کا بنیادی اصول یہ پیش کیا گیا ہے کہ ہر انتظامی کیڈر اپنے متعلقہ شعبے کے اندر کام کرے۔

وفاقی قانون ساز فہرست کے حصہ اول میں 59 اندراجات ہیں۔ پیش کردہ انتظامی ماڈل کے مطابق ان موضوعات کو پانچ وزارتوں میں منظم کیا جا سکتا ہے، جن کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ وفاقی سروسز تشکیل دی جائیں۔

اسی طرح مشترکہ مفادات کونسل کے دائرۂ کار سے متعلق معاملات کے لیے دو الگ سروسز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ریلوے گروپ کو اس کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس مؤقف کے مطابق ریلوے سے متعلق سروس کو خالصتاً وفاقی انتظامی سروس کے بجائے وفاق اور صوبوں کے مشترکہ انتظامی دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔

صوبوں کی اپنی سروسز آرٹیکل 240(ب) کے تحت قائم ہونی چاہئیں، جبکہ مقامی حکومتوں کی سروسز کو ایک الگ آئینی و قانونی حیثیت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

سول سروسز کی قانونی بنیاد کا سوال

مجوزہ اصلاحات میں وفاقی سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترامیم کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

اس پر اعتراض یہ اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان کی سول سروسز کی موجودہ ساخت تاریخی طور پر 1954 کے قواعد سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ وفاقی سول سرونٹس ایکٹ 1973 بذاتِ خود تمام سول سروسز کو الگ ادارہ جاتی کیڈرز کی صورت میں قائم نہیں کرتا۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق پاکستان کو سول سروسز کی تشکیل، اختیارات اور انتظامی حدود کے لیے ایک جامع قانونی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

محض موجودہ قوانین میں ترامیم یا انتظامی احکامات کے ذریعے بنیادی ساختی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

پاکستان کی سول سروسز کے دو بنیادی مسائل

اس تجزیے میں پاکستان کی سول سروسز کے دو بنیادی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پہلا مسئلہ: وفاقی ریاست کے اندر وحدانی بیوروکریسی کا برقرار رہنا۔

دوسرا مسئلہ: انتظامی کیڈرز کا اپنے متعلقہ شعبوں سے نکل کر دوسرے شعبوں میں ذمہ داریاں سنبھالنا۔

کیڈر مینجمنٹ کے مجوزہ اصول کے مطابق ہر سروس کو اپنے متعلقہ موضوع تک محدود ہونا چاہیے۔

مثال کے طور پر اگر ماحولیات ایک الگ شعبہ ہے تو اس کے لیے قائم کی گئی سروس کا کیڈر ماحولیاتی انتظام ہی کی ذمہ داریاں انجام دے۔ اسے غیر متعلقہ شعبوں میں انتظامی اختیارات نہیں دیے جانے چاہئیں۔

اسی طرح فعلی تخصص کا مطلب ایسے منتظمین کی تعیناتی ہے جو متعلقہ شعبے کے پیشہ ورانہ علم اور انتظامی مہارت کے حامل ہوں۔

آئین کے مطابق سول سروس اصلاحات کی ضرورت

ان تمام معاملات کو ریپبلک پالیسی کی کتابوں Fixing the Executive اور The Bureaucratic Coup میں تفصیل سے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

تقریباً 600 صفحات پر مشتمل Fixing the Executive بنیادی طور پر پاکستان میں سول سروس اصلاحات سے متعلق ہے، جس میں انتظامی نظام کا آئینی، ادارہ جاتی اور عملی زاویوں سے جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اس تصور کے مطابق پاکستان میں سول سروس اصلاحات کو آئین، پارلیمانی نظامِ حکومت، انتظامیہ کی ساخت اور ریاست کی مجموعی تنظیم کے مطابق تشکیل دینا ہوگا۔

محض انتظامی احکامات یا انتظامیہ کے یک طرفہ فیصلوں سے سول سروس کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

مجوزہ اصلاحات پر بنیادی تنقید یہ ہے کہ ان کے ذریعے وحدانی اور عمومی نوعیت کی سول سروسز کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان کو ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو وفاقی اصولوں، متعلقہ شعبوں کی تخصصی ضروریات اور آئینی جواب دہی سے ہم آہنگ ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]