مصنوعی ذہانت سے ہمیں کتنا فکرمند ہونا چاہیے؟

[post-views]
[post-views]

مصنوعی ذہانت ایک غیر معمولی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، کمپنیاں اس سے بہت بڑے معاشی فوائد کی توقع کر رہی ہیں اور حکومتیں یہ طے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں کہ اسے کس طرح ضابطے میں لایا جائے۔ اسی دوران عوامی تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔

تجرباتی مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے غیر متوقع انداز میں کام کرنے کے حالیہ واقعات نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ زیادہ صلاحیت رکھنے والے ماڈلز کو قابو میں رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ سیاسی شخصیات نے سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے اور بعض حلقوں نے تو جدید ترین نظاموں کی تیاری عارضی طور پر روکنے کی تجویز بھی دی ہے۔

لیکن شاید تشویش کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس کا اظہار خود مصنوعی ذہانت کی صنعت کے اندر سے بھی ہو رہا ہے۔

دنیا کے طاقتور ترین مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کرنے والی بعض کمپنیوں کے سربراہ باقاعدگی سے خبردار کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ ان کی گفتگو سے بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصنوعی ذہانت کمپنیوں کی جانب سے سوچ سمجھ کر تیار کی جانے والی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کوئی ایسی آزاد قوت ہے جسے انسان نے اچانک دریافت کرلیا ہے اور اب اسے اس کے ساتھ زندہ رہنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا۔

یہ ایک عجیب تضاد پیدا کرتا ہے۔ جو کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو زیادہ طاقتور بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، وہی معاشرے کو اس کے مزید طاقتور ہونے کے ممکنہ نتائج سے خبردار بھی کر رہی ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟

اس کی ایک وجہ جدید مصنوعی ذہانت کی فکری تاریخ میں پوشیدہ ہے۔

آج کی بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے وجود میں آنے سے بہت پہلے ٹیکنالوجی کے ماہرین اور مستقبل کے امکانات پر غور کرنے والے چھوٹے چھوٹے حلقے اس امکان پر بحث کر رہے تھے کہ مشینیں ایک دن انسانی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہیں۔ 1990 کی دہائی میں ایکسٹروپینز جیسی تحریکوں نے ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کیا جس میں ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو غیر معمولی طور پر تبدیل کرسکتی تھی۔ اس تصور میں انسانی عمر میں غیر معمولی اضافہ، ذہین مشینیں اور شاید انسانی وجود کی بعض حیاتیاتی حدود پر قابو پانا بھی شامل تھا۔

ایلیزر یڈکوسکی اسی فکری ماحول سے سامنے آئے۔ ابتدا میں وہ اس امکان سے متاثر تھے کہ انتہائی ذہین مشینیں انسانیت کے بڑے مسائل حل کرسکتی ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کی توجہ ایک مختلف سوال کی طرف ہوگئی: اگر انسان ایسی ذہانت پیدا کردے جسے وہ خود قابو نہ کرسکے تو کیا ہوگا؟

یہ سوال بعد میں اس مسئلے کا بنیادی حصہ بن گیا جسے آج مصنوعی ذہانت کی انسانی مقاصد سے ہم آہنگی کہا جاتا ہے۔

بنیادی مسئلہ نسبتاً سادہ ہے۔ کوئی مشین انتہائی ذہین ہوسکتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے مقاصد انسانی ارادوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔ اگر کوئی انتہائی باصلاحیت نظام ایسے مقصد پر عمل کرے جس کی درست وضاحت نہ کی گئی ہو تو بظاہر بے ضرر ہدایت بھی نقصان دہ نتائج پیدا کرسکتی ہے۔

اسی خیال سے ایک بااثر فکری تحریک نے جنم لیا جو مصنوعی ذہانت سے انسانیت کے وجود کو لاحق ممکنہ خطرات پر توجہ دیتی ہے۔ بعد میں یہ تصورات سلیکون ویلی تک پہنچے اور محققین، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو متاثر کیا۔ یہ تاریخ اس لیے اہم ہے کہ آج مصنوعی ذہانت کی سمت متعین کرنے والے بعض افراد نے اسے محض سافٹ ویئر کی ایک نئی نسل کے طور پر نہیں دیکھا۔ انہوں نے اسے ایک ایسے نظریے کے تحت سمجھا جس میں مصنوعی ذہانت بالآخر انسانی تہذیب کو تبدیل کرسکتی ہے۔

اسی پس منظر سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ آج مصنوعی ذہانت کے بارے میں گفتگو میں اتنی غیر معمولی زبان کیوں استعمال ہوتی ہے۔

تاہم ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں پر مبنی خدشات آج ہمارے سامنے موجود مسائل سے توجہ نہ ہٹا دیں۔

معاشرے میں بڑی تبدیلیاں پیدا کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا انسانی ذہانت سے کہیں زیادہ طاقتور ہونا ضروری نہیں۔

