یوروکریسی کسی الگ تھلگ انتظامی نظام میں کام نہیں کرتی بلکہ ریاست کے وسیع تر ادارہ جاتی ڈھانچے کا حصہ ہوتی ہے۔ اس لیے سول سروس میں مؤثر اور بامعنی اصلاحات کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی اداروں کی ساخت، اختیارات اور باہمی تعلقات کا جامع جائزہ لیا جائے۔
ریپبلک پالیسی کے زیرِ اہتمام قومی اصلاحاتی تحریک کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق بیوروکریٹ وسیم الطاف نے اس بنیادی نکتے پر زور دیا کہ سول سروس اصلاحات کو مجموعی ادارہ جاتی اصلاحات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق انتظامی نظام میں مؤثر تبدیلی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے، جس میں ریاستی اداروں کی ساخت اور نظامِ حکمرانی کی بنیادی اصلاحات کو مرکزی اہمیت حاصل ہو۔
پاکستان کے نظامِ حکمرانی، سول سروس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ریپبلک پالیسی کی تحقیقی کتب کا مطالعہ کریں۔
0341-4222501








