بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

امریکا نے ایران پر مسلسل ساتویں شب بھی حملے جاری رکھے

[post-views]
[post-views]

امریکا نے جمعہ کی شب ایران پر مسلسل ساتویں رات بھی فضائی اور بحری حملے کیے۔ امریکی مرکزی عسکری قیادت کے مطابق تازہ کارروائیوں میں نگرانی کے مراکز، فوجی رسد کے ڈھانچے، زیرِ زمین اسلحہ گاہوں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں لڑاکا طیاروں، بغیر پائلٹ کے طیاروں اور جنگی بحری جہازوں کا استعمال کیا گیا۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو مسلسل کمزور کرنا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران نے بھی خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک پر حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

حملوں کا بدلتا ہوا رخ

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعہ کی شب سے ہفتہ کی صبح تک بندر عباس، آبنائے ہرمز میں واقع قشم اور لارک کے جزیروں پر حملے کیے گئے۔ بندر عباس کو اندرونِ ملک حاجی آباد سے ملانے والی شاہراہ پر واقع پلوں اور ایک سرنگ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اس کے علاوہ اہواز، داراب، یزد، امیدیہ اور بوشہر کے مختلف علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں بعض علاقے ساحل سے خاصے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایک تجزیہ کار کے مطابق پلوں، ریلوے کے سنگموں اور ساحلی شہروں کو اندرونِ ملک سے ملانے والی بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نشانہ بنانے کا انداز اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی حکمتِ عملی کے مختلف امکانات پر عمل کر رہا ہے۔

تہران کا انتباہ

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سینئر رہنما اور رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے عسکری مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران چند روز کے اندر مکمل جوابی عسکری کارروائی شروع کر دے گا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ اگر حملے مزید دو یا تین روز جاری رہے تو ایران مکمل جارحانہ مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

عرب ممالک کا سخت ردِعمل

امریکا کے اتحادی ممالک پر ایران کے حملوں کے بعد عرب دنیا میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

جمعرات کی شب سے جمعہ تک ایران نے عمان، اردن، کویت اور قطر کو نشانہ بنایا۔ قطر میں ایک حملے کو ناکام بنانے کے دوران گرنے والے دھاتی ٹکڑوں سے ایک بچہ زخمی ہو گیا۔

عراق میں ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ کے طیاروں کے حملے میں ایک ایرانی نژاد کرد مسلح گروہ کے نو افراد ہلاک ہوئے۔

قطر، جس نے ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ سنجیدہ مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ نے عراق میں حملے کو عراق اور عراقی کرد علاقے کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ اردن کے وزیرِ خارجہ نے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مزید کشیدگی سے خبردار کیا۔

کویت نے بھی بحرین، قطر اور اردن کے خلاف ایران کی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول جارحیت قرار دیا۔

انسانی بحران مزید گہرا

جن ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ ملک کے نسبتاً غریب اور نسلی اعتبار سے متنوع علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں مختلف نسلی برادریاں آباد ہیں اور یہ تہران جیسے فارسی اکثریتی شہروں سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ ایران کی توانائی کی صنعت اور اہم تجارتی بندرگاہوں کی موجودگی کے باوجود یہ علاقے طویل عرصے سے کم سرمایہ کاری اور بے روزگاری جیسے مسائل کا شکار رہے ہیں۔

اس تنازع کے اثرات ایران اور امریکا سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران کے حملے کے بعد لاپتا ہونے والے ایک بھارتی ملاح کی اس ہفتے موت کی تصدیق کر دی گئی۔ بھارتی ملاحوں کی نمائندہ تنظیم کے مطابق اس واقعے کے بعد بھارت نے جہاز مالکان کو ہدایت جاری کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر بھارتی ملاحوں کو تعینات نہ کیا جائے۔

بھارت دنیا میں بحری جہازوں کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں سے تین لاکھ سے زائد ملاح عالمی بحری بیڑوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]