مشرق وسطیٰ کی جنگ اور تیل کا بحران — عالمی معیشت ایک نئے امتحان کے دہانے پر

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ نے عالمی توانائی منڈی کو شدید ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر کے روز ابتدائی تجارت میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً بیس فیصد اضافہ ہوا اور نرخ دو ہزار بائیس کے بعد بلند ترین سطح تک جا پہنچے۔ اس اچانک اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ کے بعض بڑے پیداواری ممالک کی جانب سے رسد میں کمی اور آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ اندازہ یہ ہے کہ ایران کے گرد پھیلنے والا یہ تنازع طویل نہیں ہوگا، تاہم اس کے لمبے عرصے تک جاری رہنے کا خطرہ بھی واضح ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو سب سے زیادہ معاشی دباؤ خلیجی ممالک اور ان ریاستوں پر پڑے گا جو توانائی درآمد کرتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک اس حوالے سے خاص طور پر حساس ہیں کیونکہ ان کی توانائی کی بڑی ضروریات آبنائے ہرمز کے راستے پوری ہوتی ہیں۔

اسی طرح مصر اور ترکی جیسے ممالک بھی خطرے کی زد میں ہیں جہاں توانائی کی درآمدات کا بوجھ پہلے ہی زیادہ ہے اور معاشی توازن نازک حالت میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اچانک رسد میں کمی صرف قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی رسد کے نظام، صنعتوں کے منافع اور عام صارفین کی زندگیوں پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔

دوسری جانب اگر تیل پیدا کرنے والے ممالک ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے کے باعث پیداوار مزید کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں خلل ایک سے دو ہفتے مزید جاری رہا تو تیل کی قیمت ایک سو تیس سے ایک سو پچاس ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ صورت حال عالمی معیشت کے لیے دوہرے خطرے کا اشارہ ہے۔ ایک طرف مہنگائی میں تیز اضافہ ہوگا اور دوسری طرف معاشی ترقی سست پڑ سکتی ہے۔ معاشی اصطلاح میں اسے جمود اور مہنگائی کا امتزاج کہا جاتا ہے جو کسی بھی عالمی معیشت کے لیے نہایت خطرناک مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اسی ممکنہ بحران کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos