نوید حسین
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(3) کے مطابق، انتظامیہ (ایگزیکٹو) اور عدلیہ ریاست کے دو الگ اور خودمختار ستون ہیں۔ ان کی علیحدگی اس لیے ضروری ہے تاکہ طاقت میں توازن، شفافیت اور جواب دہی قائم رہے۔ تاہم، حالیہ کوششیں جن کے تحت ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی بات کی جا رہی ہے، اس بنیادی آئینی اصول کے خلاف ہیں۔ یہ تجویز صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ساختی الٹ پلٹ ہے جو عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور اور بیوروکریسی کے اختیارات کو غیر متناسب طور پر بڑھا سکتی ہے۔
تاریخی طور پر ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام نوآبادیاتی دور کی حکومت کی علامت تھا۔ ڈپٹی کمشنر، جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے طور پر کام کرتا تھا، انتظامیہ، پولیس اور مقامی انصاف پر مکمل اختیار رکھتا تھا۔ اس طاقت کے ارتکاز نے ضلع کی سطح پر دیگر اداروں کو ثانوی حیثیت تک محدود کر دیا تھا۔ یہ نظام عوامی خدمت سے زیادہ کنٹرول، اور شفافیت سے زیادہ اختیار کو ترجیح دیتا تھا۔ بظاہر یہ انتظامی سہولت فراہم کرتا تھا لیکن اس کے بدلے انصاف، شفافیت اور آئینی توازن قربان ہو جاتا تھا۔
موجودہ حالات میں اس نظام کو بحال کرنے کی کوشش بنیادی طور پر وفاقی بیوروکریسی — بالخصوص پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس — کی جانب سے کی جا رہی ہے، جو پہلے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کہلاتی تھی۔ اس تجویز کا مقصد پولیس، عدلیہ اور صوبائی سروسز پر پرانے اختیارات دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ یہ عمل صوبائی خودمختاری اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (ڈی سینٹرلائزیشن) کے اس عمل کو پلٹ سکتا ہے جو 18ویں ترمیم کے ذریعے حاصل ہوا تھا۔
اگر ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام بحال کیا گیا تو عدالتی اور انتظامی اختیارات کی آئینی حدود دھندلا جائیں گی۔ کیا ایک ایگزیکٹو مجسٹریٹ کو سزا دینے کا اختیار حاصل ہوگا؟ اگر ہاں، تو اپیل کہاں سنی جائے گی — عدالتی افسر کے سامنے یا کسی دوسرے بیوروکریٹ کے سامنے؟ ایسے ابہام عدالتی نظام میں غیر یقینی پیدا کریں گے اور طاقت کی علیحدگی کے اصول کو مجروح کریں گے جو جمہوری حکمرانی کی بنیاد ہے۔
انتظامی اور عدالتی اختیارات کو ایک جگہ جمع کرنا غیر جانبدار انصاف کے تصور کو کمزور کر دے گا۔ اگر پولیس مقدمہ درج کرے اور فیصلہ اسی انتظامی ڈھانچے کے تحت ہو تو انصاف انتظامی حکم میں بدل جائے گا۔ شہریوں کا منصفانہ مقدمے کا حق متاثر ہوگا اور قانون کی حکمرانی کی جگہ دفتر کی حکمرانی لے لے گی۔ یہی وہ صورتِ حال تھی جسے آئین سازوں نے آرٹیکل 175 میں عدلیہ کی خودمختاری کو یقینی بنا کر روکنے کی کوشش کی تھی۔
