طارق محمود اعوان
میری کتاب ’’دی بیوروکریٹک کو‘‘ سے ایک اقتباس اور اس کا چکوال واقعے سے تعلق
میں ایک تحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات تھا کہ میرے علاقے میں ایک نئے ایس ایچ او کا تبادلہ ہوا۔ وہ ایک تجربہ کار، ذہین اور متحرک افسر تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک کشش تھی جو گفتگو کو آسان بنا دیتی تھی۔ سرکاری معاملات کے سلسلے میں ان کی میرے دفتر آمد و رفت رہتی تھی اور وقت کے ساتھ ہمارا تعلق محض دفتری حدود سے آگے بڑھ گیا۔ ہم حکمرانی، معاشرے اور مختلف سماجی موضوعات پر بات کرتے تھے، جن کا فائلوں اور احکامات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔
ایک دوپہر وہ میرے دفتر آئے تو میں نے محسوس کیا کہ ان کی حالت معمول سے مختلف ہے۔ وہ غیر معمولی بے چینی کا شکار تھے۔ بار بار اپنی ہتھیلی مسل رہے تھے اور چہرے پر ایک ایسی اندرونی پریشانی نمایاں تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل مگر محسوس کرنا آسان تھا۔ یہ ان کی عام طبیعت کے برعکس تھا۔ میں نے ان سے براہِ راست پوچھا کہ کیا بات ہے۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا جو آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملازمت کے ابتدائی برسوں میں وہ بار بار ایسے مجرموں کو آزاد ہوتے دیکھتے رہے جن کے خلاف مقدمات درج ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں اور شواہد بھی اکٹھے کیے گئے، لیکن پولیس تھانے سے عدالت تک پہنچتے پہنچتے پورا مقدمہ بکھر جاتا تھا۔ انہوں نے بیواؤں کو انصاف کے لیے ترستے دیکھا، بچوں کو اپنے باپوں سے محروم ہوتے دیکھا اور کمزور لوگوں کو طاقتور افراد کے ہاتھوں پِستا ہوا دیکھا۔ رفتہ رفتہ ان کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ رسمی قانونی نظام ہر شخص کو بروقت انصاف فراہم نہیں کر سکتا۔
پھر ان کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے وہ فیصلہ کن موڑ قرار دیتے تھے۔
ایک دیہی علاقے سے ایک کم عمر بچی لاپتہ ہو گئی۔ انہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، خاندان اور گاؤں والوں سے بات کی، لیکن انہیں محسوس ہوا کہ پوری حقیقت سامنے نہیں آ رہی۔ ان کا شک ایک قریبی رشتہ دار پر گیا۔ دوبارہ پوچھ گچھ کے دوران شدید دباؤ میں اس شخص نے اعتراف کر لیا کہ اس نے بچی کو قتل کیا ہے اور لاش ایک مخصوص جگہ پر چھپا رکھی ہے۔
جب ایس ایچ او اس مقام پر پہنچے اور بچی کی لاش دیکھی تو ان کے بقول ان کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ انہوں نے یہی الفاظ استعمال نہیں کیے، مگر مفہوم یہی تھا۔ اس لمحے وہ اپنے پیشہ ورانہ کردار اور انسانی غصے کے درمیان حد قائم نہ رکھ سکے۔ بعد ازاں ملزم ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ اس وقت ایس ایچ او کو لگا کہ انہوں نے انصاف فراہم کر دیا ہے، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ اس واقعے نے ان کی شخصیت میں ایک مستقل تبدیلی پیدا کر دی ہے، اور یہ تبدیلی مثبت نہیں تھی۔
انہوں نے مجھ سے کہا:
“سر، مسئلہ یہ نہیں کہ ایک واقعہ پیش آیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس واقعے نے میرے اندر کیا تبدیلی پیدا کی۔ آہستہ آہستہ مجھے یقین ہونے لگا کہ زیادہ سے زیادہ طاقت کا استعمال ہی انصاف کا مؤثر راستہ ہے۔ جب بھی اس نوعیت کا کوئی آپریشن ہوتا، مجھے بلایا جاتا۔ وقت کے ساتھ یہ پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں رہی بلکہ ایک نفسیاتی عادت بن گئی۔”
پھر انہوں نے ایک ایسی بات کہی جو آج تک میرے ذہن میں گونجتی ہے:
“اگر میں طویل عرصے تک ایسے کسی آپریشن کا حصہ نہ بنوں تو مجھے بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے کچھ ادھورا رہ گیا ہو۔”
یہ ایک غیر معمولی جملہ تھا۔ ایک ایسا شخص جو قانون کی پاسداری کے لیے تربیت یافتہ تھا، وہ اعتراف کر رہا تھا کہ ماورائے عدالت کارروائیوں سے دوری اسے اندرونی اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ عادت ضرورت میں تبدیل ہو چکی تھی۔
نفسیات کا ایک معروف اصول ہے کہ بار بار دہرایا جانے والا عمل عادت بن جاتا ہے اور گہری عادت بالآخر کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔ جب کوئی رویہ مسلسل دہرایا جائے تو انسان اس کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر غور کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اسے معمول کا عمل سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اختیار اور تشدد ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں اور قانون کا محافظ آہستہ آہستہ قانون سے بالاتر طاقت کا نمائندہ بن جاتا ہے۔
اس گفتگو کے بعد میرے ذہن میں ایک سوال مسلسل گردش کرتا رہا: اصل مسئلہ فرد ہے یا وہ ادارہ جس نے اسے اس شکل میں ڈھالا؟ یہ ایس ایچ او ملازمت میں شامل ہوتے وقت ظالم یا سنگدل شخص نہیں تھا۔ وہ خود ناانصافی سے پریشان ایک انسان تھا۔ مگر نظام نے اس پریشانی کو درست سمت دینے کے بجائے اسے ایک مخصوص راستے پر ڈال دیا۔ بعض رویوں کو انعام ملا، بعض ذمہ داریاں بار بار اسی کے سپرد کی گئیں اور بالآخر ایک ایسا افسر وجود میں آیا جو اسی عمل کا عادی ہو گیا جس نے ابتدا میں اس کے ضمیر کو جھنجھوڑا تھا۔
یہی کچھ اس وقت ہوتا ہے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسانی بنیادوں پر منظم نہیں کیا جاتا۔ سرکاری ملازمین بھی انسان ہوتے ہیں۔ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، نفسیاتی رجحانات پیدا کرتے ہیں اور ادارہ جاتی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب ادارے ان کی ذہنی صحت پر توجہ نہیں دیتے، نفسیاتی معاونت فراہم نہیں کرتے اور نقصان دہ رویوں کو بروقت نہیں روکتے تو اس کے نتائج ایک دن عوام کے سامنے آتے ہیں۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ جیسے اداروں میں کام کرنے والے اہلکاروں کی ذہنی صحت پر سنجیدہ اور مسلسل توجہ دینا ناگزیر ہے۔ یہ کسی نرمی یا رعایت کا معاملہ نہیں بلکہ مؤثر اور قانونی حکمرانی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اداروں کو انسانی اقدار کے مطابق تشکیل دینا ایک مہذب آئینی ریاست اور محض طاقت کے استعمال پر مبنی ریاست کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔
چکوال کا افسوسناک واقعہ، جس میں ایک نجی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور ایک نو سالہ بچی جان سے گئی، ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ پولیس کو حاصل غیر محدود اختیارات اور جوابدہی کے فقدان کی قیمت کتنی بھاری ہو سکتی ہے۔ ہانیہ احمد اپنے والدین اور بھائی کے ساتھ سفر کر رہی تھی جب اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو مبینہ طور پر ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ سے وہ جاں بحق ہو گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔
جب پولیس مقابلے ایک عادت بن جائیں تو انہیں انجام دینے والوں کے اندر احساسِ جرم بھی کم ہوتا جاتا ہے۔ ادب اور تاریخ میں ریاستی طاقت کے ذریعے بے گناہوں کے قتل کو بیان کرنے کے لیے مختلف اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق بعض تنازعات میں مسلسل عدمِ جوابدہی نے طاقت کے استعمال کو اتنا معمول بنا دیا ہے کہ بے گناہ جانوں کے ضیاع پر حساسیت کم ہو جاتی ہے۔ یہی عادت کا اثر ہے۔ جب احتساب نہ ہو تو تشدد ایک معمولی عمل بن جاتا ہے۔
پاکستان کو اپنی سول قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو زیادہ انسانی اور جوابدہ بنانا ہوگا۔ پولیس اہلکاروں کی ذہنی صحت کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے اور ضروری اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں۔ چکوال کا واقعہ ایک واضح تنبیہ ہے۔ پاکستان کو ایک قانونی ریاست کی ضرورت ہے، محض ایک سخت ریاست کی نہیں۔
The best selling books of Republic Policy Think Tank including the land mark book, The Bureaucratic Coup are available at Vanguard Books, Liberty Books, Readings, Kitab Sarae, Sang e Meel, Saeed Book Stores, and others across Pakistan. Contact for home delivery. 0300 9552542









