ایف۔ گریگوری گاؤز سوم
ہر جنگ کے دوران اسے تاریخی قرار دینے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ اور بیشتر پیمانوں پر امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ اس عنوان کی مستحق بھی دکھائی دیتی ہے۔ پہلی مرتبہ ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کی سرزمین پر براہِ راست حملے کیے اور کئی دہائیوں سے جاری بالواسطہ جنگ، پراکسی گروہوں اور خفیہ کارروائیوں کی حدیں عبور کر دیں۔ واشنگٹن اور تل ابیب نے تہران کے خلاف ایک ایسے انداز میں مل کر کارروائی کی جس کی کوئی حقیقی نظیر موجود نہیں۔ ایران نے ایک ایسے رہبر کو کھو دیا جس نے 36 برس تک حکمرانی کی، جبکہ اس کے گرد تعمیر کیا گیا دفاعی نظام بھی شدید متاثر ہوا۔ خلیجی ریاستوں نے، جو طویل عرصے سے علاقائی تنازعات کے براہِ راست نقصانات سے کسی حد تک محفوظ رہی تھیں، اپنے ہوائی اڈوں، توانائی کے مراکز اور ہوٹلوں کو حملوں کی زد میں آتے دیکھا۔ لبنان ایک بار پھر ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا جس کا اس نے انتخاب نہیں کیا تھا۔
روایتی پیمانوں سے دیکھا جائے تو یہ سب ایک بڑی تبدیلی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بنیادی طور پر کچھ تبدیل ہوا ہے؟
جنگیں اکثر ایسا منظرنامہ پیدا کرتی ہیں جس میں ظاہری ہلچل، حقیقی تبدیلی سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔ کسی اعلیٰ ترین رہبر کا قتل بلاشبہ ایک زلزلہ خیز واقعہ ہے۔ لیکن ایران کا نظام کبھی ایک فرد کی ناقابلِ تلافی اہمیت پر قائم نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے پر قائم تھا جس میں رہبرِ اعلیٰ کا منصب، اسلامی انقلابی گارڈ، مجلسِ خبرگان اور ایسا سلامتی کا نظام شامل ہے جسے اسی مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا کہ وہ بڑے سے بڑے دھچکے کے بعد بھی قائم رہ سکے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی فوری جانشینی، اگرچہ پسِ پردہ اس پر اختلافات موجود رہے ہوں، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نظام نے وہی کیا جس کے لیے اسے بنایا گیا تھا: نقصان برداشت کیا اور اپنا کام جاری رکھا۔ حکومت زخمی ضرور ہوئی ہے، ختم نہیں ہوئی۔
خلیجی ریاستوں کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی کہا جا سکتا ہے۔ ان کا اچانک براہِ راست حملوں کی زد میں آ جانا ایک حقیقی اور تکلیف دہ تبدیلی ہے، لیکن یہ پوچھنا ضروری ہے کہ خطے کے بنیادی ڈھانچے میں، محض تشدد کے ظاہری پھیلاؤ کے بجائے، حقیقتاً کیا تبدیل ہوا ہے۔ کئی برسوں سے خلیجی بادشاہتیں اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے ساتھ ساتھ خاموشی سے اپنی سلامتی کے متبادل راستے بھی تلاش کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی، لیکن ساتھ ہی چین سے تعلقات بڑھائے، روس کے ساتھ روابط مضبوط کیے اور حالیہ برسوں میں ایسے دفاعی انتظامات پر بھی غور کیا جو مکمل طور پر واشنگٹن کی مرضی پر منحصر نہ ہوں۔
جلتے ہوئے ہوائی اڈے اور تباہ شدہ ہوٹل اس حکمت عملی کی ناکامی کا ثبوت نہیں بلکہ شاید اس کے وجود کی سب سے واضح وجہ ہیں۔ یہ حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ امریکی تحفظ اپنے ساتھ امریکی وابستگیاں بھی لاتا ہے، اور جب جنگ شروع ہوتی ہے تو ان وابستگیوں کی ایک قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
یہی سوچ بظاہر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو بھی اپنے نئے دفاعی انتظام کی طرف لے جا رہی ہے، جس پر جنگ کے تعطل کی جانب بڑھنے کے دوران مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے۔ اس کے معمار اسے جو بھی نام دیں اور جتنی احتیاط سے یہ یقین دہانی کرائیں کہ یہ کسی محور یا گروہ کا قیام نہیں، اس کے وقت کو محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب خطے کا روایتی سلامتی فراہم کرنے والا ملک اپنے اتحادیوں کو ان نتائج سے محفوظ رکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے یا ایسا کرنے سے قاصر ہو جو اس کی فوجی موجودگی کی میزبانی کے باعث پیدا ہوتے ہیں، تو ایسے ممالک متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں، حتیٰ کہ ایک دوسرے کی طرف بھی دیکھنے لگتے ہیں۔
لبنان میں حزب اللہ کی دوبارہ جنگ میں الجھاؤ بھی تسلسل کی ایسی ہی کہانی بیان کرتا ہے جو بظاہر ایک نئی صورت میں سامنے آئی ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے لبنان اپنے غیر ریاستی عناصر کے ذریعے علاقائی تنازعات میں گھسیٹا جاتا رہا ہے۔ اس مرتبہ فرق نوعیت کا نہیں بلکہ پیمانے اور بیک وقت کئی محاذوں پر کشیدگی کا ہے۔ ملک کا کمزور ریاستی ڈھانچہ، فرقہ وارانہ توازن اور استحکام و عدم استحکام دونوں کے لیے بیرونی سرپرستوں پر انحصار بنیادی طور پر اب بھی وہی ہے۔ جنگ نے پرانی کمزوریوں کو مزید شدید کیا ہے؛ اس نے کوئی بالکل نئی کمزوری پیدا نہیں کی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست ایک دوسرے کی سرزمین کو نشانہ بنانا ایک ایسی حد کو ضرور کم کرتا ہے جسے کبھی ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا، اور ایک مرتبہ ایسی حد کم ہو جائے تو وہ شاذ ہی دوبارہ اپنی سابقہ سطح پر واپس آتی ہے۔ اس جنگ کی نفسیاتی اور تزویراتی مثال ممکنہ طور پر اس کے فوری جنگی نتائج سے کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہوگی۔
لیکن حقیقی معنوں میں تبدیلی کے لیے محض ڈرامائی مناظر کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے بنیادی ساخت میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے: اتحادوں میں، علاقائی طاقت کی تقسیم میں، اور ان تصورات میں جو ریاستیں اس بارے میں رکھتی ہیں کہ کون ان کی حفاظت کرے گا اور اس تحفظ کی قیمت کیا ہوگی۔
اس پیمانے پر دیکھا جائے تو اس جنگ سے ابھرنے والا منظرنامہ مشرقِ وسطیٰ کے پرانے نظام سے مکمل انقطاع کے بجائے پہلے سے جاری رجحانات میں تیزی کی طرف زیادہ اشارہ کرتا ہے۔ ایک ایسا خطہ جو اپنی حکمتِ عملی میں مزید احتیاط برت رہا ہے، دوسروں پر پہلے سے کم اعتماد کر رہا ہے اور اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن سے آگے بھی دیکھنے پر آمادہ ہو رہا ہے۔
شور غیر معمولی ضرور ہے، لیکن بنیادی علاقائی نظام واقعی تبدیل ہوا ہے یا نہیں، یہ سوال فی الحال کھلا ہے۔









