نقوی: نئے انتظامی یونٹس عوامی رضامندی سے ہی بننے چاہئیں

[post-views]
[post-views]

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس صرف اسی صورت میں قائم کیے جانے چاہئیں جب عوام ان کی حمایت اور منظوری دیں۔

لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نظام کو ازسرِنو ترتیب دینے کا مطلب اسے توڑنا نہیں بلکہ جو چیز درست کام نہیں کر رہی، اسے تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایسی اصلاحات سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی خواہش کے مطابق ہونی چاہئیں۔ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس نہیں چاہتے تو انہیں قائم نہیں کیا جانا چاہیے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اتنی بڑی انتظامی تبدیلی محض کسی ایک فرد، سیاسی جماعت یا حکومت کی خواہش پر نہیں لائی جا سکتی۔ ان کے مطابق اس پورے عمل میں عوامی رضامندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

وزیر داخلہ نے نئے انتظامی یونٹس کے فوائد اور نقصانات پر وسیع قومی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پہلے ایک باقاعدہ منصوبہ تیار کیا جائے اور پھر اسے عوام کے سامنے پیش کرکے ان کی رائے معلوم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کی تعداد اور ان کی جغرافیائی حدود کے سوالات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان یونٹس کے فوائد، قیام کے طریقہ کار اور مالی اثرات کو اچھی طرح جانچنے کی ضرورت ہے۔

محسن نقوی کے مطابق پارلیمان، ماہرین اور دیگر متعلقہ حلقوں کو اس معاملے پر بحث کرنی چاہیے اور اس کے بعد عوام کی رائے حاصل کی جانی چاہیے۔

گزشتہ ماہ اپنے بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی تنقید کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں تھی بلکہ وہ اس انتظامی نظام کی بات کر رہے تھے جو قیامِ پاکستان سے چلا آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اصلاحات آئین کے مطابق اور جمہوری طریقے سے ہونی چاہئیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو یہ تسلیم نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے انتظامی نظام کی اصلاح کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کے بارے میں جذباتی تقاریر کے باوجود وہ اس خیال کی حمایت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے سیاست دانوں سے بھی کہا کہ اس معاملے کو جذباتی انداز میں نہ دیکھا جائے کیونکہ اتنی بڑی تبدیلی راتوں رات نہیں آسکتی۔

محسن نقوی کے مطابق پاکستان کا موجودہ انتظامی نظام اپنی مؤثریت کھو چکا ہے اور اس کے فوائد عام شہریوں تک نہیں پہنچ رہے۔

حکمرانی کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی ہر 10 میں سے چار بچے مطلوبہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے، صرف 55 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے، جبکہ عدالتوں میں تقریباً 20 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔

ان کے مطابق حکومت انتظامی اصلاحات کے ذریعے انہی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

محسن نقوی نے خود کو ’’اسلام آباد صوبے کا سب سے بڑا حامی‘‘ بھی قرار دیا اور کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں حصہ ملنا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد ملک کا واحد شہر ہے جسے پاکستان کے بجٹ سے ایک روپیہ بھی نہیں ملتا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کو صوبے کا درجہ دینے سے وہاں کے شہریوں کو ان کے حقوق مل سکیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]