پاکستان نے پیر کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارت کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کے خودمختاری سے متعلق دعوے اس علاقے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب بھارت نے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد پر مؤقف اختیار کیا۔ اس قرارداد کا مقصد عالمی نقشوں پر براعظموں کے زمینی رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرنا ہے۔ بھارت ان 164 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے قرارداد کی حمایت کی۔
بعد ازاں بھارتی وزارت خارجہ نے وضاحت کی کہ قرارداد کسی مخصوص نقشے یا قومی سرحدوں کی کسی خاص عکاسی کی توثیق نہیں کرتی۔ بھارت نے مؤقف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ سمیت اس کے زیر دعویٰ علاقوں کو اس کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے اور اس سے کسی بھی انحراف کو ناقابل قبول قرار دیا۔
بھارتی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے نئی دہلی کے مؤقف کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی دعوے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقائق کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل قبضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے، جس کا اظہار اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے۔
سجاد حیدر خان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشوں میں جموں و کشمیر کو ایک متنازع علاقہ دکھایا گیا ہے، جو اس کی موجودہ قانونی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے۔