یہ پہلے ہی روزگار کی منڈیوں کو تبدیل کرسکتی ہے، غلط معلومات کے پھیلاؤ کو تیز کرسکتی ہے، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنا سکتی ہے، معاشی طاقت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرسکتی ہے اور لوگوں کے سیکھنے، لکھنے، بات چیت کرنے اور فیصلے کرنے کے طریقوں کو بدل سکتی ہے۔ تیزی سے خودمختار ہوتے نظام سائبر سکیورٹی اور جواب دہی کے حوالے سے بھی سنگین سوالات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ مستقبل کے محض فلسفیانہ امکانات نہیں بلکہ حکمرانی کے ایسے مسائل ہیں جو اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی ہمارے سامنے آرہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کو ایک ایسی طاقت سمجھنے میں ایک اور خطرہ بھی ہے جسے روکا نہیں جاسکتا: اس سے اسے بنانے والے افراد اور اداروں کو اپنی ذمہ داری سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ زلزلے یا سمندری طوفان کی طرح اچانک نہیں آتی۔ اس کے ماڈلز کمپنیاں تیار کرتی ہیں، انہیں بہت بڑے کمپیوٹنگ وسائل کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے، ان کے اجرا کا فیصلہ کارپوریٹ ادارے کرتے ہیں اور انہیں انسانوں کے بنائے ہوئے قانونی اور معاشی نظاموں کے اندر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس لیے جب مصنوعی ذہانت کا کوئی نظام خطرناک انداز میں کام کرے تو ہمارا ردعمل صرف اس حیرت تک محدود نہیں ہونا چاہیے کہ ’’مصنوعی ذہانت‘‘ نے کیا کردیا۔ کسی نے یہ فیصلہ کیا ہوتا ہے کہ اس نظام کو کس طرح تربیت دی جائے، اسے کون سی صلاحیتیں فراہم کی جائیں، اس کے گرد کیا حفاظتی انتظامات ہوں اور اسے کب استعمال کے لیے جاری کیا جائے۔

ذمہ داری انسانوں ہی کی رہنی چاہیے۔

اسی لیے مصنوعی ذہانت کی بحث کو دو انتہائی تصورات تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے کہ یا تو یہ انسانی تہذیب کو بچا لے گی یا اسے تباہ کردے گی۔

انسانی تاریخ میں بیشتر بڑی ٹیکنالوجیز نے غیر معمولی فوائد کے ساتھ سنگین مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ بجلی نے صنعت کو بدل دیا۔ گاڑی نے شہروں کی ساخت تبدیل کردی۔ جوہری طبیعیات نے انسان کو توانائی بھی دی اور تباہ کن ہتھیار بھی۔ انٹرنیٹ نے علم تک رسائی کو وسیع کیا، لیکن اس کے ساتھ دھوکا دہی، جرائم اور سیاسی عدم استحکام کی نئی صورتیں بھی سامنے آئیں۔

مصنوعی ذہانت بھی ممکنہ طور پر مواقع اور مسائل کا اپنا امتزاج لے کر آئے گی۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہمیں مصنوعی ذہانت سے ڈرنا چاہیے یا نہیں۔ خوف بذاتِ خود کوئی پالیسی نہیں۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے اتنی تیزی سے اپنی صلاحیت بڑھا رہے ہیں کہ ہر سال زیادہ طاقتور ہوتی ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے منظم کرسکیں؟

اس کے لیے آزادانہ حفاظتی جانچ، طاقتور نظام متعارف کرانے والی کمپنیوں کی واضح ذمہ داری، مضبوط سائبر سکیورٹی معیارات، سنگین ناکامیوں کے بارے میں شفافیت اور ان شعبوں میں مناسب حدود درکار ہیں جہاں کسی غلطی سے غیر معمولی نقصان ہوسکتا ہے۔ حکومتوں کو اپنی تکنیکی مہارت بھی پیدا کرنا ہوگی تاکہ وہ ان کمپنیوں پر مکمل انحصار نہ کریں جنہیں منظم کرنا خود حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

ساتھ ہی ضابطہ سازی میں ثابت شدہ خطرات اور قیاس آرائیوں پر مبنی خدشات کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ خوف اور گھبراہٹ کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کو منظم کرنے سے مفید جدت متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ محض اس لیے حقیقی خطرات کو نظرانداز کرنا کہ بعض پیش گوئیاں انتہائی معلوم ہوتی ہیں، اتنا ہی غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔

ہمیں مصنوعی ذہانت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، لیکن اسے ایک دیومالائی قوت نہیں بنانا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی فکری تاریخ یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ اس کے بارے میں بحث اکثر ایک مثالی مستقبل اور مکمل تباہی کے دو انتہاؤں کے درمیان کیوں گھومتی ہے۔ لیکن معاشرے کے لیے ان میں سے کسی ایک تصور کو ناگزیر سمجھنا ضروری نہیں۔

مصنوعی ذہانت اب بھی انسانوں، کمپنیوں اور اداروں کی تخلیق کردہ ٹیکنالوجی ہے۔ اس کا مستقبل صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوگا کہ مشینیں کتنی ذہین ہوجاتی ہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ انسان انہیں منظم کرنے میں کتنی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

سب سے بڑا خطرہ شاید یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت اچانک حد سے زیادہ طاقتور ہوجائے۔ اصل خطرہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی طاقت اس رفتار سے بڑھے جس رفتار سے ہمارے ادارے اسے قابو میں رکھنے کی صلاحیت پیدا نہ کرسکیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]