تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں تو تہران خود کو اس معاہدے کا پابند نہیں سمجھے گا۔ یہ بات ہفتے کے روز سرکاری ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں سامنے آئی۔
یہ معاہدہ پاکستان کی ثالثی سے طے پایا تھا۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے جمعہ کے روز نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے اسلام آباد مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزی کی تو ایران بھی اس مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند نہیں رہے گا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امیر سعید ایروانی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں تہران اپنے وعدوں پر نظرِ ثانی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ مفاہمت اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد وجود میں آئی تھی، تاہم گزشتہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب دونوں ممالک کے درمیان شدید فوجی کارروائیاں اور جوابی حملے ہوئے، جن سے اس سفارتی عمل کو خطرات لاحق ہو گئے جس کا مقصد جنگ کے مستقل اور پائیدار حل تک پہنچنا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ تنازع کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔
جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر سعید ایروانی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی حملے کر کے اپنی معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مفاہمتی یادداشت پر دیانت داری سے عمل درآمد کے لیے بدستور تیار ہے، لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب امریکہ بھی اپنے تمام وعدوں اور ذمہ داریوں پر مکمل اور مخلصانہ انداز میں عمل کرے۔








