اگلا عالمی معاشی بحران چین میں جنم لے سکتا ہے

[post-views]
[post-views]

مائیکل بی۔ جی۔ فرومان

ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت کا انجام

گزشتہ چند برسوں کے دوران چین کی ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت کے بارے میں شکایات کی کوئی کمی نہیں رہی۔ بیجنگ نے برآمدات بڑھانے اور تجارتی سرپلس میں اضافے کو جس طرح ہر ممکن ذریعے سے آگے بڑھایا ہے، اس نے امریکہ اور یورپ جیسی ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ساتھ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ترقی پذیر ممالک کی صنعتی ترقی کی خواہشات کو بھی متاثر کیا ہے۔ اب اس چیلنج کی نوعیت پر پہلے سے کہیں زیادہ عالمی اتفاقِ رائے موجود ہے، لیکن اس کا چینی پالیسی پر بہت کم اثر پڑا ہے۔

اب یہ مسئلہ ایک نئی اور کہیں زیادہ خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے: دنیا کی چینی ضرورت سے زیادہ پیداوار کو جذب کرنے کی صلاحیت ایک فیصلہ کن حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اگر یہ حد ٹوٹ گئی تو اس کے نتیجے میں عالمی معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے، ایسے وقت میں جب حکومتیں اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے خاصی کمزور پوزیشن میں ہوں گی۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین نے ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی سرپلس قائم کیا ہے۔ 2025 میں یہ تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو عالمی اشیائی تجارت کی شرحِ نمو سے تین گنا زیادہ رفتار سے بڑھا۔ قلیل مدت میں یہ ماڈل چین کے لیے تزویراتی طور پر فائدہ مند اور دنیا کے باقی حصے کے لیے افراطِ زر کو کم رکھنے والا ثابت ہوا، لیکن سیاسی اور ساختی اعتبار سے یہ پائیدار نہیں۔ اس کے نتیجے میں پوری عالمی معیشت کے لیے ایک بڑھتا ہوا اور ابھی تک کم سمجھا جانے والا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران چین کی غیر معمولی معاشی ترقی ایک ایسے سازگار بین الاقوامی ماحول میں ممکن ہوئی جس میں دوسرے ممالک کم قیمت چینی مصنوعات قبول کرنے کے لیے تیار تھے، کیونکہ اس کے بدلے انہیں مؤثر سپلائی چینز اور صارفین کے لیے کم قیمتیں حاصل ہوتی تھیں۔ لیکن اب یہ بین الاقوامی ماحول زہریلا ہو چکا ہے۔ چینی درآمدات کے سیلاب کے نتیجے میں صنعتوں کی تباہی اور اہم شعبوں میں انحصار قبول کرنے کی سیاسی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔

جیسے جیسے یہ رجحان آگے بڑھے گا، تحفظ پسندانہ پالیسیاں بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں چینی صنعت کاروں کی عالمی منڈیوں تک رسائی محدود ہو سکتی ہے اور بیجنگ کی 2020 میں متعارف کرائی گئی “دوہری گردش” کی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے، جس کا مقصد داخلی معاشی خود کفالت کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں سے مسلسل وابستگی برقرار رکھنا ہے۔

لیکن مسئلہ صرف سیاسی ردعمل تک محدود نہیں۔ یہ ریاضی کا مسئلہ بھی ہے۔ جب چینی معیشت نسبتاً چھوٹی تھی تو مجموعی عالمی معاشی نمو کے مقابلے میں دو یا تین گنا تیز رفتار سے برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی ممکن تھی، کیونکہ عالمی طلب اتنی تھی کہ چینی برآمدات کو جذب کر سکے۔ آج چین کی معیشت بہت بڑی ہو چکی ہے اور وہ اس رفتار سے آگے بڑھتے ہوئے بالآخر خریداروں کی کمی کا شکار ہو جائے گا۔

سادہ الفاظ میں، چین اپنے موجودہ معاشی ماڈل سے آگے نکل چکا ہے۔

جب چینی برآمدی مشین رکنے لگے گی تو سب سے زیادہ تکلیف چین کو ہوگی۔ لیکن اس کی معیشت میں نمایاں سست روی دنیا بھر میں بالخصوص ایشیا پیسیفک اور ان ممالک میں شدید جھٹکے پیدا کرے گی جن کی معیشتیں چین کے ساتھ گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں۔ امریکہ بھی اس جھٹکے سے محفوظ نہیں ہوگا، تاہم عالمی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری معاشی اور ادارہ جاتی صلاحیت رکھنے والا واحد بڑا ملک امریکہ ہی ہوگا۔

اس صورت حال سے بچنے کا سب سے یقینی راستہ چینی معیشت میں پیشگی اور تدریجی توازن پیدا کرنا ہے۔ یہ طویل عرصے سے چین کے لیے زیادہ پائیدار معاشی ترقی کا بہترین راستہ رہا ہے اور امریکہ بھی کئی برسوں سے اس کی وکالت کرتا آیا ہے۔ لیکن جو بات کبھی دانش مندانہ انتخاب تھی، اب ضرورت بن چکی ہے۔

مطلق برتری کا نقصان

چین اب عالمی صنعتی پیداوار کا تقریباً 30 فیصد پیدا کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک یہ حصہ 45 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد کی امریکی معیشت کو چھوڑ کر صنعتی طاقت کے اس قدر ارتکاز کی کوئی تاریخی مثال نہیں ملتی۔

چین کی صنعتی پیداوار کا یہ سرپلس کسی قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے مطابق عالمی صنعتی منڈی میں چین کے حصے میں ہونے والے اضافے کا تقریباً 60 فیصد حکومتی سبسڈی سے پیدا ہوا ہے۔

شاید اس سبسڈی کی سب سے اہم شکل، اگرچہ بالواسطہ، چین کے سرکاری طور پر ہدایت کردہ مالیاتی نظام تک چینی صنعتی کمپنیوں کی رسائی ہے۔ یہ نظام ترجیحی شعبوں کو وسیع پیمانے پر قرض فراہم کرتا ہے، جس سے چینی کمپنیاں اپنے عالمی حریفوں کے مقابلے میں منافع اور سرمایہ کاری پر کم توجہ دیتے ہوئے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا سکتی ہیں۔

نتیجہ ایک تباہ کن مقابلہ ہے جس میں کمپنیاں قیمتیں لاگت سے بھی کم سطح تک لے جاتی ہیں، انتہائی کم یا منفی منافع قبول کرتی ہیں اور زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کے لیے مسلسل پیداوار بڑھاتی رہتی ہیں۔

تقریباً 30 فیصد چینی صنعتی کمپنیاں خسارے میں کام کر رہی ہیں، جبکہ کووڈ سے پہلے یہ شرح تقریباً 20 فیصد تھی۔ جن شعبوں میں سرمایہ کاری سب سے تیزی سے بڑھی ہے، وہاں یہ شرح 34 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

مقامی حکومتیں ناکام کمپنیوں کو ختم ہونے دینے کے بجائے انہیں روزگار اور ٹیکس آمدنی برقرار رکھنے کے لیے سہارا دیتی ہیں، جبکہ سرکاری بینک دیوالیہ قرض داروں کے قرضوں کو مسلسل آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ نظام، کم قدر والی چینی کرنسی کے ساتھ مل کر، چینی کمپنیوں کو دوسرے ممالک کی کمپنیوں کے مقابلے میں 30 فیصد تک کم قیمتیں مقرر کرنے کے قابل بناتا ہے۔

چین میں اس رجحان کے لیے ایک لفظ استعمال ہوتا ہے: “نیئی جُوآن”، جس کا مفہوم ایسی شدید مسابقت ہے جو کمپنیوں کو کم ہوتے منافع کے باوجود اپنی بقا کی آخری حد تک دھکیل دیتی ہے۔

کمپنیاں زیادہ پیداوار کے لیے زیادہ سرمایہ لگاتی ہیں، زیادہ برآمدات کرتی ہیں، کم یا منفی منافع پر اشیا فروخت کرتی ہیں اور مقامی حکومتیں انہیں سبسڈی دیتی رہتی ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسا صنعتی نظام وجود میں آ گیا ہے جو نہ رک سکتا ہے اور نہ سست ہو سکتا ہے، لیکن طلب کی حدود کے باعث مسلسل چل بھی نہیں سکتا۔

