تھانے میں مبینہ زیادتی: اختیار، نگرانی اور انصاف کا امتحان

[post-views]
[post-views]

Barrister Qazi Naveed Ahmed

لاہور کے غازی آباد تھانے میں ذہنی طور پر معذور ایک نوجوان خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ ریاستی اختیار کے بے قابو استعمال کے انتہائی خطرناک نتائج کو سامنے لاتا ہے۔ اس معاملے میں قانونی تحقیقات کو مکمل غیر جانب داری کے ساتھ آگے بڑھنے دینا ضروری ہے اور ملزم کو قانون کے مطابق صفائی پیش کرنے اور اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ تاہم اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض ایک فرد کے جرم کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ پولیس کے نظام، نگرانی کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی احتساب کی سنگین ناکامی بھی قرار پائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اپنے ہی احاطے میں ایسا جرم ہونا پولیس کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کے لیے کسی بھی عام جرم سے کہیں زیادہ تباہ کن اثرات رکھتا ہے۔

پولیس اسٹیشن وہ مقام ہے جہاں عام شہری اپنے تحفظ، انصاف اور قانونی مدد کے لیے ریاست سے رجوع کرتا ہے۔ اگر یہی جگہ خوف اور بے بسی کی علامت بن جائے تو قانون کی حکمرانی کا بنیادی تصور متاثر ہوتا ہے۔ غازی آباد تھانے کا واقعہ اسی بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر ایک شہری پولیس کی تحویل یا نگرانی میں بھی محفوظ نہیں تو پھر ریاستی تحفظ کے دعوے کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ پولیس کی وردی صرف اختیار کی علامت نہیں بلکہ ذمہ داری، اعتماد اور عوامی خدمت کی علامت بھی ہونی چاہیے۔

پنجاب پولیس کی جانب سے تھانے کے پورے عملے کو معطل کرنا اس واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ کسی اہلکار نے یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ خاتون کو تھانے میں کیوں لایا گیا، جبکہ وہاں کوئی خاتون اہلکار موجود نہیں تھی، اور مقررہ طریقہ کار پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ یہ سوال دراصل ایک بڑے ادارہ جاتی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر کسی تھانے میں اہلکار غیر معمولی صورت حال دیکھ کر سوال اٹھانے، مداخلت کرنے یا اپنے افسران کو اطلاع دینے کی ذمہ داری محسوس نہ کریں تو وہاں نگرانی کا پورا نظام کمزور ہو چکا ہے۔

تاہم پورے عملے کی معطلی کو انفرادی مجرمانہ ذمہ داری کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کسی شخص نے جرم کیا ہے تو اس کی ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہوگی اور اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جانا ضروری ہے کہ جرم کے لیے سازگار حالات کیسے پیدا ہوئے، کس نے غفلت برتی، کس سطح پر نگرانی ناکام ہوئی اور کیا کسی اہلکار نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے دانستہ یا غیر دانستہ گریز کیا۔ ادارہ جاتی ناکامیاں عموماً ایک ہی لمحے میں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ مسلسل غفلت، کمزور نگرانی اور جواب دہی کے فقدان سے جنم لیتی ہیں۔

اس واقعے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو مبینہ متاثرہ خاتون کی کمزوری اور بے بسی ہے۔ ذہنی طور پر معذور افراد ریاستی تحفظ کے سب سے زیادہ مستحق ہوتے ہیں کیونکہ وہ کئی معاملات میں اپنے حقوق کا دفاع خود نہیں کر سکتے۔ ریاست کی ذمہ داری ایسے افراد کے لیے مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر واقعی کسی ایسے شخص نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا جو قانون نافذ کرنے کا ذمہ دار تھا تو یہ اختیار کا نہایت سنگین غلط استعمال ہوگا۔ قانون کی حفاظت کرنے والے فرد کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ریاستی اداروں کے لیے ایک گہرا اخلاقی اور انتظامی بحران پیدا کرتی ہے۔

مقدمے کا فوری اندراج، مبینہ ملزم اہلکار کی گرفتاری، پراسیکیوٹر جنرل کی مداخلت اور تحقیقات کی عدالتی نگرانی ایسے اقدامات ہیں جو درست سمت میں اہم پیش رفت ہیں۔ تاہم عوام کا اعتماد صرف ابتدائی کارروائیوں سے بحال نہیں ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ تحقیقات کس حد تک غیر جانب دار رہتی ہیں، شواہد کو کس طرح محفوظ کیا جاتا ہے، استغاثہ کتنی پیشہ ورانہ تیاری کے ساتھ مقدمہ لڑتا ہے اور عدالت کے سامنے تمام حقائق شفاف انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں ماضی میں ایسے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں ابتدائی عوامی غم و غصے کے بعد مقدمات کی رفتار سست پڑ گئی، تحقیقات کمزور ہوئیں یا انصاف غیر معمولی تاخیر کا شکار ہوا۔ غازی آباد کا واقعہ بھی اس روایتی راستے پر نہیں جانا چاہیے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو سزا ایسی ہونی چاہیے جو نہ صرف متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کرے بلکہ پولیس کے اندر یہ واضح پیغام بھی دے کہ وردی کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی۔

یہ واقعہ پاکستان میں پولیسنگ کے مجموعی معیار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ پولیس اسٹیشن ایسے بند اور غیر شفاف مقامات نہیں ہونے چاہییں جہاں نگرانی کا نظام کمزور اور احتساب صرف کسی بڑے واقعے کے بعد حرکت میں آئے۔ خواتین سے متعلق موجودہ ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد، خاتون اہلکاروں کی دستیابی، نگرانی کے مؤثر نظام، آنے جانے والوں کے درست اندراج، حوالات اور دیگر حساس مقامات کی نگرانی اور افسران کی باقاعدہ جانچ کسی دفتری کارروائی کا نام نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی تحفظ کی ضمانت ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر تھانے میں ایسے واضح نظام موجود ہوں جن کے ذریعے غیر معمولی حالات کی فوری نشاندہی ہو سکے۔ اہلکاروں کو یہ اعتماد بھی حاصل ہونا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ساتھی کی غلطی یا غیر قانونی اقدام کی نشاندہی کریں گے تو انہیں انتقامی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اعلیٰ افسران کی ذمہ داری صرف کسی واقعے کے بعد کارروائی کرنا نہیں بلکہ روزمرہ بنیادوں پر نگرانی، تربیت اور احتساب کو یقینی بنانا بھی ہے۔

آخرکار اس معاملے کا حل صرف ایک ملزم کو سزا دلوانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ پولیس کے پورے نظام میں ایسی اصلاحات بھی ضروری ہیں جو نگرانی کو مؤثر، پیشہ ورانہ معیار کو مضبوط اور جواب دہی کو مستقل بنائیں۔ ریاستی اختیار کا اصل مقصد شہری کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ اسے تحفظ دینا ہے۔ پولیس اسٹیشن عوام کے لیے انصاف اور امان کی جگہ ہونے چاہییں، خوف اور بے بسی کی نہیں۔ غازی آباد کا واقعہ اگر ادارہ جاتی اصلاحات کا سبب بنتا ہے تو ایک المناک واقعے سے کم از کم یہ سبق ضرور حاصل کیا جا سکتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]