اقوامِ متحدہ کی تنظیمِ نو: نئے سیکریٹری جنرل کو بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ کیوں دینا ہوگی؟

[post-views]
[post-views]

مالی وسائل میں کمی اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے دوران اقوامِ متحدہ کی نئی قیادت کو تنازعات کی روک تھام، انسانی امداد اور قابلِ عمل ترقیاتی اہداف کو ترجیح دینا ہوگی۔

اقوامِ متحدہ کو اپنے قیام سے لے کر اب تک سیاسی اختلافات، انسانی بحرانوں اور مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ تاہم نیویارک میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے لیے عالمی رہنماؤں کی آمد کے موقع پر ادارے کو درپیش چیلنجز غیر معمولی نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔

امریکا، چین اور روس کے درمیان اختلافات نے یوکرین، ایران، میانمار اور سوڈان سمیت کئی بڑے تنازعات پر سلامتی کونسل کی مؤثر کارروائی محدود کر دی ہے۔ ترقی پذیر ممالک بین الاقوامی ترقیاتی وعدوں کی عدم تکمیل پر مسلسل مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ امریکی مالی معاونت میں کمی کے باعث اقوامِ متحدہ کو انسانی امداد اور قیامِ امن کی سرگرمیاں محدود کرنا پڑی ہیں۔

ان حالات میں ادارے کی قیادت میں آنے والی تبدیلی خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس رواں سال کے اختتام پر ایک دہائی کی مدت مکمل کرنے کے بعد عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔ ان کے دور میں عالمی حالات مسلسل پیچیدہ ہوتے گئے۔ اپنے آخری برسوں میں انہیں ملازمین کی تعداد کم کرنے، اخراجات پر قابو پانے اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹریٹ کو شدید مالی بحران سے بچانے پر خاص توجہ دینا پڑی۔

ان کے جانشین کو ادارے کی روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے ساتھ ایک بڑے سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا: جب سیاسی اتفاقِ رائے اور مالی وسائل دونوں محدود ہوں تو اقوامِ متحدہ کو کن ذمہ داریوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے؟

ممکنہ جانشینوں میں اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ تجارتی عہدیدار ریبیکا گرنسپان، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی اور اقوامِ متحدہ میں گیانا کی سفیر کیرولین روڈریگز برکیٹ کے نام شامل ہیں۔

جو بھی یہ منصب سنبھالے گا، اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ تقسیم شدہ عالمی نظام میں ہر بڑے مسئلے پر حکومتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا ممکن نہیں۔

اسی لیے اصلاحات کا بنیادی سوال محض اقوامِ متحدہ کی کارکردگی بہتر بنانے تک محدود نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ادارہ اپنی ترجیحات واضح کرے، تنازعات کی روک تھام اور حل کی صلاحیت مضبوط بنائے، انسانی امداد زیادہ مؤثر انداز میں فراہم کرے اور ایسے ترقیاتی وعدوں کو آگے بڑھائے جن پر حکومتیں حقیقتاً عمل کر سکیں۔

اقوامِ متحدہ کی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ کیسے ہوا؟

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اقوامِ متحدہ کے یکے بعد دیگرے سیکریٹری جنرل عالمی بحرانوں کے جواب میں ادارے کی سرگرمیوں اور ذمہ داریوں کو وسیع کرتے رہے ہیں۔

بطروس بطروس غالی نے بین الاقوامی قیامِ امن میں اقوامِ متحدہ کا کردار مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ تاہم 1994 میں روانڈا کی نسل کشی اور 1995 میں بوسنیا کے شہر سربرینیتسا میں قتلِ عام روکنے میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کی ناکامی نے شہریوں کے تحفظ سے متعلق ادارے کی سنگین کمزوریاں ظاہر کر دیں۔

ان کے جانشین کوفی عنان نے غربت میں کمی، ایڈز کے خلاف اقدامات اور کوسووو، مشرقی تیمور اور متعدد افریقی ممالک میں امن کارروائیوں پر مشتمل ایک وسیع ایجنڈا اختیار کیا۔

اگرچہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے نے سلامتی کونسل کو تقسیم کر دیا، تاہم کوفی عنان بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے۔ 2005 میں ایک بڑے عالمی اجلاس کے ذریعے رکن ممالک سے نئے وعدے حاصل کیے گئے، جبکہ اگلے برس قیامِ امن کمیشن اور انسانی حقوق کونسل قائم کی گئیں۔

بان کی مون اور انتونیو گوتریس کو تنازعات اور انسانی بحرانوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصاً شام کی خانہ جنگی نے ظاہر کیا کہ طاقتور ممالک کے اختلافات کس طرح کئی برس تک اقوامِ متحدہ کی فیصلہ کن کارروائی روک سکتے ہیں۔

ادارے کی ذمہ داریوں میں اضافے کے ساتھ اس کے مالی وسائل بھی بڑھے۔ اقوامِ متحدہ کے تمام اداروں کی مجموعی آمدن 2010 میں تقریباً 40 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں 74 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ اس اضافے میں انسانی امداد پر بڑھتے ہوئے اخراجات کا نمایاں کردار تھا۔

یکے بعد دیگرے آنے والے سربراہان نے بلند اہداف پر مشتمل بین الاقوامی معاہدوں کو بھی آگے بڑھایا۔

بان کی مون نے 2015 میں پیرس موسمیاتی معاہدے کی حمایت کی۔ گوتریس نے 2024 میں مستقبل سے متعلق عالمی اجلاس منعقد کیا، جس میں حکومتوں نے مصنوعی ذہانت سے لے کر مختلف نسلوں کے درمیان انصاف تک متعدد معاملات پر تعاون کے وعدے کیے۔

ان اقدامات نے حکومتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی اقوامِ متحدہ کی صلاحیت ظاہر کی۔ تاہم جب رکن ممالک اپنے سابقہ وعدوں پر عمل نہ کر سکے تو ان اقدامات کی حدود بھی واضح ہونے لگیں۔

سفارتی وعدوں اور عملی نتائج کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق نے بین الاقوامی تعاون کی مؤثریت سے متعلق شکوک و شبہات میں اضافہ کیا ہے۔

مالی دباؤ ادارہ جاتی تبدیلی کو ناگزیر بنا رہا ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران اقوامِ متحدہ کی مالی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

2025 کے آغاز میں واشنگٹن نے اقوامِ متحدہ کی انسانی امداد کے لیے بیشتر امریکی فنڈز معطل کر دیے اور ادارے کے باقاعدہ بجٹ میں اپنی رقوم بھی روک لیں۔ قیامِ امن کی کارروائیوں کے لیے امریکی ادائیگیاں بھی متوقع سطح سے نمایاں طور پر کم رہیں۔

دیگر بڑے مالی معاونین نے اس کمی کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا۔

یورپی حکومتوں نے دفاعی بجٹ بڑھاتے ہوئے انسانی امداد کے اخراجات کم کیے ہیں، جبکہ چین نے بھی امریکی مالی معاونت کی کمی پوری کرنے کے لیے اضافی ذمہ داری نہیں سنبھالی۔

بیجنگ اب اقوامِ متحدہ کے باقاعدہ بجٹ کے تقریباً پانچویں حصے کا ذمہ دار ہے اور امریکا کے بعد دوسرا بڑا مالی معاون ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ادارے کے اخراجات کم کرنے کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان کسی حد تک مشترکہ مؤقف پیدا ہوا ہے۔

واشنگٹن بعد ازاں انسانی امداد کے لیے تقریباً چار ارب ڈالر جاری کر چکا ہے اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی بجٹ میں 72 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ادائیگی بھی کر چکا ہے۔ اس کے باوجود نئے سیکریٹری جنرل کو محدود مالی وسائل کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

بنیادی چیلنج غیر ضروری انتظامی اخراجات کم کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی ضروری سرگرمیوں کو برقرار رکھنا ہوگا۔

اس مقصد کے لیے معمول کی بجٹ کٹوتیاں کافی نہیں ہوں گی۔

اقوامِ متحدہ کے نظام میں متعدد ادارے، پروگرام اور دفاتر موجود ہیں جن کی ذمہ داریاں بعض اوقات ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ روم میں قائم تین ادارے زراعت اور غذائی تحفظ کے مختلف پہلوؤں پر کام کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین اور بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت کئی ایک جیسے بحران زدہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ذمہ داریاں بھی متعدد دفاتر، نمائندوں اور مالی انتظامات میں تقسیم ہیں۔

اگرچہ ان اداروں کے الگ الگ قانونی اور انتظامی دائرۂ کار ہیں، تاہم سرگرمیوں کا باہمی اشتراک رابطہ کاری کو پیچیدہ اور انتظامی اخراجات کو زیادہ کر سکتا ہے۔

مؤثر اصلاحات کے لیے ضروری ہوگا کہ اداروں کے فنڈز جمع کرنے، ہنگامی حالات میں مشترکہ کارروائی اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے۔

اداروں کو یکجا کرنے کی کوششوں کو ان تنظیموں کی مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے جو اپنے موجودہ اختیارات اور وسائل برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

نئے سیکریٹری جنرل کو ان مفادات کے درمیان توازن پیدا کرتے ہوئے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ انتظامی اصلاحات محض اخراجات کم کرنے کے بجائے خدمات کی فراہمی بہتر بنا سکتی ہیں۔

تنازعات کی روک تھام میں اقوامِ متحدہ کا کردار بحال کرنا

ایک زیادہ مربوط اقوامِ متحدہ کو امن اور سلامتی سے متعلق اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر بھی زیادہ توجہ دینی ہوگی۔

بعض سفارت کاروں کے خیال میں انتونیو گوتریس نے بڑے تنازعات کے دوران سیاسی تصفیوں کی کوششوں کے مقابلے میں انسانی امداد کی رسائی پر زیادہ توجہ دی ہے۔

ان کا یہ طرزِ عمل حقیقی رکاوٹوں کی عکاسی کرتا ہے۔

روس نے سلامتی کونسل میں اپنے ویٹو اختیار کے ذریعے یوکرین میں اقوامِ متحدہ کے کردار کو محدود کیا۔ امریکی انتظامیہ غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سفارت کاری کے بعض پہلوؤں کی مخالفت کرتی رہی ہیں، جبکہ چین نے میانمار میں ادارے کے وسیع سیاسی کردار کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

علاقائی طاقتوں نے بھی سوڈان جیسے تنازعات میں اقوامِ متحدہ کے اثرورسوخ کو محدود کیا ہے۔

یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ جب بااثر حکومتیں اقوامِ متحدہ کی شمولیت کی مخالفت کریں تو سیکریٹری جنرل آزادانہ طور پر جنگیں ختم نہیں کرا سکتا۔

اس کے باوجود ادارے کے پاس ایسے سفارتی وسائل موجود ہیں جنہیں ان تنازعات میں زیادہ فعال انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں بڑی طاقتوں کے مفادات ثالثی کو ناممکن نہیں بناتے۔

سرد جنگ کے دوران سیکریٹری جنرل یو تھانت نے کیوبا کے میزائل بحران میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان رابطوں میں سہولت فراہم کی تھی۔

اس کے بعد اقوامِ متحدہ نے ثالثی، امن کارروائیوں، انتظامی وسائل اور تنازعات کے بعد استحکام کی کوششوں میں نمایاں تجربہ حاصل کیا ہے۔

یہ مہارت آج بھی اہم ہے، خواہ حکومتیں بڑے کثیرالقومی امن دستوں کی تعیناتی پر آمادہ نہ ہوں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے بھی ادارے کی عملی صلاحیتوں کا اعتراف اس وقت کیا جب اس نے ہیٹی میں مسلح گروہوں کے خلاف بین الاقوامی فورس کی معاونت کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی۔

نئے سیکریٹری جنرل کو پسِ پردہ سفارت کاری، مخالف حکومتوں کے درمیان رابطوں اور سیاسی اختلافات کے بڑے تنازعات میں تبدیل ہونے سے پہلے مداخلت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

ایسی کوششیں بڑے عالمی اجلاسوں یا وسیع امن مشنوں جتنی نمایاں نہ ہوں، لیکن ادارے پر اعتماد بحال کرنے کا عملی ذریعہ بن سکتی ہیں۔

ترقیاتی اہداف کو زیادہ حقیقت پسندانہ بنانا

امن اور سلامتی پر نئی توجہ کا مطلب یہ نہیں کہ اقوامِ متحدہ بین الاقوامی ترقی کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے۔

تاہم محدود وسائل میں ترجیحات کا واضح تعین مزید اہم ہو جائے گا۔

2015 میں رکن ممالک نے پائیدار ترقی کے 17 اہداف منظور کیے تھے، جن کے تحت 169 مخصوص مقاصد طے کیے گئے۔ ان میں 2030 تک دنیا سے انتہائی غربت ختم کرنے کا وعدہ بھی شامل تھا۔

بعد کے معاشی بحرانوں، خصوصاً کورونا وبا، یوکرین کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے ان اہداف کا حصول مزید مشکل بنا دیا ہے۔

حکومتیں اب 2030 کے بعد کی مدت کے لیے ایک نئے ترقیاتی لائحۂ عمل پر مذاکرات کی تیاری کر رہی ہیں۔

موجودہ ترقیاتی ایجنڈا ماحولیاتی تحفظ اور صحتِ عامہ سے لے کر انصاف، اداروں اور معاشی ترقی تک متعدد شعبوں پر محیط ہے۔

اس کی وسعت نے مختلف حکومتوں اور تنظیموں کو اپنے اپنے شعبوں کے لیے ترجیحات منتخب کرنے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم اہداف کی بڑی تعداد نے محدود وسائل اور سیاسی توجہ کو چند قابلِ پیمائش نتائج پر مرکوز کرنا بھی مشکل بنایا ہے۔

نظرثانی شدہ لائحۂ عمل میں غربت میں کمی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور کمزور معیشتوں کو عالمی مالیاتی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے پر زیادہ توجہ دی جا سکتی ہے۔

اس سلسلے میں ترقی پذیر ممالک کے ان خدشات کو بھی دور کرنا ہوگا کہ کہیں دولت مند حکومتیں اصلاحات کے نام پر اپنی ترقیاتی ذمہ داریوں سے پیچھے نہ ہٹ جائیں۔

نئے سیکریٹری جنرل کو ایسے قابلِ عمل اہداف پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا جن کی تعداد نسبتاً کم ہو، لیکن مالی نظم و ضبط کو غریب ممالک سے کیے گئے وعدے ترک کرنے کا جواز نہ بننے دیا جائے۔

کم کانفرنسیں، زیادہ مؤثر سفارت کاری

موسمیاتی تبدیلی اور نئی ٹیکنالوجیز سے متعلق اقوامِ متحدہ کے طریقۂ کار پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔

بڑے عالمی اجلاس عوامی آگاہی بڑھا سکتے ہیں، مختلف حلقوں کی شرکت یقینی بنا سکتے ہیں اور سیاسی پیش رفت کے لیے ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم شرکا کی بڑی تعداد لازماً واضح فیصلوں یا مؤثر عمل درآمد کی ضمانت نہیں ہوتی۔

گزشتہ سال برازیل میں منعقد ہونے والے اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی اجلاس میں حکومتوں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کے تقریباً 55 ہزار نمائندوں نے شرکت کے لیے اندراج کرایا تھا۔

ایسے اجتماعات وسیع عالمی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان میں مذاکرات کا عمل پیچیدہ بھی ہو سکتا ہے اور مخصوص معاہدوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

زیادہ منتخب سفارتی طریقۂ کار کے تحت چند حکومتیں مشکل پالیسی معاملات پر ابتدائی کام کر سکتی ہیں، جس کے بعد تجاویز وسیع تر بین الاقوامی مشاورت کے لیے پیش کی جائیں۔

ماضی میں کامیاب سیکریٹری جنرل اکثر محدود تعداد میں سفارتی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے اہم اقدامات کو آگے بڑھاتے رہے ہیں۔

یہی طریقہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، ٹیکنالوجی کی نگرانی اور بین الاقوامی معاشی تعاون جیسے موجودہ مسائل پر بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

بڑے عوامی اجتماعات کی اہمیت برقرار رہے گی، خصوصاً اس وقت جب ہچکچاہٹ کا شکار حکومتوں کو اقدام پر آمادہ کرنے کے لیے عالمی توجہ درکار ہو۔

تاہم ہر عالمی مسئلے کے جواب میں ایک اور بڑی کانفرنس منعقد کرنا ضروری نہیں۔

مستقبل کے بحرانوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی تیاری

اقوامِ متحدہ کے مستقبل سے متعلق بحث اکثر جامع ادارہ جاتی اصلاحات کے سوال تک پہنچتی ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ادارے کی ساختی مشکلات بالآخر رکن ممالک کو اس کے بنیادی منشور پر نظرثانی کے لیے آمادہ کر سکتی ہیں۔ دوسرے ماہرین کے مطابق کوئی بڑا عالمی بحران حکومتوں کو بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت کا احساس دلا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیا گیا وسیع سائبر حملہ یا موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی تباہ کن آفات کا سلسلہ الگ الگ قومی اقدامات کی حدود نمایاں کر سکتا ہے۔

ایسے امکانات ایک ایسے بین الاقوامی ادارے کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں جو اجتماعی کارروائی کو مربوط بنا سکے۔

نئے سیکریٹری جنرل کو مستقبل کے بحرانوں کی تیاری کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے فوری مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔

اس کے لیے تنازعات کی روک تھام بہتر بنانا، انسانی امداد کو زیادہ مؤثر کرنا، انتظامی ذمہ داریوں کی غیر ضروری تکرار ختم کرنا اور حکومتوں کو عملی ترقیاتی ترجیحات پر متفق کرنا ضروری ہوگا۔

ادارے کی ساکھ کا انحصار اس کے جاری کردہ اعلامیوں کی تعداد کے بجائے ان نتائج پر ہوگا جو وہ عملی طور پر حاصل کر سکے۔

محدود ترجیحات رکھنے والی اقوامِ متحدہ کا مقصد لازماً محدود نہیں ہوگا۔ اپنے وسائل کو ان ذمہ داریوں پر مرکوز کر کے جنہیں وہ حقیقتاً پورا کر سکتی ہے، یہ ادارہ تنازعات، انسانی بحرانوں اور مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری بین الاقوامی تعاون برقرار رکھ سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]