بحران ناگزیر نہیں۔ چینی معیشت میں مزاحمت کی قابل ذکر صلاحیت موجود ہے اور چینی قیادت نے کم از کم کاغذ پر مسئلے کو تسلیم کرنے اور اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے 2025 میں ضرورت سے زیادہ مسابقت کے خلاف مہم شروع کی اور 2026 سے 2030 کے لیے اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں بالخصوص دیہی علاقوں میں کھپت بڑھانے پر زور دیا ہے۔

لیکن بیجنگ اب بھی سب سے اہم تبدیلی کے لیے تیار نہیں: ملک کی معاشی ترقی کی حکمت عملی کو بنیادی طور پر زیادہ پائیدار ماڈل کی طرف منتقل کرنا۔

چین کی معیشت ایک ایسی “مطلق برتری” کی معیشت بن گئی ہے جو مصنوعی ذہانت، برقی گاڑیوں اور الیکٹرانکس میں امریکہ سے مقابلہ کرتی ہے اور اسی وقت ٹیکسٹائل، ملبوسات اور گھریلو اشیا میں افریقہ کے غریب ترین ممالک سے بھی مقابلہ کر رہی ہے۔

یہ بنیادی معاشی منطق یعنی تقابلی برتری کے اصول کے بھی خلاف ہے۔

خطرے کی واضح نشانیاں

اب دوسرے ممالک بھی چینی برآمدات کے سیلاب کو روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسی پالیسیاں چین کی وسیع عالمی منڈیوں تک رسائی کو اچانک محدود کر سکتی ہیں، جس سے چین کے برآمدی ماڈل کی ناکامی تیز ہو سکتی ہے اور عالمی معاشی بحران کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

جرمنی اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 2025 میں جرمنی کی چین کو اشیا کی برآمدات ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ دوسری سمت سے چینی درآمدات میں اضافہ ہوا۔

سب سے شدید اثر گاڑیوں کے شعبے پر پڑا ہے۔ چینی گاڑیوں کی عالمی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ جرمن کمپنیوں کا چینی مارکیٹ میں حصہ کم ہوتا گیا۔ 2022 سے 2025 کے درمیان جرمنی کی چین کو کاروں کی برآمدات 66 فیصد کم ہوئیں، جبکہ چین کی مجموعی گاڑیوں کی برآمدات دگنی سے بھی زیادہ ہو گئیں۔

نتیجتاً جرمن آٹو صنعت میں ملازمتوں کا خاتمہ عالمی مالیاتی بحران 2008-09 یا کووڈ وبا کے مقابلے میں بھی زیادہ سنگین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

یورپی یونین بھی اب چینی برآمدات کے خلاف تجارتی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ 2024 میں یورپی کمیشن نے چینی ساختہ برقی گاڑیوں پر 35.3 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے۔

یہ چیلنج صرف امریکہ اور یورپ تک محدود نہیں۔ جب چین نے اہم معدنیات اور متعلقہ مصنوعات، خصوصاً مقناطیس، کی پروسیسنگ میں اپنی برتری کو معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا مظاہرہ کیا تو متعدد ممالک نے مشترکہ ردعمل دینا شروع کر دیا۔

اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو چین کے لیے بیرونی طلب میں اچانک اور مستقل کمی واقع ہو سکتی ہے۔

دنیا کافی نہیں

چین کے تجارتی شراکت داروں کی سیاسی معیشت جہاں ایک چیلنج ہے، وہیں ریاضی کے قوانین بھی بیجنگ کے معاشی ماڈل کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔

2026 کے پہلے دو ماہ میں چین کا تجارتی سرپلس سالانہ بنیاد پر 20 فیصد سے زیادہ بڑھا، جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق عالمی معیشت کی اس سال متوقع شرح نمو صرف 3.1 فیصد ہے۔

یہ رجحان پائیدار نہیں۔ عالمی طلب اتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہی کہ چینی برآمدات کو اسی رفتار سے جذب کر سکے۔

سولر پینلز اور برقی گاڑیوں کے شعبے میں یہ مسئلہ خاص طور پر نمایاں ہے۔ چین نے سالانہ تقریباً 1,200 گیگاواٹ سولر انفراسٹرکچر تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے، جو گزشتہ سال دنیا بھر میں نصب کی جانے والی مقدار سے تقریباً دو گنا ہے۔

برقی گاڑیوں کے شعبے میں چین نے تقریباً 25 ملین برقی اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں بنانے کی سالانہ صلاحیت پیدا کر لی ہے، جبکہ چینی داخلی طلب تقریباً 12 ملین گاڑیوں پر رک گئی ہے۔

دنیا بھر میں اس سال برقی گاڑیوں کی طلب تقریباً 23 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے۔

کسی مرحلے پر چین کی بنائی ہوئی تمام گاڑیوں کے لیے خریدار باقی نہیں رہیں گے۔

کھیل ختم؟

بیجنگ برآمدات کو بڑھانے اور دوہری گردش کے نظام کو جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ وہ چینی کرنسی کی قدر کم کر سکتا ہے، ترجیحی شعبوں کے لیے مزید سبسڈی فراہم کر سکتا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ہارڈویئر اور تجارتی طیاروں جیسے نئے شعبوں میں زیادہ تیزی سے داخل ہو سکتا ہے۔

لیکن دنیا طویل عرصے تک ایسی صورت حال برداشت نہیں کرے گی۔

چین کو 2008-09 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران بیرونی طلب میں کمی کا سامنا پہلے بھی ہوا تھا۔ اس وقت بیجنگ نے داخلی کھپت بڑھانے کے بجائے تقریباً 586 ارب ڈالر کا معاشی محرک پیکیج متعارف کرایا، جس کا بڑا حصہ بنیادی ڈھانچے اور تعمیرات میں لگایا گیا۔

اس وقت یہ حکمت عملی اس لیے کامیاب رہی کیونکہ چین میں متوسط طبقہ بڑھ رہا تھا، شہری آبادی میں اضافہ ہو رہا تھا اور کام کرنے کی عمر کی آبادی بھی بڑھ رہی تھی۔

اب یہ تمام عوامل الٹ چکے ہیں۔

چین کی کام کرنے کی عمر کی آبادی 2015 میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی، جبکہ مجموعی آبادی 2022 سے کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔

اگر موجودہ صنعتی برآمدی رفتار رک گئی تو چین کے لیے معاشی نمو کا اگلا انجن تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ جائیداد کا شعبہ طویل بحران کا شکار ہے، بنیادی ڈھانچے میں مزید غیر ضروری سرمایہ کاری کی گنجائش محدود ہے، مینوفیکچرنگ داخلی طلب سے کہیں زیادہ پیداوار کر رہی ہے اور خدمات کا شعبہ اتنا بڑا نہیں کہ صنعتی شعبے سے بے روزگار ہونے والی افرادی قوت کو جذب کر سکے۔

اگلا چائنا شاک

چین کے معاشی نظام کو پہنچنے والا شدید جھٹکا پوری معیشت میں سنگین اثرات پیدا کر سکتا ہے۔

کم منافع پر کام کرنے والی بڑی تعداد میں کمپنیاں ناکام ہو سکتی ہیں، سرکاری بینکوں کو ان خسارہ زدہ کمپنیوں کے نقصانات تسلیم کرنا پڑ سکتے ہیں جنہیں وہ برسوں سے سہارا دیتے رہے ہیں، مقامی حکومتوں کے مالیاتی ادارے قرضوں کی ادائیگی میں ناکام ہو سکتے ہیں اور صوبائی آمدنی زمین کی فروخت اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی کے ساتھ گر سکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں چین کے ساحلی صنعتی صوبوں میں بے روزگاری بڑھ سکتی ہے۔

اس کے عالمی اثرات بھی سنگین ہوں گے۔ چینی طلب میں کمی بالخصوص خام مال اور درمیانی درجے کی صنعتی مصنوعات برآمد کرنے والی معیشتوں کو شدید متاثر کرے گی۔

2012 سے 2015 کے درمیان جب چین کی مقررہ اثاثوں میں سرمایہ کاری کی رفتار کم ہوئی تو تانبے کی قیمتیں 40 فیصد سے زیادہ، تیل کی قیمتیں 60 فیصد سے زیادہ اور لوہے کی قیمتیں 70 فیصد سے زیادہ گر گئیں۔

آسٹریلیا، برازیل اور چلی اپنی مجموعی برآمدات کا 25 سے 40 فیصد چین کو بھیجتے ہیں۔ انگولا، جمہوریہ کانگو، منگولیا اور جمہوریہ کانگو اپنی برآمدات کا 45 سے 90 فیصد چین کو بھیجتے ہیں۔

پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک بھی چینی سرمایہ کاری اور قرضوں پر انحصار رکھتے ہیں۔ اگر بیجنگ کو اپنے داخلی بحران سے نمٹنے کے لیے بیرونی مالیاتی سرگرمیاں محدود کرنا پڑیں تو پاکستان، ایکواڈور، زیمبیا اور دیگر ممالک میں قرضوں کی نئی تنظیمِ نو اور ڈیفالٹس کی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔

عالمی معیشت شاید 2009 کے مقابلے میں کچھ شعبوں میں زیادہ مضبوط ہو، لیکن حکومتوں پر قرض کا بوجھ کہیں زیادہ ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں کا اوسط سرکاری قرض 2008 میں جی ڈی پی کے تقریباً 70 فیصد کے برابر تھا۔ آج یہ شرح تقریباً 110 فیصد ہے۔

اگر بدترین صورت حال سامنے آتی ہے تو امریکی فیڈرل ریزرو کی 2008 یا 2020 جیسی کرنسی تبادلہ سہولتیں اور عالمی مالیاتی فنڈ کے اضافی وسائل دوبارہ درکار ہو سکتے ہیں۔

راستہ کیا ہے؟

اگر چین میں معاشی بحران پیدا ہوتا ہے تو بیجنگ سے عالمی ردعمل کی قیادت کی توقع مشکل ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی معیشت میں بحرانوں کے دوران واشنگٹن نے جو کردار ادا کیا، چین نے اب تک اس سطح کی ذمہ داری یا صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اس لیے اگر اگلا بحران چین میں پیدا بھی ہو تو اس کے اثرات سے نمٹنے کی ذمہ داری ایک بار پھر امریکہ اور اس سے وابستہ عالمی اداروں پر آ سکتی ہے۔

اس بدترین نتیجے سے بچنے کے لیے چین کو امریکہ اور دوسری بڑی معیشتوں کے ساتھ مل کر اپنی معیشت میں پیشگی اور تدریجی توازن پیدا کرنا ہوگا۔

اس کے لیے چینی کرنسی کی قدر میں مرحلہ وار اضافہ، ترجیحی شعبوں میں سبسڈی میں کمی، گھریلو کھپت میں اضافہ، سماجی تحفظ کے نظام کی مضبوطی اور چین کی برآمدی انحصار میں کمی ضروری ہوگی۔

چین کے تجارتی شراکت دار بھی اپنی تحفظ پسندانہ پالیسیوں کو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتے ہیں تاکہ اس منتقلی کا بوجھ کسی ایک ملک یا شعبے پر نہ پڑے۔

یہ وہ اقدامات ہیں جن کی ضرورت چین خود بھی طویل عرصے سے جانتا ہے، لیکن اب تک بڑی حد تک نظرانداز کرتا آیا ہے۔

واشنگٹن بیجنگ کی مستقبل کی معاشی پالیسی کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے اسے ایسے ممالک کا اتحاد تشکیل دینا ہوگا جو چین کو معاشی توازن پیدا کرنے کے لیے دباؤ بھی دے اور اس عمل کو ممکن بنانے میں مدد بھی کرے۔

اس مقصد کے لیے جی-20 سربراہی اجلاس ایک اہم موقع ہو سکتا ہے، کیونکہ عالمی معاشی خطرات سے نمٹنا اس گروپ کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل رہا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق پائیدار ترقی کے فقدان کے بعد عالمی عدم توازن کا سست رفتار بڑھنا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دنیا ایک ایسے چین کو برداشت نہیں کر سکتی جس کا تجارتی سرپلس ایک ٹریلین ڈالر ہو۔

اس مسئلے کو امریکہ اور چین کے تعلقات کے مرکز میں لانا ضروری ہے۔

یہ کام آسان نہیں ہوگا، لیکن اس کے متبادل کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ چین کو اس بحران کا سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا، مگر اس کے اثرات صرف چین تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ عالمی معیشت میں ایسا سلسلہ وار بحران پیدا کر سکتے ہیں جس کی مثال 2008-09 کے بعد سے نہیں ملتی۔

یہی حقیقی “اگلا چائنا شاک” ہو سکتا ہے، اور اسے امریکہ اور چین کے تعلقات کے مرکز میں ہونا چاہیے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]