اس نظام کے حامی عموماً اسے “امنِ عامہ” اور “بہتر نظم و نسق” کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہ دلیل گمراہ کن ہے۔ اصل مقصد بیوروکریسی کی اس برتری کو دوبارہ قائم کرنا ہے جو 2001 کی مقامی حکومت اصلاحات کے بعد محدود ہو گئی تھی۔ ان اصلاحات نے اختیارات کو عوامی نمائندوں تک پہنچایا تھا، اور اب مجسٹریسی اختیارات کی بحالی ان جمہوری کامیابیوں کو ختم کر سکتی ہے۔
یہ اقدام پاکستان کے وفاقی نظام کے لیے سنگین مضمرات رکھتا ہے۔ ایک وفاقی جمہوریت میں طاقت عوام سے اوپر کی طرف بہتی ہے، نہ کہ بیوروکریسی سے نیچے کی طرف۔ ایگزیکٹو مجسٹریسی کا احیاء نوآبادیاتی طرزِ حکومت کو واپس لائے گا جہاں عوام کو شہری نہیں بلکہ رعایا سمجھا جاتا تھا۔ ایسا نظام مقامی نمائندوں کو بے اختیار اور صوبائی اداروں کو غیر مؤثر بنا دے گا، جو وفاقیت کی روح کے خلاف ہے۔
18ویں ترمیم نے وفاقی و صوبائی اختیارات میں توازن قائم کیا اور مرکز کے غلبے کو کم کیا۔ اس ترمیم کے بعد کسی بھی ایسی کوشش جو بیوروکریٹک اختیارات کو دوبارہ مرکزی بنائے، آئینی وژن سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس سے ادارہ جاتی کشمکش پیدا ہوگی اور صوبائی حکومتیں عدالتی اداروں سمیت وفاقی افسران کے ماتحت آ جائیں گی۔
عملی طور پر ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام ایک ایسا ڈھانچہ پیدا کرے گا جہاں فیصلے عوامی شمولیت کے بجائے حکم کے ذریعے ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر دوبارہ انتظامیہ، پولیس، ضلعی کونسل اور صوبائی دفاتر پر حاوی ہو جائے گا۔ اس طرح جمہوری نمائندوں کا کردار کم ہو گا اور مقامی خود مختاری مزید محدود ہو گی۔
پاکستان کی آئینی تاریخ کا مقصد یہی رہا ہے کہ ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں۔ عدلیہ آزاد، انتظامیہ جواب دہ اور مقننہ خود مختار ہو۔ ایگزیکٹو مجسٹریسی کی بحالی اس توازن کو بگاڑ دے گی اور انتظامی افسران کو عدالتی اختیارات دے کر انہیں جج، جیوری اور نفاذ کنندہ تینوں بنا دے گی۔
پاکستان کو ماضی کے نوآبادیاتی ڈھانچوں کی طرف لوٹنے کے بجائے شفافیت اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو مضبوط کرنا چاہیے۔ جنرل مشرف کے دور میں متعارف کرایا گیا مقامی حکومت کا ماڈل اپنی خامیوں کے باوجود عوامی شرکت کی ایک مثبت مثال تھا۔ اس ماڈل کو بہتر بنانا اور بیوروکریسی کے غلبے کے بجائے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ملک کے لیے زیادہ مفید راستہ ہے۔
اچھا نظم و نسق کنٹرول سے نہیں بلکہ خدمت سے آتا ہے۔ وہی نظام پائیدار ہوتا ہے جہاں شہری انصاف حاصل کر سکیں، افسران جواب دہ ہوں اور قانون بالاتر ہو۔ ایگزیکٹو مجسٹریسی کا احیاء ان جمہوری ضمانتوں کو کمزور کرے گا اور انصاف و نمائندگی دونوں کو نقصان پہنچائے گا۔
آخرکار، پاکستان کی آئینی جمہوریت اسی وقت مستحکم رہ سکتی ہے جب اختیارات کی علیحدگی کو برقرار رکھا جائے۔ ایگزیکٹو مجسٹریسی کی بحالی محض ایک پالیسی تبدیلی نہیں بلکہ آئینی اصولوں سے انحراف ہوگا۔ حقیقی اصلاحات وہی ہوں گی جو عوام کو بااختیار بنائیں، عدلیہ کی خودمختاری کا تحفظ کریں اور ریاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ ان پر حکمرانی کا۔













