بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

یورپی یونین نے پاکستان کو جی ایس پی پلس برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق اور طرزِ حکمرانی میں بہتری کی ہدایت کردی

[post-views]
[post-views]

یورپی یونین نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ 2027ء سے نافذ ہونے والے نظرثانی شدہ جی ایس پی پلس تجارتی نظام کے تحت ترجیحی تجارتی مراعات برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔

یورپی کمیشن کی جانب سے 2023ء سے 2025ء کے عرصے پر مشتمل تازہ ترین جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بعض شعبوں میں قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات ضرور کی ہیں، تاہم متعدد اہم معاملات میں پیش رفت محدود رہی جبکہ بعض شعبوں میں صورتحال پہلے سے بھی زیادہ تشویشناک ہوئی ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ 2027ء کے بعد جی ایس پی پلس کی مسلسل اہلیت کے لیے پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مؤثر احتساب، تشدد کے خاتمے، جیلوں اور سزائے موت کے نظام میں اصلاحات، جبری گمشدگیوں کو قابلِ سزا جرم قرار دینے، اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ، اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

یورپی کمیشن نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے کردار، قومی کمیشن برائے اقلیتوں کے قیام، سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی، انسدادِ تشدد قانون کے قواعد، اسلام آباد میں گھریلو تشدد کے قانون، اور ازدواجی زیادتی کے پہلے عدالتی فیصلے سمیت متعدد قانون سازی اقدامات کو مثبت قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ ان اصلاحات کے عملی نتائج ابھی تک نمایاں نہیں ہوئے۔

محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے جبری مشقت سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی توثیق اور لیبر انسپیکشن نظام کی توسیع کو سراہا گیا، لیکن کہا گیا کہ قوانین پر عمل درآمد کمزور ہے جبکہ جبری مشقت اور بچوں سے مشقت کا مسئلہ بدستور برقرار ہے۔

رپورٹ میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں، شہری آزادیوں میں کمی اور ذمہ دار افراد کے احتساب نہ ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ اس کے علاوہ سائبر جرائم، دہشت گردی، توہینِ مذہب اور دیگر قوانین میں کی گئی ترامیم پر بھی اعتراض کیا گیا، جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان کی مبہم دفعات صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی مخالفین، اقلیتوں اور شہریوں کے خلاف استعمال ہوسکتی ہیں۔

یورپی کمیشن نے حالیہ آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کی آزادی، 2024ء کے عام انتخابات کی شفافیت، سیاسی مخالفین کے خلاف عدالتی کارروائیوں، فوجی عدالتوں میں مقدمات، اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔

رپورٹ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک، خواتین اور بچوں پر تشدد، کم عمری کی شادیوں، بچوں سے مشقت، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں، اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد، اور افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل سے متعلق بھی تشویش ظاہر کی گئی۔

اس کے باوجود یورپی کمیشن نے سماجی تحفظ، تعلیمی اقدامات، جیل اصلاحات، خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام اور انسانی حقوق کے ادارہ جاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی بعض کوششوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

پاکستان اس وقت یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے، جس کے تحت یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کے بدلے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور اچھی حکمرانی سے متعلق 27 بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد لازمی ہے۔

یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں ملک کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 28 فیصد جاتا ہے۔ پاکستان کی یورپ کو برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ تقریباً 70 سے 76 فیصد ہے۔ 2024ء میں پاکستان نے یورپی یونین کو 8.3 ارب یورو کی برآمدات کیں، جبکہ جی ایس پی پلس کے تحت تقریباً 95 فیصد اہل برآمدات کو ترجیحی رعایتیں حاصل ہوئیں، جن سے پاکستان کو تقریباً 732 ملین یورو کے کسٹم ڈیوٹی فوائد حاصل ہوئے۔

نظرثانی شدہ جی ایس پی پلس نظام یکم جنوری 2027ء سے نافذ ہوگا، جس کے تحت تمام موجودہ مستفید ممالک، بشمول پاکستان، کو زیادہ سخت انسانی حقوق، پائیدار ترقی اور اچھی حکمرانی کے معیار پر دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]