امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوج کی تعیناتی کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں دونوں خطوں میں امریکی فوجی موجودگی کی ازسرِنو ترتیب ممکن ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے رواں سال جاری کردہ قومی دفاعی حکمتِ عملی میں واضح کیا تھا کہ وہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک سے دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ لینے کی توقع رکھتی ہے، تاکہ امریکا چین اور مغربی نصف کرے پر زیادہ توجہ دے سکے۔ جنوبی امریکا میں منشیات کے منظم گروہوں کے خلاف واشنگٹن کی کارروائیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔
خلیجی خطے میں ایران کے ساتھ جنگ نے وہاں تعینات امریکی فوجیوں کو درپیش خطرات نمایاں کر دیے ہیں۔ جنگ کے دوران کم از کم 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں چھ اہلکار کویت کی بندرگاہ شعیبہ پر ایرانی میزائل حملے میں مارے گئے۔
جنگ کے اخراجات سے متعلق انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی سیکڑوں عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔
رواں ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پینٹاگون نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ جنگ کے بعد خطے میں فوجیوں کی تعداد اور فوجی اڈوں کو سابقہ سطح پر بحال کیا جائے گا یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع نے تاحال یہ بھی طے نہیں کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی مستقبل کی فوجی موجودگی کی نوعیت کیا ہوگی، اڈوں کی تعمیرِ نو کیسے کی جائے گی اور اتحادی ممالک ان اخراجات میں کتنا حصہ ڈالیں گے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون خلیجی خطے سے فوجیوں کی منتقلی کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ عام حالات میں اس خطے میں تقریباً 40 ہزار امریکی فوجی تعینات ہوتے ہیں۔
تاہم ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ابھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی کے باضابطہ جائزے کا حکم نہیں دیا۔
دوسری جانب، سی این این نے جمعے کو رپورٹ کیا کہ پینٹاگون افریقہ میں استعمال ہونے والے ایم کیو نائن ریپر ڈرونز جنوبی امریکا منتقل کر سکتا ہے، جہاں امریکا منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
یورپ سے 25 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا امکان
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جون میں یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا جائزہ لینے کے لیے چھ ماہ کی مدت پر مشتمل عمل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس جائزے کی قیادت پالیسی امور کے لیے نائب وزیر دفاع ایلبرج کولبی کر رہے ہیں، جو طویل عرصے سے چین کو روکنے پر زیادہ توجہ دینے کے حامی رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ پینٹاگون کے زیرِ غور تجاویز میں یورپ سے تقریباً 25 ہزار امریکی فوجیوں کا انخلا بھی شامل ہے۔
اس وقت یورپ میں تقریباً 80 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
ممکنہ انخلا سے یورپی ممالک اور نیٹو کے حکام میں تشویش پیدا ہو سکتی ہے، جو روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
یورپ یا مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے سے واشنگٹن کو دیگر ترجیحات کے لیے فوجی وسائل دستیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس سے دونوں خطوں میں امریکی دفاعی صلاحیت اور اتحادیوں کے ساتھ واشنگٹن کے سلامتی سے متعلق وعدوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امریکی سفارت کاروں کو مشاورت میں شامل کرنے کا مطالبہ
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ رکن جین شاہین نے جمعرات کو وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا کہ یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کے جائزے میں سفارت کاروں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔
مارکو روبیو قومی سلامتی کے مشیر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
اپنے خط میں جین شاہین نے کہا کہ امریکی سفیروں سمیت اہم سفارتی عہدیداروں کو اس عمل سے الگ رکھا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ دوطرفہ تعلقات کا ذمہ دار ہے اور ماضی میں اس نوعیت کے فوجی جائزوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ یورپ کے دوروں، اتحادی ممالک سے رابطوں اور دیگر بات چیت کے دوران سامنے آنے والی معلومات مختلف صورت حال ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے بقول متاثرہ ممالک میں امریکی سفیروں اور سفارتی مشنوں کے سربراہان کو مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔
تاہم محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاروں سے مشاورت کی جا رہی ہے۔
جین شاہین نے خبردار کیا کہ فوجیوں کی تعداد میں تبدیلی سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوں گے، جنہیں سنبھالنے کی ذمہ داری بالآخر محکمہ خارجہ پر عائد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بالٹک خطے کے ممالک ایسٹونیا، لتھوانیا اور لٹویا ان فیصلوں سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
یورپی رہنما پہلے ہی ایسے واقعات پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں جنہیں اکثر روس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان میں تخریب کاری، آتش زنی اور ڈرونز کی فضائی حدود میں دراندازی شامل ہیں۔
اگرچہ یہ سرگرمیاں روایتی فوجی حملے کے زمرے میں نہیں آتیں، لیکن یورپی حکام کے مطابق ان سے خطے کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔









