اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے طویل عرصے تک امریکہ کے ساتھ اپنی سیاسی اور ذاتی قربت کو اپنی ناگزیر حیثیت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اپنی جوانی کا بڑا حصہ امریکہ میں گزارنے اور امریکی سیاست پر گہری گرفت کے باعث وہ مختلف امریکی صدور کو اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب سمجھے جاتے رہے، جس سے نہ صرف اسرائیل بلکہ ان کے اپنے سیاسی مستقبل کو بھی تقویت ملی۔
ایک عرصے تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو کے لیے سب سے زیادہ موافق امریکی صدر ثابت ہوئے، خصوصاً اس وقت جب وہ ایران کے خلاف براہِ راست جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دینے والے پہلے امریکی صدر بنے۔ تاہم اب جبکہ یہ جنگ تعطل کا شکار ہے، ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں اسرائیل کو ساتھ لیے بغیر معاہدوں پر آمادگی ظاہر کر رہے ہیں، اور امریکہ کے اندر اسرائیل پر تنقید بھی بڑھ رہی ہے، اس لیے اسرائیل میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ نیتن یاہو کا سب سے مضبوط امریکی پتہ شاید اب پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا۔
یہ صورتحال نیتن یاہو کے لیے نہایت مشکل وقت میں سامنے آئی ہے۔ اکتوبر کے آخر میں انہیں عام انتخابات کا سامنا ہے، بدعنوانی کے مقدمات بھی جاری ہیں، جبکہ خطے کے کئی تنازعات ابھی تک حل طلب ہیں۔ منگل کو واشنگٹن کا ان کا دورہ، جو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلا دورہ ہے، انہیں یہ موقع فراہم کرے گا کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ اپنی قربت کو ایک بار پھر اسرائیلی عوام کے سامنے نمایاں کر سکیں۔
سیاسی تاثر کی جنگ
ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات بڑھنے لگے۔ اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو نے ہی ٹرمپ کو قائل کیا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی کامیاب ہوگی اور ایرانی حکومت کا خاتمہ ممکن ہے۔ دوسری جانب امریکی کانگریس میں بھی نیتن یاہو کی پالیسیوں پر تشویش بڑھ رہی ہے، خصوصاً مقبوضہ علاقوں میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، ایک امریکی سینیٹر کی غیر قانونی حراست، ترکیہ کو جدید لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت، اور سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کے منصوبے پر اختلافات کے باعث۔
اسرائیل کے سابق سفیر اور نیویارک میں سابق قونصل جنرل ایلون پنکاس نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ اس دورے کو مرحوم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی یادگاری تقریب میں شرکت کا نام دیا جا رہا ہے، اور بظاہر ایران، جدید لڑاکا طیاروں کی فروخت اور سعودی عرب کے جوہری پروگرام جیسے موضوعات زیرِ بحث آئیں گے، لیکن اصل مقصد دو چیزیں ہیں: اسرائیل میں اپنے حامیوں اور ناقدین کو یہ یقین دلانا کہ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات اب بھی مضبوط ہیں، اور یہ امید رکھنا کہ ٹرمپ ایک بار پھر ان کے بدعنوانی کے مقدمے میں معافی یا رعایت کی حمایت کریں، جیسا کہ انہوں نے نومبر 2025 میں کیا تھا۔
ٹوٹتے ہوئے تعلقات
اگرچہ نیتن یاہو امید رکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ کامیاب ملاقات ان کی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرے گی، لیکن وہ ایسے وقت میں واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جب امریکہ میں ان کی مقبولیت شاید اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ امریکی دائیں بازو کی کئی نمایاں شخصیات، جن میں معروف نشریاتی میزبان ٹکر کارلسن اور سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین شامل ہیں، ان پر کھل کر تنقید کر چکی ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران جنگ ختم کرانے کی ان کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات میں بظاہر خوشگوار ماحول دکھائی دے گا، لیکن پسِ پردہ بے اعتمادی برقرار رہے گی۔ جب ٹرمپ سے طیارے میں سفر کے دوران ترکیہ کو جدید لڑاکا طیاروں کی فروخت پر اسرائیلی اعتراضات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے دوٹوک جواب دیا: “مجھے کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا فروخت کرنا چاہیے۔”
کنگز کالج لندن کے ماہرِ سلامتی آہرون بریگمین کے مطابق نیتن یاہو ایسے وقت میں واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جب ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں بھی ان پر اعتماد باقی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا، “وہ امریکہ میں ایک متنازع شخصیت بن چکے ہیں۔ درست یا غلط، انہیں وہ شخص سمجھا جا رہا ہے جس نے ٹرمپ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلا جو اب ایک تزویراتی تباہی میں بدل چکی ہے۔ اب نہ ٹرمپ اور نہ ہی کوئی اور انہیں سب سے زیادہ ذہین شخص کے طور پر پیش ہونے دے گا۔ وہ دور گزر چکا ہے۔”
اگرچہ اس دورے کے دوران کسی کھلے اختلاف کی توقع نہیں کی جا رہی، لیکن نیتن یاہو کے لیے یہ تاثر برقرار رکھنا کہ صرف وہی اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات کو مؤثر انداز میں سنبھال سکتے ہیں، پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی رائے عامہ کے ماہر اور نیتن یاہو کے سابق معاون مچل بارک کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیتن یاہو کا امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ریکارڈ مضبوط رہا ہے، لیکن اب ان پر تنقید صرف قوم پرست حلقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ قدامت پسند مرکزی دھارے تک بھی پھیل چکی ہے۔
ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں ترکیہ کو جدید لڑاکا طیاروں کی فروخت، ایران جنگ کے آغاز پر امریکی تنقید اور دیگر معاملات نے دونوں رہنماؤں کے درمیان فاصلے کو نمایاں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو کو جنگی دور کے رہنما کے طور پر سراہیں، لیکن ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیں کہ اب اسرائیل کو نئی قیادت کی جانب بڑھ جانا چاہیے، اور بعد میں دوسرے اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کرکے نئے وزیرِ اعظم کی حمایت کا اعلان کریں۔









