اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیر کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول 5 روپے 16 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 69 پیسے فی لیٹر سستا کردیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث ایندھن کی بلند قیمتوں سے پریشان صارفین کو اس فیصلے سے کسی حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق منگل، 20 اکتوبر سے ہوگا۔ قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرول 381 روپے 14 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 389 روپے 27 پیسے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔
تاہم، حالیہ کمی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹیکسوں اور سرکاری محصولات کا حصہ بدستور نمایاں ہے۔ حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے جبکہ ڈیزل پر 100 روپے ٹیکس اور دیگر محصولات وصول کر رہی ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت قومی آمدن کا ایک اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب گزشتہ کئی ماہ کے دوران ملکی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑنے والے اثرات ہیں۔
28 فروری کو کشیدگی شروع ہونے سے قبل ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 281 روپے فی لیٹر تھی، جو 3 اپریل کو بڑھ کر 520 روپے 35 پیسے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔
اسی طرح مارچ کے آغاز میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 266 روپے فی لیٹر تھی، جو 3 اپریل کو بڑھ کر 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔
اگرچہ بعدازاں دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے، تاہم موجودہ نرخ اب بھی تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں گھریلو صارفین، کاروباری اداروں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر مالی دباؤ برقرار ہے۔
توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم کرنے اور عالمی سطح پر رسد میں رکاوٹوں کے معاشی اثرات محدود کرنے کے لیے متعدد کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔
ان اقدامات میں رات 9 بجے تک بازاروں کی لازمی بندش اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے مختص حصے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی شامل ہے۔
حکومت نے ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے متاثر ہونے والے کمزور معاشی طبقات کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔
13 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل سواروں، رکشہ چلانے والوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے خصوصی امدادی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل اپریل میں وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے رعایتی نرخوں پر ایندھن کی فراہمی کے انتظامات بھی متعارف کرائے تھے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تعین کیا جائے گا۔
انہوں نے اس فیصلے کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کو قرار دیا تھا۔
نئے انتظام کے تحت وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے فیصلے کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو عالمی منڈی میں قیمتوں کی تبدیلی کے مطابق روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ مقرر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
اس سے قبل حکومت مارچ کے آغاز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کر رہی تھی۔ اس دوران ایندھن کی بچت اور عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے گئے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے معاشی اثرات صرف گاڑیوں کے مالکان تک محدود نہیں رہتے بلکہ ملکی معیشت کے متعدد شعبے ان سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
پیٹرول بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں، نجی گاڑیوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ یا کمی براہِ راست گھریلو اخراجات پر اثرانداز ہوتی ہے، خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے طبقات اس تبدیلی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ مال بردار گاڑیوں، تجارتی ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نقل و حمل کے اخراجات، صنعتی پیداوار کی لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومت کے لیے پیٹرولیم محصولات کے بنیادی ذرائع بھی ہیں۔ ملک میں ان دونوں مصنوعات کی مجموعی ماہانہ فروخت تقریباً 7 لاکھ سے 8 لاکھ ٹن بتائی جاتی ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ کھپت تقریباً 10 ہزار ٹن ہے۔
اگرچہ حالیہ کمی سے صارفین کو محدود مالی سہولت ملے گی، تاہم ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا عالمی منڈی سے گہرا تعلق پاکستان کو مستقبل میں توانائی کے مزید بحرانوں کے خطرے سے دوچار رکھتا ہے۔
آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے وابستہ رہے گا۔







