عالمی سیاست، جنگی خطرات اور انسانی مستقبل

[post-views]
[post-views]

ظفر اقبال

عالمی سیاست اکیسویں صدی کے وسط میں ایک پیچیدہ اور نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں تیز رفتار ٹیکنالوجی کی ترقی اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش نے بین الاقوامی نظام کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ سرد جنگ کے بعد جس عالمی امن کی امید پیدا ہوئی تھی وہ بتدریج کمزور پڑ چکی ہے۔ نائن الیون کے بعد عالمی سلامتی کا تصور تبدیل ہوا، چین کے ابھرنے، روس کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول نے طویل المدتی اسٹریٹجک سوچ کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ موجودہ دور میں قوم پرستی اور سیاسی مقبولیت کے رجحانات نے عالمی تعاون کے امکانات کو مزید محدود کیا ہے، مگر انسانی تہذیب کو درپیش خطرات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ فوری سیاسی دباؤ کے باوجود دور اندیش حکمت عملی اپنائی جائے۔

دو ہزار چھبیس تک عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ علاقائی تنازعات کا حل نہ ہونا ہے۔ مشرقی یورپ، یوکرین، تائیوان اور دیگر متنازع علاقوں میں کشیدگی کسی بھی وقت بڑے پیمانے کی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بظاہر محدود تنازعات بھی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ پہلی عالمی جنگ اس کی مثال ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ سفارتی راستوں کو مضبوط کیا جائے، نئے سکیورٹی معاہدے تشکیل دیے جائیں اور فریقین کو ایسے انتظامات پر آمادہ کیا جائے جو خود مختاری اور علاقائی استحکام دونوں کو برقرار رکھ سکیں۔

موجودہ دور میں ٹیکنالوجی سے وابستہ خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، جدید حیاتیاتی سائنس اور جوہری ہتھیار عالمی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے سائبر حملے، خودکار ہتھیاروں کی تیاری اور منفی پروپیگنڈا مہمات ممکن ہیں۔ اسی طرح جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے خطرناک وائرس تیار کرنے کا خطرہ بھی موجود ہے جو عالمی وباؤں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود ان کے استعمال کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، اس لیے عالمی سطح پر ہتھیاروں کے کنٹرول کے نئے نظام کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں بین الاقوامی شفافیت، نگرانی کے جدید نظام اور تکنیکی تعاون ناگزیر ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی، وبائی امراض اور قدرتی وسائل کی کمی بھی عالمی سیاست پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ عالمی کوششیں ضروری ہیں۔ کچھ ماہرین جیو انجینئرنگ جیسے جدید طریقوں پر غور کر رہے ہیں مگر ایسے اقدامات صرف اس وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب بڑی طاقتیں مشترکہ اصولوں پر اتفاق کریں۔ اسی طرح عالمی وباؤں سے بچاؤ کے لیے ویکسین تحقیق، ابتدائی وارننگ نظام اور حفاظتی آلات کی فراہمی کو فروغ دینا ضروری ہے۔

ترقی اور انسانی وقار کا تحفظ بھی عالمی امن کے لیے بنیادی شرط ہے۔ غربت، کمزور حکمرانی اور معاشی عدم مساوات اکثر تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ ترقیاتی امداد، براہ راست مالی معاونت، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس مسئلے کا حل ہو سکتی ہے۔ جنوبی کوریا، تائیوان اور بعض دیگر ممالک کی ترقیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ اگر معاشی پالیسیوں کو بہتر حکمرانی کے ساتھ جوڑا جائے تو ترقی تیز ہو سکتی ہے۔ جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی امداد کی براہ راست ترسیل بھی ممکن ہے۔

دو ہزار چھبیس تک جاری ایران۔امریکہ۔اسرائیل کشیدگی نے عالمی معیشت اور توانائی کی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو خلیجی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، سپلائی چین میں کسی بھی خلل سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ ترسیلات زر بھی ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ خلیجی ممالک سے آنے والی رقوم پاکستان کی بیرونی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر علاقائی جنگ طویل ہوئی تو مزدوروں کی روزگار کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے اور زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے جبکہ بحری راستوں پر خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اگر جنگ طویل ہوئی تو عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار کم ہو سکتی ہے اور کئی ممالک کساد بازاری کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

عالمی سلامتی کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں علاقائی تنازعات کا حل، ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال، ماحولیاتی تحفظ اور غربت میں کمی شامل ہو۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو امن قائم رکھنے کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی تعاون کے بغیر عالمی خطرات سے نمٹنا ممکن نہیں۔

سیاسی اور سماجی عوامل بھی اس حکمت عملی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قوم پرستی، اقتصادی بے یقینی اور داخلی سیاسی دباؤ طویل المدتی عالمی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی تعاون کو اس انداز میں پیش کیا جائے جو عوامی مفاد سے بھی ہم آہنگ ہو۔

مستقبل کا راستہ مکمل عالمی اتحاد نہیں بلکہ خطرات میں کمی اور انسانی سلامتی کے تحفظ کی طرف ہے۔ کسی ایک ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ تنہا عالمی مسائل حل کر سکے۔ اس لیے کثیرالجہتی سفارت کاری، بین الاقوامی اداروں کی مضبوطی اور نجی شعبے کی شمولیت ضروری ہے۔ اگر دنیا ابھی سے مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنائے تو عالمی امن اور انسانی ترقی کا راستہ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

عمل کا وقت گزر نہیں چکا مگر وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی قیادت کو چاہیے کہ وہ فوری، مربوط اور ذمہ دارانہ فیصلے کرے تاکہ انسانی تہذیب کو مستقبل کے بڑے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos