ویٹیکن نے مصنوعی ذہانت کی عالمی نگرانی کے لیے مشترکہ ضابطوں کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے طاقتور ہوتے نظام انسانی وقار، آزادانہ فیصلہ سازی اور عالمی امن کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پوپ لیو چہاردہم کی پاپائیت کے اہم موضوعات میں شامل ہو گئی ہے۔ ویٹیکن نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی معاشروں کو اس رفتار سے تبدیل کر سکتی ہے جس کے مقابلے میں حکومتوں اور اداروں کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔
کیتھولک چرچ کے تحفظات ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کی حالیہ تنبیہات کا ردِعمل نہیں ہیں۔ ویٹیکن کئی برسوں سے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی، سماجی اور سلامتی سے متعلق اثرات کا جائزہ لے رہا ہے اور اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ تکنیکی ترقی کو انسانی وقار، عالمی امن اور اجتماعی فلاح کے تابع رہنا چاہیے۔
پوپ لیو متعدد مواقع پر حکومتوں سے مصنوعی ذہانت کے لیے بین الاقوامی قوانین وضع کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیشِ نظر مختلف ممالک کے الگ الگ اقدامات کے بجائے مشترکہ عالمی نگرانی ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت کے خطرات پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی تشویش میں اضافہ
مصنوعی ذہانت کے زیادہ ترقی یافتہ نظاموں سے وابستہ خطرات پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کی جانب سے کھل کر بات کرنے کے بعد اس معاملے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
برطانیہ کے بادشاہ چارلس کی میزبانی میں ہونے والی ایک حالیہ ملاقات میں اوپن اے آئی، انتھروپک اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے نمائندوں کے علاوہ پالیسی سازوں اور ویٹیکن کے مشیر پادری پاؤلو بینانتی نے بھی شرکت کی۔
ملاقات میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور اس کی تیز رفتار ترقی کے باعث حکومتوں کو درپیش چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق ویٹیکن کے نمایاں مشیر پاؤلو بینانتی خبردار کر چکے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی معاشروں میں ایسی دور رس تبدیلیاں لا سکتی ہے جن کے نتائج کا پیشگی اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ویٹیکن کا مؤقف سلیکون ویلی سے سامنے آنے والی حالیہ تشویش سے پہلے کا ہے اور اس کی بنیاد ٹیکنالوجی اور انسانی فلاح کے تعلق پر کئی برسوں سے جاری غور و فکر میں موجود ہے۔
پوپ کی عالمی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے متعلق تنبیہ
پوپ لیو نے رواں ہفتے ویٹیکن کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ مصنوعی ذہانت بے شمار فوائد فراہم کر سکتی ہے، تاہم اس کی ترقی بین الاقوامی سلامتی اور امن کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔
انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ نگرانی یقینی بنائیں اور تکنیکی ترقی کو معاشرے کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات سے آگے نہ نکلنے دیں۔
پوپ کے تحفظات محض غلط معلومات کے پھیلاؤ یا ملازمتوں کے خاتمے کے امکانات تک محدود نہیں ہیں۔
وہ خصوصاً اس خدشے پر توجہ دیتے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مسلح تنازعات میں شدت پیدا کر سکتی ہے، انسان کی خودمختار فیصلہ سازی کو کمزور کر سکتی ہے اور ایسے ہتھیاروں کی تیاری ممکن بنا سکتی ہے جن پر انسانی نگرانی مسلسل کم ہوتی جائے۔
فوجی ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ہتھیاروں پر انسانی کنٹرول کا سوال ویٹیکن کے مؤقف کا اہم حصہ بن گیا ہے۔
پوپ لیو ایسے ہتھیاروں کی تیاری سے خبردار کر چکے ہیں جو محدود انسانی مداخلت کے ساتھ فیصلے کرنے یا کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طرح مصنوعی ذہانت کی نگرانی کا معاملہ خودکار ہتھیاروں اور مستقبل کی جنگوں سے متعلق وسیع تر بحث سے جڑ گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت پر ویٹیکن کی توجہ پوپ لیو سے پہلے بھی موجود تھی
مصنوعی ذہانت سے متعلق ویٹیکن کی سرگرمیاں پوپ لیو کے انتخاب سے پہلے شروع ہو چکی تھیں۔
سنہ 2019 میں ویٹیکن نے اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ سماجی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کانفرنسیں منعقد کی تھیں۔ بعد ازاں پوپ فرانسس نے خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غلط معلومات سنگین بین الاقوامی تنازعات کا سبب بن سکتی ہیں۔
ویٹیکن نے مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت اور اطالوی حکومت سمیت مختلف اداروں کے ساتھ ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے اصول مرتب کرنے کے لیے بھی تعاون کیا۔
ان کوششوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کا مقصد محض تجارتی منافع بڑھانا یا انسانی محنت کی جگہ مشینوں کو متعارف کرانا نہیں بلکہ معاشرے کو فائدہ پہنچانا ہونا چاہیے۔
پوپ لیو نے مصنوعی ذہانت کی عالمی نگرانی کو اپنی پاپائیت کے نمایاں موضوعات میں شامل کرکے اس ایجنڈے کو مزید وسعت دی ہے۔
مئی میں جاری ہونے والی اپنی پہلی اہم دستاویز میں انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت غلط معلومات کے پھیلاؤ، تنازعات میں اضافے اور تشدد کے تسلسل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ٹیکنالوجی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف انفرادی حکومتوں پر چھوڑنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر مربوط قوانین وضع کیے جائیں۔
ویٹیکن کا مشترکہ بین الاقوامی قوانین کا مطالبہ
ویٹیکن کے اعلیٰ سفارت کار کارڈینل پیٹرو پیرولین بھی مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو مختلف ممالک انفرادی طور پر مؤثر انداز میں منظم نہیں کر سکتے۔
ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی عالمی رسائی کے باعث حکومتوں اور کثیر ملکی اداروں کو مشترکہ معیارات اور مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
ویٹیکن ان تحفظات کو وسیع تر سفارتی مباحثوں کا حصہ بنانے کے لیے بھی سرگرم ہے۔
پوپ لیو ستمبر میں فرانس کے دورے کے دوران پیرس میں یونیسکو سے خطاب کرنے والے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت، انسانی وقار اور بین الاقوامی تعاون اہم موضوعات میں شامل ہونے کی توقع ہے۔
یونیسکو نے اس دورے کو تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب انسانی حقوق اور انفرادی خودمختاری کے تحفظ کے لیے موجودہ انتظامات کی مؤثریت پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔
ویٹیکن ٹیکنالوجی کی صنعت اور سول سوسائٹی کے ساتھ روابط بھی مضبوط کر رہا ہے۔
ستمبر میں امریکی کیتھولک بشپوں کی کانفرنس نے چرچ کے رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے درمیان ملاقاتوں کے بعد مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا۔
انسانی فیصلہ سازی کو بحث کا مرکزی نکتہ بنانے پر زور
پوپ لیو کے نزدیک بنیادی سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو قبول کیا جائے یا مسترد کر دیا جائے۔
ان کے بیانات کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ معاشرے کس طرح یقینی بنا سکتے ہیں کہ مسلسل طاقتور ہوتے مصنوعی ذہانت کے نظام انسانی فیصلوں کے تابع رہیں اور انسانی وقار سے مطابقت رکھیں۔
یہ مؤقف ویٹیکن کے ایجنڈے کو اس وسیع بین الاقوامی بحث سے جوڑتا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجیوں کی نگرانی کون کرے جو قومی سرحدوں سے بالاتر ہو کر کام کرتی ہیں اور جن کی ترقی کی رفتار ضابطہ ساز اداروں کی صلاحیت سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا تقابل اس چیلنج کو مزید واضح کرتا ہے۔
پاؤلو بینانتی کے مطابق جوہری ہتھیار مادی اشیا ہیں جن کی، کم از کم اصولی طور پر، نشاندہی، گنتی اور نگرانی ممکن ہے۔ اس کے برعکس مصنوعی ذہانت کے نظام کم نمایاں ہوتے ہیں اور ڈیجیٹل ذرائع سے معاشروں میں تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔
اسی لیے ویٹیکن کے تحفظات مصنوعی ذہانت کے انفرادی استعمال سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔
اس کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ معلومات میں ردوبدل، انسانی رویوں پر اثرانداز ہونے، فوجی کارروائیوں میں معاونت اور محدود انسانی نگرانی کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجیاں بتدریج معاشروں کی انہیں قابو میں رکھنے کی صلاحیت کمزور کر سکتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی نگرانی پوپ لیو کی پاپائیت کا اہم سوال بن گئی
مصنوعی ذہانت پوپ لیو چہاردہم کے لیے محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی حکمرانی، انسانی خودمختاری، امن اور انسان و خودکار نظاموں کے مستقبل کے تعلق کا سوال بن چکی ہے۔
جب حکومتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار اور سمت پر بحث کر رہی ہیں، ویٹیکن اس کے استعمال کی رہنمائی کرنے والے اصولوں کو گفتگو کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔
پوپ کے نزدیک اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں کیا کچھ کرنے کے قابل ہو جائے گی، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا انسانیت یہ فیصلہ کرنے کا اختیار اپنے پاس برقرار رکھ سکے گی کہ اسے کیا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔









