بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

بنائے ہرمز کے بحران پر امریکہ اور ایران آمنے سامنے، خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی

[post-views]
[post-views]

امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی اتوار کے روز مزید بڑھ گئی جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف تازہ حملے کیے، جس کے نتیجے میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر تصادم کے خدشات شدت اختیار کر گئے۔ ایران نے اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور ایک تجارتی جہاز پر انتباہی فائرنگ کے بعد واضح کیا کہ یہ جہاز مقررہ راستے کے بجائے غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تہران نے خبردار کیا کہ اس اقدام کے خلاف کسی بھی جوابی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔

اس کے جواب میں امریکہ نے جنوبی ایران میں متعدد فوجی تنصیبات، ریڈار مراکز، میزائل اڈوں اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئیں۔

دوسری جانب ایران نے اردن، کویت، قطر اور عمان میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ خلیجی ممالک نے فضائی دفاعی نظام فعال کرتے ہوئے ہنگامی حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے۔ متعدد ممالک نے آنے والے میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی اطلاع دی، تاہم چند مقامات پر معمولی جانی اور مالی نقصان بھی رپورٹ ہوا۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، میں جاری بحران نے عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی کے بارے میں شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]